دہلی: تبلیغی جماعت مرکز کو لےکراوکھلا کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کے ٹوئٹ سےنیا تنازعہ

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے مسلم لیڈر اور دہلی کے اوکھلا اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی اور دہلی وقف بورڈ کے سابق چیئرمین امانت اللہ خان مسلسل دہلی پولیس اور انتظامیہ پرتبلیغی جماعت معاملے میں ہوئی کارروائی کو لےکر کئی طرح کے سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ انھوں نے اس سے قبل کئی الزامات عائد کئے ہیں۔ ایک بار پھر امانت اللہ خان نے دہلی پولیس اور انتظامیہ پر بڑا الزام عائد کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ہےکہ دہلی پولیس اور انتظامیہ نے تبلیغی جماعت معاملے میں غفلت برتی

امانت اللہ خان نے اپنے ٹویٹ میں ایک فوٹو ٹویٹ کیا ہے، جس میں واضح ہےکہ ایک نسیم نامی شخص کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) کی طرف سے 12 مارچ کو ہی نظام الدین مرکزکی عمارت کی تیسری منزل سےکوارنٹائن کیا گیا تھا۔امانت اللہ خان نے لاپرواہی اور غفلت کا الزام لگاتے ہوئےلکھا ہے، آخر 12 مارچ سے 29 مارچ تک دہلی پولس اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کیا کر رہے تھے؟

امانت اللہ خان نےاپنے ٹویٹ میں لکھا ’آج کورونا وائرس کی بیماری کے تقریباً ایک ہزار پوزیٹیو مریض مرکز سے تعلق رکھتے ہیں کیا یہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی لاپرواہی کا معاملہ نہیں ہے۔ غور طلب ہےکہ 29 مارچ کو تقریباً 2300 کرونا کے مشتبہ افرادکو نظام الدین مرکزکی عمارت سے نکالا گیا تھا، جن میں سے ایک بڑی تعداد کورونا پوزیٹیو پائی گئی ہے، لیکن سوال یہ ہے 12 مارچ سے 29 مارچ تک کا وقت انتظامیہ نے یونہی گنوا دیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading