نئی دہلی: مرکزی حکومت کے ملازمین 8ویں پے کمیشن کی سفارشات کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ ملازمین کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے سمیت کئی مطالبات کمیشن کے سامنے پیش کیے گئے ہیں۔ کمیشن کے ارکان مختلف بڑے شہروں میں اجلاس منعقد کر رہے ہیں، جہاں مختلف محکموں کی ملازم تنظیموں کے نمائندوں اور پنشن یافتگان کی جانب سے اپنے مطالبات پیش کیے جا رہے ہیں۔ اب ان مطالبات میں سے کتنے منظور ہوتے ہیں، اس کا فیصلہ کمیشن کی سفارشات سامنے آنے کے بعد ہی ہوگا۔
دریں اثنا 8ویں پے کمیشن کے تحت 2.57 فٹمنٹ فیکٹر مقرر کیے جانے کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔ تاہم ابھی تک حکومت کی جانب سے فٹمنٹ فیکٹر کے بارے میں کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ کئی ملازم تنظیموں نے زیادہ فٹمنٹ فیکٹر کے ساتھ خاندان کی تعریف میں تبدیلی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ بعض تنظیموں نے 5 افراد یا اس سے زیادہ افراد کو خاندان کی تعریف میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
2.57 فٹمنٹ فیکٹر سے تنخواہ میں کتنا اضافہ ہوگا؟
دعوے کے مطابق اگر 2.57 فٹمنٹ فیکٹر نافذ کیا جاتا ہے تو 8ویں پے لیول کے ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ موجودہ بنیادی تنخواہ 47,600 روپے سے بڑھ کر تقریباً 1,22,332 روپے ہوسکتی ہے۔ اسی حساب سے ہاتھ میں آنے والی تنخواہ تقریباً 74,732 روپے بتائی جا رہی ہے۔
18 لاکھ روپے تک بقایا رقم کا دعویٰ
8ویں پے کمیشن کے اعلان کے بعد نئے پے کمیشن کے نفاذ تک ملازمین کو موجودہ پے اسکیل کے مطابق تنخواہ ملتی رہے گی۔ اگر نئے پے کمیشن کو سابقہ تاریخ سے نافذ کیا جاتا ہے تو اس دوران پرانی اور نئی تنخواہ کے درمیان جو فرق بنتا ہے، وہ ملازمین کو بقایا رقم یا ایریئر کی شکل میں مل سکتا ہے۔
دعوے کے مطابق اگر نئے پے کمیشن کو نافذ ہونے میں تقریباً 20 سے 24 ماہ کا وقت لگتا ہے اور 2.57 فٹمنٹ فیکٹر نافذ کیا جاتا ہے تو 8ویں پے لیول کے ملازمین کو تقریباً 17,93,568 روپے تک کی بقایا رقم مل سکتی ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار مفروضوں پر مبنی ہیں اور حتمی رقم حکومت کی جانب سے پے کمیشن کی سفارشات اور ان کے نفاذ کی تاریخ کے بعد ہی واضح ہوگی۔
و اضح رہے کہ نئے پے کمیشن کے نفاذ میں جتنی تاخیر ہوگی، اگر سفارشات کو سابقہ تاریخ سے نافذ کیا گیا تو ملازمین کے بقایا ایریئر کی رقم اسی حساب سے بڑھ سکتی ہے۔