• 425
    Shares

مہراج گنج (عبید الرحمن الحسینی) اترپردیش حکومت کی طرف سے جاری سرکلر اور گائڈ لائن کے بعد جہاںاترپردیش کی تمام تعلیم گاہیں کھل تو گئی ہیں، مگر گذشتہ ایک سال سے دینی وتعلیمی بیدار ی کے عنوان سے پر وگراموں کا سلسلہ بالکل منقطع چل رہا تھا،اگر ایک طرف طلبہ تعلیم وتربیت سے کوسوں دور ہورہے تھے تو دوسری طرف عوام بھی مذہبی ماحول ودینی جلسے جلوس نہ ہونے کی وجہ سے ان پر یکدم مایوسی چھائی ہوئی تھی۔اسی کو ختم کرنے اور عوام میں دینی وتعلیمی بیداری لانے کے لئے دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ نے ایک مہم شروع کی ہے۔اس مہم کے تحت گذشتہ شب کمہریا بزرگ میں ایک اصلاحی وتعلیمی جلسہ دارالعلوم فیض محمدی کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جب کہ نظامت کے فرائض مفتی احسان الحق قاسمی نے انجام دیئے۔
واضح رہے کہ اس مبارک تعلیمی ودینی بیداری مہم کو مختلف مواضعات میں کامیاب اور نفع بخش بنانے کے لئے ادارہ کے سربراہ اعلیٰ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی کی ہدایت پر مہتمم مدرسہ جناب مولانا محی الدین قاسمی ندوی کی قیادت میں دارالعلوم کے اساتذہ بالخصوص مفتی احسان الحق قاسمی، ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی، مولانا محمد انتخاب عالم ندوی، مولانا محمد سعید قاسمی، مولانا شکراللہ قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی، حافظ ذبیح اللہ، مولانا محمد یحی ٰ ندوی، ماسٹر محمد عمر خان،وغیرہ قرب وجوار کے مواضعات(دھریچی ، بوکوا، مرچہوا، خالق گڈھ، بہور پور، موہن پور) میں جاکر لوگوں میں تعلیمی بیداری پید اکرنے کے لئے گذشتہ ایک ماہ سے محنت شروع کردی ہے، گذشتہ شب اسی پس منظر میں موضع” کمہریا بزرگ،، میں بھی ایک شاندار اصلاحی وتعلیمی پروگرام ہوا، جس میں باشندگان کمہریا بزرگ اور طلبہ کی ایک بڑی جماعت سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے کہا کہ:: تقریباً ایک سال پہلے کورونا وائرس کے خطرات کے سبب تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا تھا، لیکن اب احتیاطی تدابیر کے ساتھ تمام عصری ودینی تعلیم گاہوں میں تعلیمی سلسلہ شروع تو کردیا گیا ہے، مگر ابھی ان میں تعلیمی بیداری لانے کے علاوہ ان معصوم بچوںکو برائیوں اور خرافات سے بچانے کی شدید ضرورت ہے، بلاشبہ کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاو ¿ن کے دنوں میں بچوں کا بہت زیادہ تعلیمی نقصان ہوا ہے، جس سے ہر شخص واقف ہے، لہذا ایسے حالات میں تمام طلبہ اور سرپرستوں کو ایسے پروگراموں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے ، تاکہ صحت مند معاشرہ کی تشکیل اور بچوںکی تابناک زندگی اور روشن مستقبل بنانے میں ہم کامیاب ہوسکیں۔ ۔
مولانا ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ: ہمیں قوم وسماج کو تعلیم یافتہ بنانے کے لئے ہر طرح کی قربانی دینی پڑے گی، کیوں کہ قوموں کی زیست وبقاءتعلیم ہی سے ہے، جو قومیں تعلیم میں پیچھے رہتی ہیں، وہ جسم بلا روح کے ہوتی ہیں، اگر آپ بحیثیت قوم باعزت زندگی گذارنا چاہتے ہیں ، اپنی نسل کا مستقبل سنوارنا چاہتے ہیں،اور ایک تابناک اور روشن فیوچر سے ہمکنار کرنا چاہتے ہیں، سر افتخار بلند کرنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں، اور ایک ممتاز اور بامقصد زندگی کے متلاشی ہیں، تو ایسے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے تعلیمی مہم سے جڑ جایئے ، اس عہد کے ساتھ کہ ہم اس راہ میں کسی بھی طرح کی قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے، حتیٰ کہ پیٹ پر پتھر باندھ کر بھی اپنے نونہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں گے۔
مولانا محمد سعید قاسمی نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ہمیں حالات سے گھبرانا نہیں چاہئے ، ہم اپنے سامنے مکی دور میں صحابہ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہونے والی زیادتیوں اور ظلم کے واقعات کو رکھیں تو ہم پر خوف طاری نہیں ہوگا، بل کہ چین وسکون اور صبر کی دولت حاصل ہوگی۔ : دنیا جانتی ہے کہ صحابہ پر دشمنان اسلام نے ظلم کی انتہاءکردی تھی، اس کے باوجود انہوں نے حالات کا پامردی کے ساتھ مقابلہ کیا، اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ہر ظلم وزیادتی کا ڈٹ کر سامنا کیا، تو ٹھیک اسی طرح آج ہم بھی نااہل حکمرانوں کی ظلم وزیادتی کا نہ صرف شکار ہیں، بل کہ کٹھن دور سے گذر رہے ہیں، ہمارے حقوق سلب کئے جارہے ہیں، دینی درسگاہوں اور تبلیغی کاموں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے، ایسے پریشان کن حالات میں ہمیں صحابہ کی زندگی سے سبق لینا چاہئے، اور تعلیم کو تمام کاموں پر فوقیت دیتے ہوئے اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی فکر کرنی چاہئے، کیوں کہ یہ امت زمانے میں قیادت کیلئے آئی ہے، اس لئے علوم دینیہ کے ساتھ عصری علوم سیکھ کر تمام صنعتی ، سائنسی ،طبی وٹیکنا لوجی کے میدان میں اپنا دبدبہ قائم کرنا وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ آج وقت ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ اپنے اسلاف کی روایت کو زندہ کرنے کیلئے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی طاقت کے ذریعہ ہم اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کریں۔
اس موقع پر اہالیان کمہریا بزرگ کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ دارالعلوم فیض محمدی کے طلبہ اور اسکے اساتذہ بالخصوص ، مفتی احسان الحق قاسمی، مولانا ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی، مولانا محمد انتخاب عالم ندوی، مولانا محمد صابر نعمانی، مولانا محمد سعید قاسمی، مولانا شکراللہ قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی، ماسٹر جاوید احمد، مولانا افضال احمد قاسمی، حافظ ذبیح اللہ، مولانا فخر الدین قاسمی،مولانا عرفان ا للہ قاسمی، حافظ بلال احمد ، ملا محمد مسلم، ماسٹر محمد عمر خان وغیرہ موجود تھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔