عبداللہ عثمانی(مالیگاوں)
نسب و ولادت:آپ اشراف قریش میں تھے۔زمانہ جاہلیت میں آپ کے خاندان سے سفارت مخصوص و متعلق تھی۔یعنی قریش کی جب کسی دوسرے قبیلے سے لڑائی ہوتی تھی تو آپکے بزرگوں کو سفیر بناکر بھیجا جاتا تھا یا جب کوئی تفاخر نسب کے اظہار کی ضرورت پیش آتی تو اس کام کے لیے آپ ہی کے بزرگ آگے نکلتے تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب اسطرح ہے۔ *”عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن رباح بن عبداللہ بن زراح بن عدی بن کعب بن لوئی۔* کعب کے دوبیٹے تھے ایک عدی دوسرے مرہ۔ مرہ نبی اکرمﷺ کے اجداد میں ہیں۔ یعنی آٹھویں پشت میں عمرؓ کا سلسلہ نسب نبی اکرمﷺ کے سلسلہ نسب میں مل کر ایک ہوجاتا ہے۔ عمر فاروقؓ کی کنیت ابو حفص تھی۔ نبی اکرمﷺ نے آپ کو فاروق کے لقب سے ملقب فرمایا تھا۔آپ ہجرت نبویﷺ سے چالیس سال پہلے پیدا ہوئے۔لڑکپن میں اونٹوں کو چرانے کا شغل تھا۔جوان ہونے کے بعد عرب کے دستور کے موافق نسب دانی، سپہ گری، شہسواری اور پہلوانی کی تعلیم حاصل کی۔آپ ملک عرب کے نامی پہلوانوں میں سمجھے جاتے تھے۔ شہسواری میں یہ کمال حاصل تھا کہ گھوڑے پر اچھل کر سوار ہوتے اور اسطرح جم کر بیٹھتے کہ بدن کو حرکت نا ہوتی تھی۔
بعض خصوصی فضائل:آپ چالیس مسلمان مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعداسلام لائے۔بقول بعض انتالیس مردوں اور تیئیس عورتوں کے بعد اور بقول دیگر 45 مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد اسلام میں داخل ہوئے۔ آپ سابقین اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ آپ نبیﷺ کے خسر ہیں۔ آپ کا شمار علماء اور زہاد صحابہ میں ہوتا ہے۔ 539 احادیث آپ سے مروی ہیں جن کو بہت سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے روایت کیا ہے۔ ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ جس روز عمر فاروقؓ ایمان لائے اس روز مشرکین نے کہا کہ آج مسلمانوں نے ہم سے بدلہ لے لیا اور اسی روز آیت *”اے نبیﷺ اللہ تعالی تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے(الانفال)* نازل ہوئی۔
ابن مسعودؓ کی روایت ہے کہ جس روز عمر فاروقؓ ایمان لائے اس روز سے اسلام عزت ہی پاتا گیا۔ آپ کا اسلام گویا فتح اسلام تھی اور آپ کی ہجرت گویا نصرت تھی اور آپ کی امامت رحمت تھی۔ ہماری مجال نہیں تھی کہ ہم کعبہ شریف میں نماز پڑھ سکیں لیکن جب حضرت عمر فاروقؓ ایمان لائے تو آپ نے مشرکین سے اس قدر جدال و معرکہ آرائی کی کہ مجبورا ان کو ہمیں نماز پڑھنے کی اجازت دینی پڑی۔
ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں۔ بعض کے قمیص سینے تک ہیں بعض کے اس سے زیادہ مگر عمرؓ کا قمیص زمین میں گھسٹتا جاتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا قمیص سے مراد کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ دین۔ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے عمرؓ سے فرمایا کہ واللہ! جس راستے سے تم جاؤ گے اس راستے پر شیطان کبھی نا چلنے پائے گا بلکہ وہ دوسرا راستہ اختیار کرے گا۔
حلیہ فاروقی:فاروق اعظمؓ کی رنگت سفید تھی لیکن سرخی اس پر غالب تھی۔ قد نہایت لمبا تھا۔پیادہ پا چلنے میں معلوم ہوتا تھا کہ سوار جارہے ہیں۔ رخساروں پر گوشت کم تھا، داڑھی گھنی، مونچھیں بڑی، سر کے بال سامنے سے اڑ گئے تھے۔ ابن عساکر نے روایت کی ہے کہ عمرؓ دراز قد، موڑے تازے تھے۔
واقعہ شہادت فاروق اعظمؓ:مدینہ منورہ میں مغیرہ بن شعبہ(رض) کا ایک مجوسی غلام فیروز نامی جس کی کنیت ابو لولو تھی، رہتا تھا۔ اس نے ایک روز بازار میں فاروق اعظمؓ سے شکایت کی کہ میرا آقا مغیرہ بن شعبہ مجھ سے زیادہ محصول لیتا ہے آپ کم کرادیجئیے۔ فاروق اعظمؓ نے اس سے دریافت کیا کہ کس قدر محصول وصول کرتا ہے؟ ابولولو نے کہا کہ دو درم(سات آنے) روزانہ۔ فاروق اعظمؓ نے دریافت کیا کہ تو کیا کام کرتا ہے؟ اس نے کہا آہنگری، نقاشی اور نجاری۔ آپ نے فرمایا کہ ان صنعتوں کے مقابلہ میں یہ رقم زیادہ نہیں۔ یہ سن کر ابولولو اپنے دل میں سخت ناراض ہوا۔ فاروق اعظمؓ نے پھر اس سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تو ایسی چکی بنانا جانتا ہے کہ جو ہوا کے زرو سے چلتی ہے تو مجھ کو بھی ایسی چکی بنادے۔ اس نے جواب میں کہا کہ بہت خوب! میں ایسی چکی بنادوں گا کہ جس کی آواز اہل مغرب و مشرق سنیں گے۔ دوسرے دن نماز فجر کے لیے لوگ مسجد نبویﷺ میں جمع ہوئے۔ ابولولو ایک خنجر لیے ہوئے مسجد میں داخل ہوگیا۔ جب نماز کے لیے صفیں درست ہوگئیں اور فاروق اعظمؓ امامت کے لیے آگے بڑھ کر نماز شروع کرچکے تو ابولولو نے جو مسلمانوں کے ساتھ صف اول میں کھڑا تھا، نکل کر فاروق اعظمؓ پر خنجر کے چھ وار کیے، جن میں ایک وار ناف سے نیچے پڑا۔ فاروق اعظمؓ نے فورا عبدالرحمن بن عوف(رض) کو کھینچ کر اپنی جگہ پر کھڑا کردیا اور خود زخموں کے صدمہ سے بے ہوش ہوکر گر پڑے۔
عبدالرحمن بن عوف(رض) نے لوگوں کو اس حالت میں نماز پڑھائی کہ فاروق اعظمؓ سامنے زخمی پڑے تھے۔ ابولولو اپنا وار کرکے مسجد نبویﷺ سے بھاگا۔ لوگوں نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی۔ اس نے کئی اشخاص کو زخمی کیا اور کلیب بن ابی بکیر(رض) کو شہید کردیا۔ بالآخر گرفتار کرلیا گیا لیکن اس نے گرفتار ہوتے ہی خودکشی کرلی۔ نماز فجر پڑھ لینے کے بعد لوگ فاروق اعظمؓ کو مسجد سے اٹھاکر ان کے گھر میں لائے۔ انہوں نے ہوش میں آتے ہی سب سے پہلے یہ دریافت کیا کہ میرا قاتل کون تھا؟ لوگوں نے ابولولو کا نام بتایا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میں ایسے شخص کے ہاتھ سے نہیں مارا گیا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو یا جس نے اللہ کو ایک سجدہ بھی کیا ہو۔ ایک طبیب نے آکر آپ کو دودھ اور نبیز پلایا تو وہ زخم کے راستے سے باہر نکل آیا۔ یہ حالت دیکھ کر لوگوں کو آپ کی زندگی سے مایوسی ہوئی۔ اور عرض کیا کہ جس طرح ابوبکر صدیقؓ نے آپ کو اپنا جانشین مقرر فرمادیا تھا آپ بھی کسی کو اپنا جانشین مقرر فرمادیں۔
آپ نے عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، زبیر بن العوام، طلحہ، علی، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کو طلب فرمایا۔ طلحہؓ مدینہ منورہ میں تشریف نہ رکھتے تھے۔ فاروق اعظمؓ نے پانچ آدمیوں سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ تین روز تک طلحہ کا انتظار کرنا۔ اگر وہ تین روز تک آ جائیں تو ان کو بھی اپنی جماعت میں شامل کرنا اور تین روز تک نہ آئیں تو پھر تم پانچ آدمی ہی مشورہ کرکے اپنے آپ میں سے کسی ایک کو اپنا امیر بنالینا۔
پھر اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ کو بلاکر حکم دیا کہ عائشہ(رض) کی خدمت میں جاؤ اور ابوبکر صدیقؓ کے پہلو میں دفن کیے جانے کی اجازت حاصل کرو۔ وہ عائشہ صدیقہ(رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فاروق اعظمؓ کی التجاء پیش کی۔ عائشہ صدیقہ(رض) نے فرمایا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لیے تجویز کی تھی لیکن اب میں عمر فاروقؓ کو اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہوں۔ ان کو ضرور اس جگہ دفن کیا جائے۔ یہ خبر جب عبداللہؓ نے فاروق اعظمؓ کو سنائی تو وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ میری سب سے بڑی مراد بر آئی چہار شنبہ 27 ذی الحجہ سنہ 23 ہجری کو آپ زخمی ہوئے اور یکم محرم سنہ 24 ہجری کو ہفتہ کے دن فوت ہوکر مدفون ہوئے۔ ساڑھے دس برس خلافت کی۔ نماز جنازہ صہیبؓ نے پڑھائی۔ عثمان غنی، علی، زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتارا۔ اللہ سبحان و تعالی آپؓ سے بہت بہت راضی ہو۔
۲۱ اگست ۲۰۲۰
