لکھنؤ: کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اتر پردیش میں زمینی سطح پر جس انداز پر متحرک نظر آ رہی ہیں اس سے دوسری پارٹیوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران مسلمانوں پر پولیس کا تشدد، کسانوں کے مسائل، خواتین کی حفاظت، نوجوانوں کی بےروزگاری یا پھر کاروباری طبقہ کے مسائل، پرینکا گاندھی نے ہر ایک مسئلہ پر نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ گلی کوچوں میں اتر کر حالات کا جائزہ لیا اور متاثرین سے یگانیت کا اظہار کیا۔
پرینکا گاندھی کے متحرک ہونے سے سب سے زیادہ بے چینی سماجوادی پارٹی میں پائی جا رہی ہے جو کسی بھی طرح سے مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اتر پردیش میں 2022 کے اسمبلی انتخابات میں متبادل پارٹی کے طور پر ابھرنے اور ریاست میں اگلی حکومت بنانے کے لئے قطار میں منتظر سماج وادی پارٹی (ایس پی) پورے منصوبہ بند طریقے سے محتاط طور پر اپنے آپ کو اقلیتی ووٹروں کے لئے سب سے موزوں قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
سماج وادی پارٹی (ایس پی) اعلی قیادت کو اس بات کی خاص توقع ہے کہ اتر پردیش کے 2022 کے اسمبلی انتخابات میں بھی دہلی کی حکمت عملی کو دہرایا جائے گا جہاں پر کانگریس نے بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے اپنی انتخابی مفاد کی قربانی پیش کرتے ہوئے انتخابی تشہیر میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔ تاہم اتر پردیش میں کانگریس خاص کر جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کے متحرک ہونے سے ایس پی کی توقعات کو کافی زک پہنچی ہے۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی کے مطابق سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی مجلس عاملہ کی میٹنگ 14 مارچ کو لکھنؤ میں ہونی ہے جس میں سب سے اہم ایجنڈا 2022 کے اسمبلی انتخابات ہوگا۔ دہلی میں ہوئے فسادات اور دیگر واقعات بھی ایس پی کے سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہوں گے۔ سماج وادی پارٹی(ایس پی) کے ذرائع نے بتایا کہ شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف یوپی، دہلی سمیت ملک کے دیگر مقامات پر گزشتہ 3 مہینوں سے احتجاج جاری ہیں۔ باوجود اس کے عوام کا حقیقی موقف خاص طور سے مسلم سماج کا جواب ابھی کھل کر سامنے آنا باقی ہے اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) کا یکم اپریل سے آغاز ہونا ہے۔
سماج وادی سربراہ اکھلیش یادو نے پہلے ہی اس ضمن میں انتہائی موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ پارٹی کا کوئی بھی کارکن این پی آر کا فارم نہیں بھرے گا۔ لیکن ایس پی میں کچھ افراد نے پارٹی سربراہ کو 2022 کی حکمت عملی تیار کرنے کے ضمن میں محتاط کیا ہے۔
سماج وادی پارٹی نے گزشتہ 19، 20 دسمبر کے درمیان ریاست کے دو درجن سے زیادہ اضلاع میں شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران تشدد کی مذمت نہیں کی ہے۔ پارٹی نے احتجاج میں جان بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو 5 لاکھ روپے کا چیک ضرور دیا ہے۔ تاہم سماجوادی پارٹی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مسلم حامی نظر تو آنا چاہتی ہے لیکن وہ اکثریت طبقہ کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتی۔ سماج وادی پارٹی کے ایک مسلم لیڈر نے کہا کہ ’ہیں اس ضمن میں کافی محتاط رہنا ہوگا کہ پارٹی پر مسلمانوں کا حامی ہونے کا لیبل نہ لگ جائے!‘
انہوں نے مزید کہا کہ سماج وادی پارٹی کے لیڈران عوامی سطح پر جو بھی کہتے ہوں زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی یہ کافی اہم حصولیابی ہے کہ اب کوئی بھی اکثریتی سیاسی پارٹی آج کے وقت میں مسلم سماج کا طرفدار ہونے کا لیبل اپنے اوپر لگنے دینا نہیں چاہتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ’’دہلی انتخابات نے واضح طور پر اس بات کو ثابت کیا ہے کہ ہندو اکثریت نے سیاسی زمین پوری کامیابی کے ساتھ جیتی ہے۔ اروند کیجریوال نے آرٹیکل 370 اور دفعہ 35اے کے تنسیخ کی حمایت کرتے ہوئے سی اے اے پر پراسرار خاموشی اختیار کی، وہیں شاہین باغ سے خود کو دور رکھا اور عوامی طور پر ہنومان چالیسہ بھی پڑھا۔ یہ سماج وادی پارٹی کے لئے کافی اچھا ہوگا کہ وہ ہنومان چالیسہ یاد کرے اور اس سے مزید ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے رامائن کی سندرکانڈ کو پڑھیں۔‘‘
(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو