ہے بھگوان! دیکھ تیرے بی جے پی کا کیا حال ہو گیا…!”

جنہوں نے کی تھی مخالفت، انہی کے سامنے چیتنیہ باپو دیشمکھ نے دیا انٹرویو

ناندیڑ(ورق تازہ نیوز)بی جے پی کے میونسپل کارپوریشن انتخابی انچارج کو الگ رکھ کر، اس وقت مہانگر صدراَمَر راجورکر کی موجودگی میں امیدواروں کے انٹرویو لیے جا رہے ہیں۔ مگر اصل بی جے پی کارکن ہوتے ہوئے بھی جن لوگوں نے برسوں بی جے پی کی سیاسی مخالفت کی، انہی راجورکر کے سامنے ایڈوکیٹ چَیتنّیاباپو دیشمکھ نے امیدوار کے طور پر انٹرویو دیا۔ اس واقعے کے بعد شہر میں یہ جملہ تیزی سے گردش کررہا ہے کہ "دیکھ تیرے بی جے پی کی حالت کیا ہوگئی بھگوان…!”

بی جے پی قیادت نے میونسپل کارپوریشن کے انتخابی انچارج کے طور پر ایم پی ڈاکٹر اجیت گوپچَڈّے کی تقرری کی ہے، مگر انہیں ایک طرف رکھ کر ایم پی اشوک راؤ چوہان کی ہدایت پر بی جے پی صدر امَر راجورکر، اور پارٹی کے کوئی باقاعدہ عہدہ نہ رکھنے والے سابق ایم ایل اے ڈی پی ساونت اور نریندر چوہان، میونسپل امیدواروں کے انٹرویوز لے رہے ہیں۔

ان انٹرویوز کے دوران بی جے پی اسٹیٹ ممبر ایڈوکیٹ چَیتنّیاباپو دیشمکھ کے ساتھ ایک انوکھا واقعہ پیش آیا۔ جس شخص نے زندگی میں کبھی بی جے پی کا جھنڈا ہاتھ میں نہیں لیا، ہمیشہ بی جے پی پر تنقید کی، سیاسی مخالفت کی — یعنی کانگریس سے بی جے پی میں آئے ہوئے امَر راجورکر — انہی کے سامنے ایڈوکیٹ چَیتنّیا باپو کو انٹرویو دینا پڑا۔ اس ملاقات کی تصاویر بھی وائرل ہو رہی ہیں۔

اس صورتحال کو دیکھ کر شہر میں یہ بحث گرم ہے کہ جن لوگوں نے عمر بھر بی جے پی کو مضبوط کرنے کے لیے دن رات محنت کی، انہی کا انٹرویو اب راجورکر کر رہے ہیں۔ یہی دیکھ کر لوگ کہہ رہے ہیں:
"دیکھ تیرے سنسار میں، یعنی بی جے پی کی حالت کیا ہو گئی بھگوان…!”

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading