نئی دہلی۔26۔اگست۔جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعدبوکھلاہٹ کا شکارہوکر پاکستان، ہندوستان کو ہرروزنئے نئے طریقوں سے پریشان کرنے کے منصوبے بنارہاہے۔ ایک جانب، پاکستان کے وزیراعظم عمران خان مسئلہ کشمیرپرپوری دنیا سے مدد مانگ رہے ہیں تو دوسری جانب ، پاکستان پی او کے یعنی پاک مقبوضہ کشمیرمیں بھی جنگی سامان اکٹھا کررہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی فوج نے پی او کے میں اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ ایل او سی (لائن آف کنٹرول) کے قریب خصوصی کمانڈنگ آفیسر تعینات کردیئے گئے ہیں۔ نیز 6 بریگیڈوں کو بھی تیارکیاجارہاہے۔
ہندی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج پی او کے میں ہندوستان کے خلاف چھوٹی جنگ کے لئے سامان اکٹھا کررہی ہے۔ ایل او سی کے تمام علاقوں میں بھاری تعداد میں فوجیوں کو تعینات کیاجارہاہے ۔پاک فوج کی خصوصی توجہ دانا اورباغ سیکٹرپرہیں۔ لیپااورچیمب سیکٹروں میں بھی فوج کی سرگرمیوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ یہاں بھاری ہتھیاروں اورجنگ کے دوسرے سامان اکٹھے کیے جارہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ،دانا سیکٹر میں جس طرح سے اسلحہ جمع کیا جارہا ہے یہ معمول کی بات نہیں ہے۔ صورتحال کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ جنگ کسی بھی وقت شروع
ہوسکتی ۔بھاسکرکی رپورٹ کے مطابق ، پی او کے میں جو کچھ بھی کرنا ہے وہ ستمبر سے اکتوبر کے درمیان ہوناہے کیونکہ اس کے بعد برف باری شروع ہوجائے گی اور جنگ لڑنا ناممکن ہوجائے گا۔ پاک فوج کا ماننا ہے کہ ہندوستان برف گرنے سے پہلے دریائے نیلم سے پاکستان کو پیچھے دھکیلناچاہتاہے۔ تب یہ اگلے موسم گرما تک دونوں فوجوں کی مستقل پوزیشن بن جائے گی۔ اگرایسا ہوتا ہے توہندوستانی اورپاکستانی فوج ایک بارپھر آمنے سامنے ہوگی
ہوسکتی ۔بھاسکرکی رپورٹ کے مطابق ، پی او کے میں جو کچھ بھی کرنا ہے وہ ستمبر سے اکتوبر کے درمیان ہوناہے کیونکہ اس کے بعد برف باری شروع ہوجائے گی اور جنگ لڑنا ناممکن ہوجائے گا۔ پاک فوج کا ماننا ہے کہ ہندوستان برف گرنے سے پہلے دریائے نیلم سے پاکستان کو پیچھے دھکیلناچاہتاہے۔ تب یہ اگلے موسم گرما تک دونوں فوجوں کی مستقل پوزیشن بن جائے گی۔ اگرایسا ہوتا ہے توہندوستانی اورپاکستانی فوج ایک بارپھر آمنے سامنے ہوگی