ہندوستان کے سابق وزراءاعظم کو جانیں

پی وی نرسمہاراؤ

۲۱؍ جون ۱۹۹۱ – ۱۶؍ مئی ۱۹۹۶ | کانگریس (آئی)

جناب پی وی نرسمہاراؤ

پی رنگا راؤ کے بیٹے، جناب پی وی نرسمہا راؤ، ۲۸؍ جون ۱۹۲۱ کو، کریم نگر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد، بامبے یونیورسٹی اور ناگپور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ جناب پی وی نرسمہاراؤ کے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔

پیشے سے ماہر زراعت اور وکیل، جناب نرسمہا راؤ سیاست میں داخل ہوئے اور کچھ اہم عہدوں پر فائز رہے۔ ۶۴۔ ۱۹۶۲ کے دوران، وہ آندھرا پردیش حکومت میں وزیر برائے قانون و اطلاعات رہے؛ ۶۷۔۱۹۶۴ کے دوران، وہ قانون و اوقاف کے وزیر رہے؛ ۱۹۶۷ میں صحت و ادویہ اور ۱۹۶۸ سے ۱۹۷۱ تک وہ وزیر برائے تعلیم رہے۔ ۷۳۔۱۹۷۱ کی مدت کے دوران، وہ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے؛ ۷۶۔۱۹۷۵ کے دوران، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری کے فرائض انجام دیے۔ کی مدت کے دوران، تیلگو اکیڈمی، آندھرا پردیش کے چیئرمین رہے۔ ۱۹۷۲ سے دکشن بھارت ہندی پرچار سبھا، مدراس کے نائب صدر رہے؛ ۷۷۔۱۹۵۷ کی مدت کے دوران، وہ آندھرا پردیش لیجسلیٹو اسمبلی کے رکن رہے؛ ۱۹۷۷ سے ۱۹۸۴ تک لوک سبھا کے رکن رہے اور دسمبر ۱۹۸۴ میں رام ٹیک سے آٹھویں لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے۔ ۷۹۔۱۹۷۸میں، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے، اسکول آف ایشین اینڈ افریکن اسٹڈیز، لندن یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک اجلاس میں شرکت کی۔ جناب راؤ نے بھارتیہ ودیا بھون کے آندھرا سینٹر کی بھی صدارت کی؛ ۱۴جنوری، ۱۹۸۰ سے ۱۸؍ جولائی، ۱۹۸۴ تک وہ خارجی امور کے وزیر رہے؛ ۱۹؍جولائی ۱۹۸۴ سے ۳۱ دسمبر ۱۹۸۴ تک وہ داخلی امور کے وزیر رہے اور ۳۱ دسمبر ۱۹۸۴ سے ۲۵؍ ستمبر ۱۹۸۵ تک وہ وزیر دفاع رہے۔ اس کے بعد انہوں نے، ۲۵؍ستمبر، ۱۹۸۵کو، ترقی برائے وسائلِ انسانی کے وزیر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا۔

جناب راؤ موسیقی، سنیما اور تھئیٹر میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ہندوستانی فلسفہ اور ثقافت، کہانیاں لکھنا اور سیاسی تبصرہ نگاری، زبانیں سیکھنا، ہندی اور تیلگو زبانوں میں نظمیں لکھنا اور ادب، جیسے مشاغل ان کی خصوصی دلچسپیوں کا مرکز تھے۔ انہوں نے آنجہانی وشوناتھ ستیہ نارائن کے مشہور تیلگو ناول ’ویئی پداگالو‘ کے ہندی ترجمے ’سہسراپھن‘ اور سینٹرل ساہتیہ اکادمی کے ذریعہ شائع آنجہانی جناب ہری نارائن آپٹے کے مشہور مراٹھی ناول ’پان لکشت کون گھیٹو‘ کے تیلگو ترجمے ’ابالا جیوتم‘ کو کامیابی سے شائع کیا۔ انہوں نے مراٹھی سے تیلگو اور تیلگو سے ہندی میں متعدد مشہور کتابوں کا ترجمہ کیا، اور اپنے قلمی نام کے تحت مختلف رسائل میں کئی مضامین شائع کیے۔ انہوں نے یو ایس اے اور مغربی جرمنی کی یونیورسٹیوں میں سیاست اور اس سے متعلق موضوعات پر تقریریں کیں۔ وزیر برائے خارجی امور کی حیثیت سے انہوں نے ۱۹۷۴میں، برطانیہ، مغربی جرمنی، سویٹزرلینڈ، اٹلی اور مصر کا دورہ کیا۔

وزیر برائے امورِ خارجہ کی اپنی مدت کے دوران، جناب راؤ، بین الاقوامی ڈپلومیسی میں اپنے علمی پس منظر اور سیاسی و ایڈمنسٹریٹو تجربے کو بروئے کار لائے۔ عہدہ سنبھالنے کے کچھ ہی دنوں بعد، جنوری ۱۹۸۰میں، نئی دہلی میں، انہوں نے اقوام متحدہ کی صنعتی ترقیاتی تنظیم کے تیسرے اجلاس کی صدارت کے فرائض انجام دیے۔ انہوں نے مارچ ۱۹۸۰ میں، نیویارک میں، جی ۔ ۷۷ اجلاس کی بھی صدارت کی۔ ۱۹۸۱ میں، غیرجانبدار ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ان کے کردار کی بڑی ستائش ہوئی۔ جناب راؤ نے بین الاقوامی اقتصادی معاملات میں انفرادی طور پر گہری دلچسپی دکھائی اور نجی طور پر مئی ۱۹۸۱ میں کاراکاس میں، ای سی ڈی سی پر منعقد ہوئے جی۔۷۷ کے اجلاس میں ہندوستانی وفد کی نمائندگی کی۔

۱۹۸۲ اور ۱۹۸۳ کے سال بھارت اور اس کی غیرملکی پالیسی کے لئے بہت اہم تھے۔ خلیجی جنگ کے سائے میں، غیر۔جانبدار تحریک نے بھارت سے ساتویں سربراہ کے طور پر ملاقات کی میزبانی کے لئے کہا۔ جس کا مطلب بھارت کو اس تحریک کا لیڈر اور محترمہ اندرا گاندھی کا اس کا چیئرپرسن بننا بھی تھا۔ سال ۱۹۸۲ میں جب بھارت کو اس کی میزبانی کرنے کے لئے کہا گیا اور اس کے اگلے سال، جب مختلف ملکوں کی ریاست اور حکومتی سربراہان کے درمیان، تحریک سے متعلق، نیویارک میں ایک غیر رسمی اجلاس منعقد کیا گیا، تب جناب پی وی نرسمہا راؤ نے غیر جانبدار ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ، نئی دہلی اور اقوام متحدہ میں ہونے والی میٹنگوں کی صدارت کی۔

جناب راؤ، غیرجانبدار تحریک کے ایک خاص مشن کے سربراہ بھی رہے، جس نے فلسطین کی آزادی کی تحریک کو سلجھانے کے لئے، نومبر ۱۹۸۳ میں، مغربی ایشیا کے ممالک کا دورہ کیا۔ جناب راؤ نئی دہلی حکومت میں دولت مشترکہ کے سربراہان اور قبرص کے متعلق معاملے پر ہوئی میٹنگ کے ذریعہ تشکیل دیے گئے گروپ کے ساتھ سرگرمی سے جڑے ہوئے تھے۔

وزیر برائے امور خارجہ کے طور پر، جناب نرسمہا راؤ نے امریکہ، یو ایس ایس آر، پاکستان، بنگلہ دیش، ایران، ویتنام، تنزانیہ اور گیانا جیسے ممالک کے ساتھ ہوئے مختلف مشترکہ کمیشنوں کی بھارت کی جانب سے صدارت کی۔

جناب نرسمہاراؤ، ۱۹؍ جولائی ۱۹۸۴ کو وزیر داخلہ کے منصب پر فائز ہوئے۔ ۵ نومبر، ۱۹۸۴ کو، منصوبہ بندی کی اضافی وزارت کے ساتھ، ایک مرتبہ پھر انہیں وزیر داخلہ کے منصب پر فائز کیا گیا۔ ۳۱؍ دسمبر، ۱۹۸۴ سے ۲۵؍ ستمبر ۱۹۸۵ تک ، وہ وزیر دفاع کے عہدے پر فائز رہے۔ ۲۵؍ ستمبر ۱۹۸۵ کو انہیں وزیر برائے ترقی وسائل انسانی کا منصب ملا۔

جناب ایچ ڈی دیوے گوڑا

یکم جون ۱۹۹۶ – ۲۱؍ اپریل ۱۹۹۷ | جنتا دل

جناب ایچ ڈی دیوے گوڑا

بھارت کی سماجی ۔ اقتصادی ترقی اور مالامال ثقافتی ورثے کے مداح جناب ایچ۔ ڈی۔ دیوےگوڑا کی پیدائش ۱۸؍ مئی ۱۹۳۳ کو، کرناٹک کے ہاسن ضلع کے ہولینارا سپوراتالک کےہردن ہلی گاؤں میں ہوئی تھی۔

سول انجینیئرنگ میں ڈپلوما ہولڈر ، جناب دیوے گوڑا ۲۰ سال کی کم عمری میں ہی سرگرم سیاست میں اس وقت شامل ہوئے جب ۱۹۵۳ میں وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کانگریس سے جڑ گئے اور ۱۹۶۲ تک اس کے رکن بنے رہے۔ ایک متوسط طبقے کے کسان گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں کسانوں کی مشکل بھری زندگی کا اندازہ تھا، چنانچہ انہوں نے غریب کاشتکاروں، ناداروں اور مظلوموں کو ان کا حق دلانے کے لئے آواز اٹھائی۔

جمہوری نظام کے نچلے زمرے سے شروعات کرتے ہوئے، جناب گوڑا آہستہ آہستہ سیاست کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ انجانیا کوآپریٹو سوسائٹی کے صدر اور بعد میں ہولینارا سپورا میں تالک ترقیاتی بورڈ کے رکن کے طور پر انہوں نے لوگوں کے ذہنوں پر اپنی چھاپ چھوڑی۔

انہوں نے ہمیشہ ایسے سماج کا خواب دیکھا جسمیں نابرابری کے لئے کوئی جگہ نہ ہو۔ محض ۲۸ سال کی عمر میں، نوجوان دیوے گوڑا نے آزادانہ طور پر انتخاب لڑا اور ۱۹۶۲ میں کرناٹک اسمبلی کے رکن بن گئے۔ کرناٹک اسمبلی میں ایک مؤثر اسپیکر کے طور پر انہوں نے سینیئر اراکین سمیت سبھی کو متاثر کیا۔ ہولینارا سپورا انتخابی حلقے نے انہیں مزید تین مرتبہ، یعنی چوتھی (۱۹۶۷-۷۱)؛ پانچویں (۱۹۷۲-۷۷) اور چھٹویں (۱۹۷۸-۸۳) اسمبلیوں کے لئے منتخب کیا۔

مارچ ۱۹۷۲ سے مارچ ۱۹۷۶ اور ۱۹۷۶ سے دسمبر ۱۹۷۷ تک، انہیں بحیثیت اپوزیشن لیڈر اپنی خدمات پیش کرنے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔

جناب دیوے گوڑا ۲۲؍ نومبر ۱۹۸۲ کو چھٹویں اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے۔ ساتویں اور آٹھویں اسمبلی کے رکن کے طور پر، انہوں نے عوامی فلاح اور آبپاشی کے وزیر کے منصب پر اپنی خدمات انجام دیں۔ آبپاشی کے وزیر کے طور پر انہوں نے آبپاشی سے متعلق کئی پروجیکٹس کا آغاز کیا۔ انہوں نے، آبپاشی کی وزارت کو ناکافی فنڈ مختص کیے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے، ۱۹۸۷ میں کابینہ سے استعفی دے دیا۔

آزادی اور برابری کے علمبردار گوڑا کو ۷۶۔۱۹۷۵ میں مرکزی حکومت کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا اور ایمرجنسی کے دور میں انہیں جیل جانا پڑا۔ اس وقت کو بھرپور طریقے سے استعمال کرتے ہوئے انہوں نے اپنے علم میں اضافہ کرنے کی غرض سے خوب مطالعہ کیا۔ مطالعے اور جیل میں ہوئی ہندوستانی سیاست کی جَیّد ہستیوں سے ملاقات نے انہیں اپنی شخصیت اور نقطۂ نظر کو نکھارنے میں مدد دی۔ جیل سے باہر آنے کے بعد وہ تجربہ کار اور مضبوط ارادے والے فرد کی شکل میں ابھرے۔

۱۹۹۱ میں وہ ہاسن لوک سبھا انتخابی حلقے سے منتخب ہوئے۔ جناب گوڑا نے ریاست کے مسائل، خاص طور سے کسانوں کے مسائل دور کرنے کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ انہیں، پارلیمنٹ میں کسانوں کی ناگفتہ بہ صورتِ حال کے سلسلے میں اظہارِ خیال کرنے کے لئے خوب ستائش ملی۔ پارلیمنٹ اور اس کے اداروں کے وقار کو بنائے رکھنے کے لئے بھی ان کی خوب تعریف ہوئی۔

جناب دیوے گوڑا دو مرتبہ ریاستی سطح پر جنتا پارٹی کے صدر کے منصب پر فائز ہوئے اور ۱۹۹۴ میں جنتا دل کے ریاستی صدر کے منصب پر فائز ہوئے۔ جناب دیوے گوڑا نے ۱۹۹۴ میں ریاست میں جنتا دل کے عروج کے لئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ۱۱؍ دسمبر ۱۹۹۴ کو جناب دیوے گوڑا جنتا دل اسمبلی پارٹی کے صدر منتخب ہوئے اور انہوں نے کرناٹک کے چودہویں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ریاست کی زمامِ اقتدار سنبھالی۔ بعد میں انہوں نے رام نگر اسمبلی حلقے سے چناؤ لڑا اور زبردست اکثریت سے جیت حاصل کی۔

عملی سیاست میں ان کے طویل مدتی تجربے اور زمینی سطح پر مضبوط بنیاد کی بدولت انہیں ریاست کو درپیش متعدد مسائل کا راست طور سے ازالہ کرنے میں زبردست کامیابیاں ملیں۔ ان کی سیاسی ہنرمندی اس وقت بھی آزمائش کی کسوٹی پر کھری اتری جب انہوں نے ہبلی کے عید گاہ میدان کے معاملے میں جوش و جذبے کے ساتھ جدوجہد کی۔ یہ میدان اقلیتی برادری کی ملکیت تھا اور سیاسی تنازع کا مرکز بنا ہوا تھا۔ لیکن جناب دیوے گوڑا نے کامیابی کے ساتھ اس تنازع کو حل کیا۔

۱۹۹۵ میں جناب دیوے گوڑا نے سوئیٹزر لینڈ میں فورم آف انٹرنیشنل اکنامسٹس کے اجلاس میں شرکت کی۔ ان کے یوروپ اور مشرقِ وسطی کے ممالک کے دورے، ایک ایماندار اور نیک نیت سیاست داں کی حیثیت سے ان کی کامیابی ثابت ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سنگاپور کا سفر کرکے ریاست کے لئے وہاں سے مطلوبہ غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرکے اپنی کاروباری ہنرمندی کا بھی ثبوت پیش کیا۔

۷۰ کی دہائی سے ہی ان کے دوست و دشمن ان کی تنہا سیاسی سرگرمیوں اور اقدامات پر تبصرے اور تنقیدیں کرتے رہے ہیں۔ جناب دیوے گوڑا کے مطابق، ان کی سیاست عوام کی سیاست ہے اور انہیں اس وقت خوشی ہوتی ہے جب عوام سے گھرے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کے لئے کچھ کرتے ہیں۔

۱۹۸۹ کے ریاستی انتخابات میں ان کی پارٹی کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کر سکی اور ان کی پارٹی کو ۲۲۲ اسمبلی نشستوں میں سے محض ۲ نشستیں ہی حاصل ہو سکیں۔ اسی چناؤ میں انہیں پہلی بار دو اسمبلی حلقوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لئے انہیں سیاسی ستاروں کی گردش سے غیر مانوس یا اجنبی نہیں کہا جا سکتا۔

اس شکست نے ان کے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل کرنے اور اپنی منفرد قسم کی سیاست کرنے کی آزمائش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کرناٹک و دہلی میں اپنے دوست بنائے اور سیاسی حریفوں سے اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ جناب دیوے گوڑا انتہائی سادہ زندگی گزارنے والے شخص ہیں لیکن وہ اپنے موقف پر انتہائی مؤثر انداز میں زور دیتے ہیں۔

سیاسی زندگی کے آغاز سے قبل جناب دیوے گوڑا چھوٹی موٹی ٹھیکے داری کیا کرتے تھے۔ لیکن آزادانہ طور سے گزرنے والے سات برسوں نے انہیں پارٹی کی سیاست کو باہر سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ انتہائی محنتی شخص ہونے کے باوجود جناب دیوے گوڑا ہمیشہ ریاستی اسمبلی کی لائبریری میں کتابوں اور رسائل کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے۔ ۱۹۶۷ میں ان کی دوبارہ کامیابی نے ان میں زبردست اعتماد پیدا کیا اور ۱۹۶۹ میں جب کانگریس تقسیم ہوئی تو وہ ان دنوں کرناٹک میں برسر اقتدار جناب نجلنگ گپا کی سربراہی والی کانگریس (تنظیمی) میں شامل ہوگئے۔ لیکن جناب دیوے گوڑا کو اس وقت ایک زبردست موقع حاصل ہوا جب ۱۹۷۱ کے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس (تنظیمی) کا صفایا ہو گیا تھا۔ وہ آنجہانی اندراگاندھی کی لہر سے متاثرہ شکست خوردہ اپوزیشن کے لیڈر کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے۔

جناب ڈوڈے گوڑا اور محترمہ دِیَومّاں کے گھر میں پیدا ہونے والے جناب دیوے گوڑا ہمیشہ اپنی سادہ کاشتکاری کے پس منظر پر فخر محسوس کرتے تھے۔ محترمہ چنمّاں سے شادی کے بعد ان کے چار لڑکے اور دو لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ ان کا ایک بیٹا کرناٹک میں ممبر اسمبلی ہے اور دوسرے بیٹے نے چناؤ جیت کر لوک سبھا کی رکنیت حاصل کی تھی۔

علاقائی پارٹیوں اور غیر کانگریس و غیر بی جے پی اتحاد کی شکل میں ابھرنے والے تیسرے محاذ کی قیادت نے جناب دیوے گوڑا کو ملک کی وزارت عظمی کےجلیل القدر منصب پر فائز کیا۔ حالانکہ انہیں اس کی زیادہ خواہش نہیں تھی۔

جناب دیوے گوڑا، ۳۰ مئی ۱۹۹۶ کو کرناٹک کی وزارت اعلیٰ کے منصب سے مستعفی ہو کر ہندوستان کے گیارہویں وزیر اعظم کے طور پر اِس منصب پر فائز ہوئے۔

جناب اندرکمار گجرال

۲۱؍ اپریل ۱۹۹۷ – ۱۹؍ مارچ ۱۹۹۸ | جنتال دل

جناب اندرکمار گجرال

جناب اندر کمار گجرال نے ۲۱؍ اپریل ۱۹۹۷ کو، دوشنبہ کے روز، بھارت کے ۱۲ہویں وزیر اعظم کے طور پر حلف لیا۔

جناب گجرال، آنجہانی جناب اوتار نارائن گجرال اور آنجہانی محترمہ پشپا گجرال، کے بیٹے تھے۔ انہوں نے ایم اے، بی کام، پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ ۴ دسمبر ۱۹۱۹ کو جہلم (غیر منقسم پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ وہ اور محترمہ شیلا گجرال، ۲۶ مئی ۱۹۴۵ کو رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔

جناب گجرال کا تعلق آزادی کے سپاہیوں کے خاندان سے تھا: ان کے والدین نے پنجاب میں آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا تھا۔ گیارہ سال کی کم عمری میں ہی، وہ بذاتِ خود ۱۹۳۱میں آزادی کی جدوجہد میں شریک ہوئے اور جہلم میں نوجوان لڑکوں کی تحریک کی نمائندگی کرنے کے لئے گرفتار ہوئے، جس کے نتیجے میں انہیں بے رحمی سے پیٹا گیا۔ ۱۹۴۲ میں، بھارت چھوڑو تحریک کے دوران، وہ قید بھی ہوئے۔

بھارت کے وزیر اعظم بننے سے پہلے، جناب گجرال، یکم جون ۱۹۹۶ کو خارجی امور کے وزیر بنے اور ۲۸؍جون ۱۹۹۶ کو وزارتِ آبی وسائل کا اضافی چارج بھی سنبھالا۔ ۱۹۹۰۔۱۹۸۹کے دوران، وہ خارجی امور کے وزیر رہے۔ ۱۹۷۶ سے لے کر ۱۹۸۰ تک ، وہ یو ایس ایس آر میں بھارت کے سفیر (کابینہ رینک)بھی رہے اور انہوں نے ۱۹۶۷ سے ۱۹۷۶ کے دوران، درج ذیل وزارتی ذمہ داریاں سنبھالیں:

وزیر برائے مواصلات اور پارلیمانی امور؛
وزیر برائے اطلاعات اور نشریات و مواصلات؛
وزیر برائے تعمیر اور ہاؤسنگ؛
وزیر برائے اطلاعات و نشریات؛
وزیر برائے منصوبہ بندی

پارلیمانی عہدوں کی ذمہ داریاں:

جون ۱۹۹۶ سے راجیہ سبھا میں ایوان کے لیڈر کی ذمہ داری ادا کی ؛ ۱۹۹۳سےاپریل ۱۹۹۶تک، کامرس اور ٹیکسٹائل کے امور پر پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے؛ اپریل ۱۹۹۶ تک، خارجہ امور کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے رکن رہے؛ ۱۹۶۴ سے ۱۹۷۶ تک اور ۱۹۸۹سے۱۹۹۱ تک، پارلیمنٹ کے ممبر رہے؛ ۱۹۹۲ میں بہار سے راجیہ سبھا کے لئے دوبارہ منتخب ہوئے؛ راجیہ سبھا میں عرضداشت(پٹیشن) کمیٹی، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور کمیٹی آن رولس کے ممبر رہے ؛ راجیہ سبھا کی ذیلی قانون ساز کمیٹی کے رکن رہے ؛ راجیہ سبھا کی عام مقاصد کی کمیٹی اور راجیہ سبھا کی خارجہ امور پر اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن رہے ۔

دیگر اہم عہدوں کی ذمہ داریاں:

بھارت کی جنوبی ایشیائی تعاون کونسل کے چیئرمین رہے؛ سرمایہ کاری منصوبہ بندی نگرانی کمیٹی کے رکن رہے؛ دفاعی مطالعات اور تجزیہ کاری کے ادارے (آئی ڈی ایس اے)کے صدر رہے؛ فروغ اردو (گجرال کمیٹی) کی سرکاری کمیٹی کے چیئرمین رہے؛ ۶۴۔۱۹۵۹ کے دوران، نئی دہلی میونسپل کونسل کے نائب صدر رہے؛ لاہور طلبا یونین کے صدر رہے؛ پنجاب اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے جنرل سکریٹری رہے؛ کلکتہ، سری نگر اور دہلی میں اپوزیشن کی اتحادی جماعتوں کے محاذ کے اجلاس کے کنوینر اور ترجمان رہے۔

بین الاقوامی وفود:

۱۹۹۶ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لئے بھارتی وفد کے لیڈر رہے؛ ۱۹۹۵ میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کنونشن میں بھارتی وفد کی قیادت کی ذمہ داری انجام دی؛ ۱۹۹۰ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لئے بھارتی وفد کی رہنمائی کے فرائض انجام دیے؛ ۱۹۹۰ میں اقتصادی ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس میں ہندوستانی وفد کی قیادت کی؛۱۹۷۷ میں تعلیم اور ماحولیات کے موضوع پر یونیسکو کانفرنس میں بھارتی وفد کی سربراہی کے فرائض انجام دیے؛ ۱۹۷۰، ۱۹۷۲ اور۱۹۷۴میں یونیسکو اجلاس میں ہندوستانی وفد کے متبادل لیڈر کی حیثیت سے شرکت کی؛۱۹۷۳ میں پیرس میں منعقدہ، انسان اور نئے مواصلاتی نظام، کے موضوع پر یونیسکو سیمینار میں ہندوستانی وفد کی نمائندگی کی؛ ۱۹۹۵ میں بخاریسٹ میں منعقدہ بین پارلیمانی یونین کانفرنس میں وفد کی نمائندگی کی؛۱۹۷۴ میں اسٹاک ہوم میں ماحولیات کے موضوع پر منعقدہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھارتی وفد کے متبادل لیڈر کی حیثیت سے شرکت کی؛ ۱۹۷۵ میں گبون، کیمرون، کونگو، چاڈ اور وسطی افریقی جمہوریہ میں بھارت کے خصوصی سفیر کے منصب کے فرائض انجام دیے؛ ۱۹۶۶ میں جمہوریہ مالی کے افتتاح کی تقریب میں بھارت کے خصوصی سفیر کی حیثیت سے شرکت کی ؛ ۱۹۶۱ میں بلغاریہ میں خصوصی سفیر رہے؛ سری لنکا، بھوٹان، مصر اور سوڈان کے سرکاری دوروں کے دوران مرکزی وزیر کی حیثیت سے کام کیا؛ بھارت کی جنوبی ایشیائی تعاون کونسل کے چیئرمین رہے؛ ۱۹۶۱ میں ایشیائی روٹری اجلاس کے مشترکہ چیئرمین رہے۔

سماجی تنظیموں سے روابط:

جالندھر میں، ناری نکیتن ٹرسٹ اور اے این گجرال میموریل اسکول کے صدر رہے؛ ہند۔پاک فرینڈشپ سوسائٹی کے صدر رہے؛ دہلی آرٹ تھیئٹر کے بانی صدر رہے؛ لوک کلیان سمیتی کے نائب صدر رہے؛ ۱۹۶۰میں دہلی کے روٹری کلب کے صدر رہے؛ ۱۹۶۱ میں ایشیائی روٹری اجلاس کے مشترکہ چیئرمین بنے۔

خصوصی دلچسپیاں:

جناب گجرال، قومی اور بین الاقوامی امور اور تھئیٹر سے متعلق امور کے مصنف اور مبصر تھے۔

جناب اٹل بہاری واجپئی

۱۹؍مارچ ۱۹۹۸ – ۲۲؍ مئی ۲۰۰۴ | بھارتیہ جنتا پارٹی

جناب اٹل بہاری واجپئی

عوام میں مقبول، اٹل بہاری واجپئی اپنے مضبوط سیاسی عقائد کے لئے جانے جاتے ہیں۔ ۱۳؍اکتوبر، ۱۹۹۹ کو انہوں نے نئی مخلوط حکومت‘قومی جمہوری اتحاد’ کے رہنما کے طور پر لگاتار دوسری میعاد کے لئے بھارت کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا۔۱۹۹۶ میں وہ کچھ مدت کے لئے وزیر اعظم بنے تھے۔ پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد وہ پہلے ایسے وزیر اعظم ہیں جو لگاتار دو مرتبہ منتخب کیے گئے۔

جناب اٹل بہاری واجپئی، ایک سینئر رکن پارلیمان جن کا سیاسی کرئیر چار دہائیوں پر محیط ہے، لوک سبھا (ایوانِ زیریں) کے لئے نو (۹)اور راجیہ سبھا (ایوانِ بالا) کے لئے دو(۲) مرتبہ منتخب ہوئے، جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔

وزیر اعظم نے، وزیر خارجہ، پارلیمنٹ کی مختلف اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئر پرسن اور اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے آزادی کے بعد کے بھارت کی داخلی اور خارجی پالیسی کو نئی شکل دینے میں سرگرم شراکت داری نبھائی۔۔

جناب واجپئی کا قوم پرست سیاست میں پہلی مرتبہ داخلہ اس وقت ہوا جب ۱۹۴۲ میں وہ بھارت چھوڑو تحریک میں شامل ہوئے جو بالآخر برطانوی استعمار کے خاتمے کا باعث بنی۔ وہ پولیٹکل سائنس اور قانون کے طالب علم تھے۔ کالج کے دنوں میں ہی ان کی دلچسپی داخلی امور میں بڑھی۔ انہوں نے اپنی اس دلچسپی کو برسوں تک پروان چڑھایا اور وہ کثیر جہتی اور باہمی پلیٹ فارموں پر بھارت کی نمائندگی کرتے ہوئے اس شوق کو بڑی مہارت کے ساتھ بروئے کار لائے۔

جناب واجپئی نے صحافی کے طور پر اپنے کرئیر کا آغاز کیا جو انہیں ۱۹۵۱ میں بھارتیہ جن سنگھ میں شامل ہونے کے بعد چھوڑنا پڑا۔ آج کی بھارتی جنتا پارٹی کو پہلے بھارتیہ جن سنگھ کے نام سے جانا جاتا تھا، جو کہ قومی جمہوری اتحاد کا ایک اہم حصہ ہے۔ وہ ایک شاعر بھی ہیں جنہیں نقادوں کے ذریعہ کافی ستائش ملی ہے۔ اپنی سیاسی مصروفیات میں سے وقت نکال کر وہ موسیقی سننے اور کھانے بنانے کے اپنے شوق پورے کرتے ہیں۔

ان کی پیدائش ۲۵؍ دسمبر ۱۹۲۴ کو گوالیار (جو اب ہندوستانی ریاست مدھیہ پردیش کا حصہ ہے) میں ایک اسکول ٹیچر کے گھر ہوئی ۔ جناب واجپئی کی عوام میں مقبولیت ان کی سیاسی سوجھ بوجھ اور ہندوستانی جمہوریت کی دین ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں میں، وہ ایک ایسے رہنما کے طور پر ابھرے ہیں جو پورے عالم کے تئیں اعتدال پسندانہ رویہ ہے۔ وہ جمہوری اقدار کے لئے عزم مصمم رکھتے ہیں۔

خواتین کی ترقی اور سماجی برابری کے ایک بڑے علمبردار کے طور پر جناب واجپئی، تمام ملکوں کے درمیان بھارت کو ایک دور اندیش، ترقی یافتہ، مضبوط اور خوشحال ملک کے طور پر آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک ایسے بھارت کی نمائندگی کرتے ہیں جس ملک کی تہذیبی تاریخ ۵۰۰۰ سال پرانی ہے اور جو آئندہ ۱۰۰۰ سالوں میں درپیش مسائل کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے۔

انہیں نصف صدی سے زائد تک سماج اور قوم کی خدمت کرنے اور ملک کے لئے اپنی زندگی کو وقف کر دینے کے لئے، ہندوستان کے دوسرے سب سے بڑے شہری اعزاز، پدم وبھوشن، سے نوازا گیا۔ ۱۹۹۴ میں انہیں بھارت کا ’بہترین پارلیمان‘ کا خطاب دیا گیا۔ ایک قول کے مطابق : ’’اپنے نام کی طرح سچے، اٹل جی ایک ممتاز قومی رہنما ، ایک عالم سیاست داں، ایک بے لوث سماجی کارکن، ایک بااثر خطیب، شاعر اور مصنف، صحافی اور کثیر پہلوئی شخصیت کے مالک فرد ہیں۔ اٹل جی عوام کی باتوں کو غور سے سنتے ہیں اور خواہشوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے کام قوم کے تئیں ان کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر منموہن سنگھ

۲۲؍ مئی ۲۰۰۴ – ۲۶؍مئی ۲۰۱۴ | انڈین نیشنل کانگریس

ڈاکٹر منموہن سنگھ

ہندوستان کے چودہویں وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو بجا طور پر دانشور اور محقق کہا جاتا ہے۔ انہیں کام کے تئیں جاں فشانی اور علمی نظریات کے تئیں ان کی رسائیت اور سادہ مزاجی کے لئے انتہائی عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جا تا ہے۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ کی پیدائش ۲۶؍ستمبر ۱۹۳۲ کو، غیر منقسم ہندوستان کے پنجاب میں ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی میٹرک تک کی تعلیم پنجاب یونیورسٹی سے ۱۹۴۸ میں مکمل کی۔ ان کا علمی کرئیر انہیں پنجاب سے برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی لے گیا، جہاں انہوں نے۱۹۵۷ میں معاشیات کے موضوع میں فرسٹ کلاس آنرز کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں ڈاکٹر سنگھ نے ۱۹۶۲میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے نیو فیلڈ کالج سے معاشیات میں ڈاکٹر آف فلاسفی یعنی ڈی فل کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی پہلی تصنیف’انڈیاز ایکسپورٹ ٹرینڈس اینڈ پروسپیکٹس فار سیلف۔ سسٹینڈ گروتھ‘ آکسفورڈ کے کلیرنڈن پریس نے ۱۹۶۴ میں شائع کی تھی۔ وہ ہندوستان کی اندرونِ ساختہ تجارتی پالیسی کے شروع سے ہی نکتہ چیں رہے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی اور دہلی کے معروف دہلی اسکول آف اکنامکس میں تدریس کے فرائض انجام دینے کے دوران ان کی علمی اسناد میں مزید رخشندگی پیدا ہو گئی۔ اسی دوران انہوں نے ایک مختصر مدت تک یو این سی ٹی اے ڈی کے سکریٹیرئیٹ کی خدمات بھی انجام دیں۔ اس کے نتیجے میں انہیں ۱۹۸۷ سے ۱۹۹۰ تک جینیوا میں ساؤتھ کمیشن کے سکریٹری جنرل کے منصب کی ذمہ داری کی ادائیگی تفویض کی گئی۔

ڈاکٹر سنگھ نے ۱۹۷۱ میں کامرس کی وزارت میں مشیر معاشیات کی حیثیت سے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ جس کے فوراً بعد ۱۹۷۲ میں انہیں وزارتِ ماحولیات میں معاشی امور کے مشیر اعلیٰ کے منصب پر فائز کر دیا گیا۔ ڈاکٹر سنگھ نے جن متعدد سرکاری مناصب کے فرائض کی ادائیگی کی ان میں؛ وزارتِ مالیات کے سکریٹری؛ منصوبہ بندی کمیشن کے نائب چیئرمین؛ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر؛ وزیر اعظم کے مشیر اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے چیئرمین جیسے باوقار مناصب شامل ہیں۔

آزاد ہندوستان کی معاشی تاریخ میں ایک موڑ اس وقت آیا جب ڈاکٹر سنگھ نے ۱۹۹۱ سے ۱۹۹۶ تک پانچ برس کی مدت کے لئے ہندوستان کے وزیر مالیات کے منصب کی ذمہ داری سنبھالی۔ معاشی اصلاحات کی جامع پالیسی کی تیاری میں ان کی خدمات آج دنیا بھر میں یاد کی جاتی ہیں۔ ہندوستان میں ان دنوں ایک عام نظریہ یہ ہے کہ یہ مدت ڈاکٹر سنگھ کی ہمہ جہت اور ہمہ پہلو شخصیت سے عبارت تھی۔

ڈاکٹر سنگھ اپنی عوامی زندگی میں جن متعدد اعزازات سے سرفراز ہوئے ان میں انتہائی بیش قیمت اعزاز یعنی ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا شہری اعزاز پدم وبھوشن (۱۹۸۷)؛ انڈین سائنس کانگریس کا جواہر لال نہرو پیدائش صدی اعزاز (۱۹۹۵)؛۱۹۹۳ اور ۱۹۹۴ کے دوران، فائنینس منسٹر آف دی ایئر کا ایشیا منی ایوارڈ، ۱۹۹۳ کا یورو منی کا فائنانس منسٹر ایوارڈ، ۱۹۵۶ کا کیمبرج یونیورسٹی کا آدم اسمتھ پرائز، اور کیمبرج کے سینٹ جونس کالج میں بہترین علمی کارکردگی کے لئے ۱۹۵۵کا رائٹس پرائز شامل ہے۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر سنگھ کو جاپان کی نیہون کیزائی شمبن جیسی متعدد دیگر باوقار تنظیموں نے بھی اعزاز سے سرفراز کیا ہے۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر سنگھ کو متعدد یونیورسٹیوں نے اعزازی ڈگریوں سے بھی سرفراز کیا ہے جن میں کیمبرج اور آکسفورڈ کی یونیورسٹیاں شامل ہیں۔

ڈاکٹر سنگھ نے متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں اور عالمی تنظیموں میں ہندوستان کی نمائندگی بھی کی ہے۔ انہوں نے ۱۹۹۳میں، قبرس میں، دولت مشترکہ سربراہانِ مملکت کے اجلاس میں ہندوستانی وفد کی قیادت بھی کی اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے ۱۹۹۳ میں ہی ویانا میں انسانی حقوق پر عالمی کانفرنس میں ہندوستانی وفد کی قیادت کی۔

جہاں تک سیاسی کرئیر کا سوال ہے، ڈاکٹر سنگھ،۱۹۹۱ سے ۱۹۹۸ تک ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا کے رکن رہے، جہاں انہوں نے ۱۹۹۸سے ۲۰۰۴تک کی مدت کے دوران اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ ۲۰۰۴ کے عام انتخابات کے بعد،۲۲؍مئی ۲۰۰۴کو ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ہندوستان کی وزارتِ عظمیٰ کے منصب کا حلف دلایا گیا۔

ڈاکٹر سنگھ اور ان کی اہلیہ محترمہ گرشرن کور کو تین بیٹیوں کی نعمت حاصل ہے۔

بشکریہ پی ایم انڈیا ویب سائٹ

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading