اورنگ آباد : 10 مارچ (یو این آئی)ہم کل بھی بے قصور تھے اور آج بھی بے قصور ہیں، لیکن گزشتہ 20 سالوں کے دوران زبردست ذہنی و جسمانی تکالیف اور معاشی پرشیانیاں برداشت کرنے اور بے قصور ہونے کے باوجود دیڑھ سال تک جیل میں گزارنے کے ساتھ ساتھ سماجی طور پر بائیکاٹ کیے جانے، کاروبار کے تباہ ہونے اور نوکریوں سے نکال دیے جانےکے باعث جو کوفت اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اس کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ اس طرح کا سوال اٹھاٹے ہوئے 6 مارچ 2021 کو سورت کی عدالت سے بری قرار پائے 123 افراد میں سے مراٹھواڑا سے تعلق رکھنے والے 2 افرا ضیاءالدین صدیقی( اورنگ آباد ) اور عبدالستار میمن ( جالنہ) نے آج اورنگ آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا کہ قانونی ماہرین سے مشورہ کرنے کے بعد جلدہی ازالہ کے لیے ایک پٹیشن داخل کی جائے گی۔ اس موقع پر انھوں نے موجودہ نظام عدل اور اس کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا کہ 123بےقصور افراد جن میں ڈاکٹرس، انجینئرس، پروفیسرس، علماء اور ایمہ اکرام شامل تھے، انھیں انصاف دینے میں پورے 20 سال لگ گئے۔!
20 سالوں کے دوان ان لوگوں کو جو ذہنی کرب اور مالی پریشانیاں برداشت کرنا پڑی اس کی مختصراً تفصیل بتاتے ہوئے ضیاء الدین صدیقی نے کہا کہ، دسمبر 2001 میں ، آل انڈیا مائناریٹی ایجوکیشن بورڈ کے ایک سیمنار میں شرکت کے لیے پہنچے ان افراد کو پولیس نے ، یہ الزام لگا کر کے یہ لوگ ممنوعہ تنظیم’ اسٹؤڈنٹس اسلامک مؤمنٹ آف انڈیا ‘( سیمی ) کو مضبوط کرنے اور اسے نئی زندگی دینے کے لیے بھارت بھر سے یہاں جمع ہوئے ہیں، گرفتار کر لیا اور ان پر یو اے پی اے 1967 (UAPA) کی مختلف دفعات لگا کر مقدمہ درج کر دیا تھا۔ جس کے بعد ان لوگوں کے 15 ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارناپڑے۔
اس دوران میڈیا نے ان کے خلاف بڑے پیمانے پر جھوٹا پرپگنڈا کیا، جس سے سماج ، دوست احباب اور رشتہ داروں میں انکے تعلق سے بدگمانیاں پیدا ہوئی اورانکی شبیہ خراب ہوئی۔جس سے کئی افراد کا روزگار متاثر ہوا، نوکریوں سے ہاتھ دھونا بڑا، شادیوں میں روکاوٹیں پیدا ہوئیں، اس کی ایک مثال دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایک صاحب کا تقریباً 100 جگہ لڑکی والوں نے محض اس مقدمہ اور سیمی سے تعلق کے سبب رشتہ منظور نہیں کیا۔
انھوں نے بتایاکہ، کورٹ نے پولیس کی جانب سے لگائی گئی دفعات کو غیر اطمنان بخش اور باطل قرار دے کر بری کیے جانے والے 123 افراد میں مہاراشٹڑا سے 44، گجرات سے 25، مدھیہ پردیش سے 13، کرناٹک سے 11، اتر پردیش سے 10، راجھستان سے 9 ویسٹ بنگال اور تامل ناڈو سے 4 ، 4 ، بہار سے 2 اور چھتیس گڑھ سے ایک فرد شامل ہے۔ ان میں سے 7افراد انتقال کر چکے ہیں، اور 5 افراد اب بھی جیل میں ہیں کیونکہ ان پر مزید الزامات اور دوسرے دفعات لگائے گئے ہیں۔
اس موقع پر اپنی بے قصور قرار دیے جانے پرانھوں اللہ شکر اداکرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے بھی بے قصور تھے اور آج بھی بے قصور ہیں۔ لیکن اس دوران 20 سالوں میں ہم نے جو تکلیف اورپریشانیاں برداشت کیں اس کے لیے ذدمہ دار کون؟ اورکیا ان افراد پر کارروائی ہوگی جنھوں نے ہم بے گناہوں کو جھوٹے کیس میں پھنسا کر ہماری زندگی اجرن کردی تھی۔