لائیو:, اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ ختم، ووٹرز کی ریکارڈ تعداد نے حقِ رائے دہی استعمال کیا

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے انتخابی حکام سے ووٹنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ اسرائیل کی الیکشن کمیٹی کے مطابق انتخابات میں ریکارڈ تعداد میں ووٹرز نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔

اسرائیلی نشریاتی اداروں کے ایگزٹ پولز ظاہر کرتے ہیں کہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے حکمراں اتحاد کے مخالف گاڈی آئزنکوٹ کی جماعت پر مشتمل اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد اسرائیلی انتخابات میں سب سے بڑے گروپ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یہ حکمران اتحاد سے تو آگے ہے، لیکن اسے اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار نشستوں کی تعداد سے کافی کم نشستیں ملی ہیں۔

وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت ’لیکوڈ‘ اسرائیلی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی واحد جماعت بننے کی پوزیشن میں ہے۔

اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ 120 ارکان پر مشتمل ہے اور انتخابات میں کامیابی کے لیے کسی بھی جماعت کے لیے 61 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہے۔

عرب اسرائیلی جماعتوں نے ریکارڈ تعداد میں نشستیں حاصل کی ہیں۔

سرکاری نتائج کا اعلان اسرائیلی وقت کے مطابق رات 10 بجے کے بعد کر دیا جائے گا، تاہم تقریباً چھ لاکھ ’غیر حاضری والے ووٹ‘ جن میں سے تقریباً تمام فوجیوں کے ہیں اور جو کل ووٹوں کا تقریباً 10 فیصد بنتے ہیں، ان کی مکمل گنتی جمعرات تک مکمل نہیں ہو سکے گی۔

تمام نتائج سامنے آنے اور تمام سیاسی دھڑوں سے مشاورت کے بعد، اسرائیل کے صدر اس پارٹی رہنما کو حکومت سازی (اتحادی حکومت بنانے) کی دعوت دیں گے جن کے بارے میں انھیں یقین ہو کہ وہ کامیابی کے ساتھ حکومت تشکیل دے سکتے ہیں۔