ہم بھی اگر "سچّے” ہوتے…!!

ہیلو!
ہاں جی میں ہی بول رہا ہوں..
جی فرمائیے نا..

اوہ!!
معاف کرنا جناب…آپ کا کام نہیں کر سکتا…
اِس وقت کافی مصروف ہوں میں…
(حالانکہ پیر پسارے پلنگ پر دراز ٹی وی دیکھنے میں مگن ہیں)

دوستو اسطرح کے کئی واقعات آپ کی نظروں سے گزرے ہوںگے…
آج کل ہماری طرح کا کوئی بھی شخص فون پر بلا جھجک جھوٹ بول دیتا ہے…
یہ تو ہ9وئی فون کی بات
ہم نے تو ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو اپنی بڑائی بیان کرنے کے سلسلے میں جھوٹ کی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں
ایک دور تھا جب جھوٹ بولنا صرف سیاست دانوں کی خاصیت ہوا کرتی تھی…
پر آج تو سیاست دان بھی یہ سوچ کر شرما رہے ہیں کہ جو "اچھائی” ہم لوگوں کے لئے مخصوص تھی وہ عام لوگوں میں اتنی زیادہ پھیل گئی ہے…
چلیں جھوٹی باتیں, جھوٹی قسمیں, جھوٹے وعدے اور جھوٹے دعوے یہاں تک تو ٹھیک تھا…
مگر حد تو یہ ہو گئی کہ اب محبت جیسا خالص جذبہ بھی جھوٹا ہونے لگا ہے…
اور اسکا سراسر الزام ہم "دیوآنند” بابو کو دیں گے..
کیوں کہ سب سے پہلے انھوں نے ہی لوگوں کو جھوٹی محبت کرنے کے لئے اکسایا تھا…(پل بھر کے لئے کوئی ہمیں پیار کر لے”جھوٹا” ہی سہی)

ایک جھوٹ کے زریعے کئی لوگوں کے بڑے مشکل کام آسان ہونے لگے ہیں

کسی کو چھٹی چاہئے،، جھٹ سے میڈیکل لیو دی اور چلے تفریح کو..
کسی کو ٹالنا ہے،،، فون پر کہہ دو کہ مصروف ہوں..
کسی کی کال اٹینڈ نہ کرو،،، وہ اعتراض کرے تو کہہ دو کہ فون چارجنگ پر تھا…
وقتی طور پر تو اس جھوٹ سے ہم کو فائدہ مل جائےگا
مگر اسکے نقصان بڑے دور رس ہوتے ہیں…
اور بھائی ویسے بھی ہم تو ابھی کی سوچنے والے ہیں…
کل کس نے دیکھا؟؟؟

کاش فرمان رسالت مآب ہی مدنظر رکھتے کہ مومن شرابی اور زانی ہوسکتا ہے مگر جھوٹا نہیں ہوسکتا…

آج جھوٹ کے دائرے کی وسعت کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ ہم اب شائد ہی کبھی سچے ہو سکیں گے…

بس جسطرح "اچھے دن” آنے کی حسرت لئے بیٹھے ہیں
اسی طرح دل میں ایک اور حسرت بٹھا لیتے ہیں
کہ کاش..
ہم بھی اگر "سچّے” ہوتے…!!

🖋اطہر کلیم انصاری، ناندیڑ (مہاراشٹرا)

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading