ینی تال: اتراکھنڈ میں ہلدوانی فسادات کے 55 ملزمین کو بالآخر چہارشنبہ کو ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی۔ عدالت نے سیشن کورٹ کا حکم مسترد کر دیا۔ ملزمین کی جانب سے سیشن کورٹ کے اس حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس میں ان کی ضمانت اس سال 24 مئی کو مسترد کر دی گئی تھی اور ان کی تحویل میں توسیع کی گئی۔
ان درخواستوں کی سماعت جسٹس منوج کمار تیواری اور جسٹس پنکج پروہت کی ڈبل بنچ میں ہوئی۔ بنچ نے 24 اگست کو اس معاملے کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ آج بنچ نے اپنا فیصلہ جاری کیا۔ ملزمین کی جانب سے کہا گیا کہ پولیس 90 دنوں کے اندر سیشن کورٹ میں ان کیخلاف چارج شیٹ داخل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی حراست میں توسیع کیلئے کوئی ٹھوس بنیاد نہیں دی گئی۔ نچلی عدالت نے غلط طریقے سے ان کی حراست میں توسیع کی ہے ۔
یہ بھی کہا گیا کہ نچلی عدالت نے بھی ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ محکمہ پولیس نے کہا کہ ضابطے کے مطابق حراست میں توسیع کی گئی ہے ۔ مدت حراست میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا۔ عدالت کو حراست میں توسیع کا اختیار ہے ۔ پولیس کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ تفتیشی افسر نے قواعد کے مطابق 150 دنوں کے اندر بعد کی چارج شیٹ پیش کی تھی۔ ملزمین کی نمائندگی سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ نتیا رام کرشنن اور ایڈوکیٹ سی کے شرما نے کی۔
آج عدالت نے حکومتی دلائل کو مسترد کرتے ہوئے تمام کی ضمانت منظور کر لی۔ اسے حکومت کیلئے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے ۔اس سال 8 فروری کو ہلدوانی کے بنبھول پورہ میں سرکاری زمین سے تجاوزات ہٹانے کے دوران ہنگامہ ہوا تھا۔ الزام ہیکہ ایک خاص برادری کے لوگوں نے بنبھول پورہ پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا، آگ لگائی اور توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس واقعے میں 5 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ۔ پولیس نے تقریباً 100 فسادیوں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔
ان پر فسادات بھڑکانے اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے ایکٹ) کا الزام تھا۔ چونکہ پولیس 90 دنوں کے اندر چارج شیٹ داخل کرنے میں ناکام رہی، انہوں نے سیشن کورٹ سے ملزم کی تحویل میں توسیع کا مطالبہ کیا۔ ہلدوانی سیشن کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کی تحویل میں توسیع کرتے ہوئے ملزم کی ضمانت مسترد کردی تھی۔