نئی دہلی (ایجنسی): کینسر جیسی سنگین بیماری کا علاج کرانے والے مریضوں کے لیے مرکزی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ کینسر کی مہنگی دواؤں کی قیمتوں میں کمی لانے اور مریضوں پر علاج کے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو کم کرنے کے مقصد سے حکومت نے کینسر کی دواؤں پر تجارتی منافع کی حد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے مریضوں کو بڑی راحت ملنے کی امید ہے۔
اطلاعات کے مطابق، حکومت نے کینسر کی دواؤں پر تجارتی منافع کی حد زیادہ سے زیادہ 30 فیصد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد دوا ساز کمپنیوں، تقسیم کاروں اور خوردہ فروشوں کی جانب سے دواؤں کی فروخت پر حاصل کیے جانے والے منافع کو منظم کرنا اور مریضوں کو مناسب قیمت پر ضروری دوائیں فراہم کرنا ہے۔
کینسر کی دواؤں کی قیمتوں میں کتنی کمی ہوگی؟
کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی کئی دوائیں انتہائی مہنگی ہوتی ہیں۔ مریضوں کو طویل عرصے تک علاج، کیموتھراپی اور دیگر ضروری طبی سہولتوں سے گزرنا پڑتا ہے، جس کے باعث متوسط طبقے اور غریب خاندانوں پر بھاری مالی بوجھ پڑتا ہے۔
حکومت کے نئے فیصلے کے بعد بعض کینسر مخالف دواؤں کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت میں نمایاں کمی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بعض رپورٹوں میں تقریباً 110 دواؤں کی قیمتوں میں 70 فیصد تک کمی کا امکان بتایا گیا ہے، تاہم یہ کمی تمام دواؤں پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہوگی۔ اصل فائدہ متعلقہ دوا کی موجودہ قیمت، اس پر لاگو ہونے والے ضوابط اور نئی قیمت کے تعین پر منحصر ہوگا۔
تمام اقسام کی دواؤں پر توجہ
اس اقدام کا مقصد کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی ضروری اور دیگر دواؤں کی قیمتوں کو زیادہ مناسب بنانا ہے۔ تجارتی منافع پر حد مقرر ہونے سے دواؤں کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کینسر کے مریضوں کے لیے یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ علاج کے دوران کئی مرتبہ مہنگی دوائیں خریدنی پڑتی ہیں۔ ایسے میں دواؤں کی قیمتوں میں کمی سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو مالی راحت مل سکتی ہے۔
بجٹ میں بھی کینسر کے مریضوں کے لیے راحت
مرکزی بجٹ 2026-27 میں بھی کینسر کے مریضوں کو راحت پہنچانے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا۔ بجٹ میں 17 زندگی بچانے والی دواؤں پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز شامل تھی، تاکہ ان دواؤں کی درآمدی لاگت اور علاج کے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ، ملک میں کینسر کے علاج کی سہولتوں کو بہتر بنانے اور طبی خدمات تک رسائی بڑھانے کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مریضوں کو کیا فائدہ ہوگا؟
حکومت کے اس فیصلے سے کینسر کے مریضوں کو مناسب قیمت پر دوائیں دستیاب ہونے کی امید ہے۔ خاص طور پر ان خاندانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو طویل مدتی علاج کے اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
تاہم، مریضوں کو کسی دوا کی نئی قیمت معلوم کرنے کے لیے متعلقہ دوا کا نام، اس کی موجودہ قیمت اور نظرثانی شدہ قیمت کی تصدیق کرنی چاہیے۔ تمام دواؤں کی قیمتوں میں یکساں کمی فرض کرنا درست نہیں ہوگا۔مرکزی حکومت کے اس اقدام کو کینسر کے علاج کو نسبتاً سستا بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔