روسی لیب ورکر کی پُراسرار موت: کیا کووڈ کے بعد طاعون عالمی وبا کی شکل اختیار کر سکتا ہے؟

آپ میں سے بہت سے لوگ تاریخ کی ہولناک وبا ’بلیک ڈیتھ‘ سے واقف ہوں گے، جس نے 14ویں صدی میں یورپ میں تباہی مچا دی تھی۔ بوبونک اور نمونیائی طاعون کی اس وبا سے ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ یورپ کی آبادی کا تقریباً ایک تہائی سے دو تہائی حصہ ختم ہو گیا تھا۔

اور اب گذشتہ ہفتے سائبیریا میں طاعون پر تحقیق کرنے والے مرکز میں ایک روسی لیبارٹری ٹیکنیشن کی موت نے سات صدیوں پہلے طاعون کی خوفناک وبا (بلیک ڈیتھ) کو ایک بار پھر موضوع بحث بنا دیا ہے۔

گذشتہ جمعے سائبیریا میں ایک خاتون کی موت ایسے نمونیا سے ہوئی جس کی وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی، تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا کہ وہ طاعون کے جراثیم کے سامنے آئی تھیں۔

28 سالہ ڈاریا شپیلووا سائبیریا کے ارکتسک علاقے میں قائم اینٹی پلیگ انسٹیٹیوٹ میں کام کرتی تھیں۔ یاد رہے کہ روسی حکام نے ابتدائی طور پر خاتون ٹیکنیشن کی موت کو طاعون سے جوڑا تھا۔ لیکن اب وہ مقامی قرنطینہ کے قیام کے حوالے سے آزاد میڈیا آؤٹ لیٹس کی رپورٹس کے باوجود اس تعلق سے انکار کر رہے ہیں۔

روسی لیبارٹری ٹیکنیشن کی موت نے جہاں ایک جانب بین الاقوامی خدشات اور نایاب متعدی بیماری کے ممکنہ لیب لیک کے بارے میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے وہیں اس خبر کے سامنے آنے کے بعد بہت سے لوگوں کے ذہن میں ایسے خدشات بھی سر اٹھا رہے ہیں کہ کیا کووڈ کی طرح طاعون بھی عالمی وبا کی شکل اختیار کر سکتا ہے؟

تو اس خاتون کے ساتھ کیا ہوا اور لوگوں کو کتنا پریشان ہونا چاہیے؟ اس پر بات کرنے سے پہلے جان لیتے ہیں کہ طاعون کیسے پھیلتا ہے اور کیا یہ موجودہ صدی میں تیزی سے پھیلنے والی کووڈ کی عالمی وبا کی طرح پھیلنے کی طاقت رکھتا ہے؟

طاعون جان لیوا مگر علاج موجود
ابھی تک شپیلووا کی موت کی وجہ کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی اور لیبارٹری ٹیسٹ جاری ہیں۔ طاعون یرسینیا پیسٹس (Yersinia pestis) نامی بیکٹیریا سے ہوتا ہے۔

طبی اعتبار سے اس کی تین اقسام ہیں۔ بوبونک طاعون، نمونیائی طاعون اور سیپٹیسیمک طاعون۔
بوبونک طاعون اس بیماری کی سب سے عام قسم ہے اور یہ پسوؤں کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔

انسانی جسم میں داخل ہونے کے بعد یہ بیکٹیریا لمف نوڈز تک پہنچتا ہے، جہاں یہ تکلیف دہ گلٹیاں پیدا کرتا ہے جنھیں ’بوبوز‘ کہا جاتا ہے۔ یہ گلٹیاں ران کی جڑ، گردن اور بغلوں میں نمودار ہوتی ہیں۔ بوبونک طاعون کا ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونا کم ہوتا ہے، لیکن یہ بیکٹیریا خون میں پھیل کر سیپٹیسیمک طاعون یا پھیپھڑوں تک پہنچ کر نمونیائی طاعون کا سبب بن سکتا ہے۔

طاعون کی دیگر اقسام کے برعکس، نمونیائی طاعون ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ تب پھیلتا ہے جب متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے خارج ہونے والے باریک قطرے ہوا میں پھیل جائیں۔

نمونیائی طاعون کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ عموماً جان لیوا ثابت ہوتا ہے، اور جراثیم کے سامنے آنے اور علامات ظاہر ہونے کے درمیان وقت صرف 24 گھنٹے تک بھی ہو سکتا ہے۔

14ویں صدی میں بوبونک اور نمونیائی طاعون سے پیدا ہونے والی بلیک ڈیتھ نے یورپ کی آبادی کا تقریباً دو تہائی حصہ ختم ہو گیا تھا۔ اس وبا کے وسیع پھیلاؤ میں نئے کھلنے والے تجارتی راستوں اور جہازوں کے ذریعے اناج اور آٹے جیسی اشیا کی نقل و حمل نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

تاہم ماہرین کے مطابق آج کے دور کے حالات طاعون کے پھیلاؤ کے لیے کہیں کم سازگار ہیں۔

اگرچہ یرسینیا پیسٹس کی نمونیائی قسم کا علاج نہ کیا جائے تو یہ تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے، لیکن آج اسے سادہ اور وسیع پیمانے پر دستیاب اینٹی بایوٹکس کی مدد سے قابو کیا جا سکتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں غربت سے وابستہ متعدی بیماریوں کے پروفیسر پیئرو اولیارو کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس بوبونک طاعون کے لیے دو ایسے علاج موجود ہیں جو بہت مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔‘

طاعون کے باعث انسانی تکلیف کے خدشات برقرار کیوں
تاہم یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ طاعون صرف تاریخ کا حصہ بن جانے والی بیماری نہیں۔

تاہم اگرچہ طاعون کے کسی پھیلاؤ کے عالمی سطح پر وبا بن جانے کا امکان کم ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس بیماری کے علاج اور روک تھام پر سرمایہ کاری کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔

اولیارو کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ عالمی سطح پر یہ بیماری بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر نہ کرے، لیکن یہ پھر بھی انسانی تکلیف کا باعث بنتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک اہم بیماری ہے، اس لیے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ طاعون اب بھی موجود ہے۔ طاعون افریقہ، ایشیا، جنوبی امریکہ اور یہاں تک کہ امریکہ میں بھی چوہوں اور دیگر کترنے والے جانوروں کی آبادی میں مقامی طور پر موجود ہے۔‘

ہر سال انسانوں میں بھی اس بیماری کے کیس سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ میں اوسطاً ہر سال طاعون کے سات انسانی کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔

دنیا کے بعض حصوں میں کبھی کبھار مقامی نوعیت کی وبائیں بھی پھوٹ پڑتی ہیں، جہاں نمونیائی طاعون ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔

2017 میں مڈغاسکر میں طاعون کی ایک وبا کے نتیجے میں 2,417 کیس سامنے آئے تھے اور 209 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم اولیارو کا کہنا ہے کہ اس وبا کا خاتمہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ طاعون کی وبائیں عموماً محدود دائرے میں رہتی ہیں۔ وہ عام طور پر عالمی وبا کی شکل اختیار نہیں کرتیں۔
سائبیریا میں طاعون کے کیس سے متعلق ہم کیا جانتے ہیں؟

سائبیریا اور فار ایسٹ کے اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والی 28 سالہ ڈاریا شپیلووا کو ستمبر کے آخر میں ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ وہ تین دن بعد علاقائی دارالحکومت ارکتسک سے باہر ایک قصبے شیلیخوف میں وفات پا گئیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ 2 اکتوبر کی بات ہے لیکن بی بی سی اس کی تصدیق نہیں کر پایا۔

ہسپتال کو قرنطینہ کیا گیا، ایک مقامی ایلومینیئم پلانٹ نے ماسک کا نظام متعارف کرایا تھا اور ارکتسک میں ایک بڑے عوامی پروگرام کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

جمعے کے روز خطے کے گورنر ایگور کوبزیف نے کہا کہ روس کے چیف سینیٹری ڈاکٹر ’خاص طور پر خطرناک انفیکشن کے ایک مشتبہ کیس‘ کی تحقیقات کے لیے ارکتسک پہنچے ہیں اور حکام ان لوگوں کی نگرانی کر رہے ہیں جو شپیلووا کے ساتھ رابطے میں تھے۔

اخبار ازویسٹیا کے مطابق تقریباً 197 افراد طبی نگرانی میں تھے۔

اسی دن پڑوسی علاقے بوریاٹیا کے گورنر نے کہا کہ لیب ورکر کی موت طاعون سے ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ میں ممکنہ لیب لیک ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں ہوئیں۔ ایک مقامی صحافی کی جانب سے ایک غیر مصدقہ رپورٹ کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ محقق ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹنے کے بعد بیمار ہوئی تھیں۔

یہ موقف کیسے تبدیل ہوا؟
روسی شہریوں کے تحفظ اور صحت عامہ کی نگرانی کرنے والی ایجنسی نے ان دعوؤں پر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔ اس ہفتے اس نے کہا کہ لیب ورکر، جس کا اس نے نام نہیں لیا، کی موت نمونیا سے ہوئی تھی اور اس ٹیسٹ میں ’اس کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے متعلق کوئی مائیکرو آرگنزم نہیں ملے۔‘

اس بیان کے بعد حکومت کے حامی نیوز آؤٹ لیٹ نے طاعون کے ممکنہ کیس کا ذکر کرنے والی پانچ پوسٹس کو حذف کر دیا اور بائیکالسک قصبے کے حکام نے ممکنہ طاعون کے انفیکشن کی وجہ سے شیلیخوف کے سفر کے خلاف مشورہ دینے والے پیغام کو حذف کر دیا۔

لیکن چونکہ حکام صورتحال کی سنگینی کو کم ظاہر کر رہے تھے اس لیے آزاد مقامی نیوز ویب سائٹ پیپل آف بائیکل نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ارکتسک کے کم از کم چار ہسپتالوں کو تین ہفتوں کے قرنطینہ کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

دریں اثنا بی بی سی نیوز روسی سروس کو معلوم ہوا ہے کہ ارکتسک اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ اکتوبر کے آخر میں ایک بین الاقوامی طاعون کنٹرول کانفرنس کی میزبانی کرنے والا ہے جس میں چین، منگولیا اور کئی سابق سوویت ممالک کے سائنسدان شامل ہیں۔ بی بی سی نے اس بات کی تصدیق کے لیے انسٹی ٹیوٹ سے رابطہ کیا ہے کہ آیا یہ تقریب ہو گی۔

ایک روسی سائنس رپورٹر ارینا یاکوٹینکو نے کہا ہے کہ لیب ورکر کی موت کی وجہ کچھ بھی ہو مگر طاعون کی وبا کا خطرہ بہت کم ہے کیونکہ اس وبا کو برقرار رکھنے کے لیے جو حالات درکار ہیں وہ ترقی یافتہ ممالک میں موجود نہیں ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کے روسی پوڈ کاسٹ کو بتایا کہ ’اینٹی بائیوٹک طاعون کے خلاف اچھی طرح سے کام کرتی ہیں کیونکہ یہ بیماری اب انتہائی نایاب ہے اور اسے وسیع پیمانے پر مزاحمت پیدا کرنے کا موقع نہیں ملا ہے۔‘

بین الاقوامی ردعمل کیا ہے؟
اس کے ترجمان نے خبر رساں ادارے پولیٹیکو کو بتایا کہ ڈبلیو ایچ او نے صورتحال اور بین الاقوامی صحت عامہ پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے روسی حکام سے رابطہ کیا ہے۔

یورپی کمیشن کے ترجمان کے مطابق یورپی متعدی امراض کے نگراں ادارے ای سی ڈی سی کے ماہرین بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ امریکہ روس میں طاعون کے ممکنہ کیس کی رپورٹس کو ’بہت غور سے دیکھ رہا ہے۔‘ انھوں نے مشورہ دیا کہ امریکہ اس پر قابو پانے میں مدد کے لیے تیار ہے۔ تاہم ان کے مطابق واشنگٹن نے کریملن کے ساتھ اس معاملے پر بات نہیں کی۔

اس پر وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی بات کی ہے۔

روبیو نے آئس لینڈ کے شہر ریکجاوک میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ہم روس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ شفاف رہے اور دنیا کے ساتھ مزید معلومات شیئر کرے تاکہ ہم سب اس کے مطابق ردعمل ظاہر کر سکیں۔‘

منگل کو کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ٹرمپ کی حمایت کی پیشکش کا خیرمقدم کیا۔

پیسکوف نے بی بی سی کے روس کے ایڈیٹر سٹیوروزنبرگ کو بتایا کہ ’جب مدد کی پیشکش کی جاتی ہے تو یہ ہمیشہ بہت اچھا ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ صورت حال کے بارے میں صرف سرکاری معلومات پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading