کیا واٹس ایپ بند ہوجائے گا؟ جانئے وائرل مسیج کا سچ؟

وہاٹس ایپ پر وائرل ایک پیغام، جسمیں لکھا ہے که مرکزی حکومت اس میسیجنگ ایپلیکیشن کا استعمال ہر روز رات کو 11:30 سے صبح 6 بجے تک بند کر رہی ہے۔ اس مسیج میں لوگوں کو انتباہ دیا گیا ہے که وہ دیگر لوگوں تک یہ خبر پہنچائے اور “ایکٹیو یوزر” بنیں، ورنہ انکے اکاؤنٹ کو اندرون 48 گھنٹے “ان ویلیڈ” کر دیا جائیگا۔ اگر کسی کے اکاؤنٹ کو “ڈیلٹ کر دیا” جاتا ہے، تو اس شخص کو اپنے اکاؤنٹ کا دوبارہ استعمال کرنے کے لئے ہر مہینے 499 روپیے کا ریچارج کرنا پڑےگا، بعد میں دعویٰ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے که،

اگر ایک یوزیر “اکٹیو” بن گیا تو (وہ کم سے کم 50 لوگوں سے چیٹ) کر سکتا ہے۔ اس ایپلیکیشن کے نئے ورژن کا استعمال وہی لوگ کر پائیں گے، جس کا لوگو نیلے رنگ کا ہے۔ اگر کسی کا وہاٹسئپ نیلے رنگ میں نہیں بدلتا ہے تو اسے ہر مسیج پر 0۔01€ دینا ہوگا۔

سچ کیا ہے؟

آلٹ نیوز سے بات چیت کے دوران، وہاٹس ایپ کے ترجمان نے اسے “افواہ” بتایا۔ اسکے علاوہ، وہاٹس ایپ کے ذریعے اپنے بلاگ پر رسمی تبدیلیوں کا اعلان ہمیشہ کیا جاتا ہے اور اس طرح کی کوئی بھی وارنگ یا مسیج وہاٹسئپ کے ذریعہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔

ایسی ہی جھوٹی وارننگ کو انٹرنیٹ پر سال 2015 سے چلایا جا رہا ہے۔ اسکے علاوہ، 2012، 2013 اور 2014 میں اسی طرح کے جھوٹے دعوے دنیا کے مختلف علاقوں میں شائع ہوئے تھے اور انکی پڑتال بھی ہوئی تھی۔

فیس بک اور فیس بک ذریعہ جاری دیگر ایپلیکیشن، وہاٹسئپ اور انسٹاگرام عالمی سطح پر 9-10 گھنٹو کے لئے بند ہوئی تھی۔ اسی گڑبڑ نے ان افواہوں کو وائرل کیا۔ حالانکہ، فیس بک نے 4 جولائی کے شروعاتی گھنٹوں میں ٹویٹ کرکے یہ بتایا که اس مدعے کو سلجھا لیا گیا ہے۔

فیس بک اور الٹ نیوز کے انپٹ کیساتھ

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading