حالیہ دنوں میں ایک پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت کرتی رہی جس میں 1970 کی دہائی میں بریڈ فورڈ سے راولپنڈی چلنے والی ایک بس دکھائی گئی جو 12 دنوں میں مسافروں کو اپنی منزل پر پہنچا دیتی تھی۔اس بس کو شاہین ایکسپریس کہا جاتا تھا اور اس کے پہلے سفر میں اس میں 40 مسافر بیٹھے تھے، جن میں نو بچے، پانچ عورتیں اور دو طالب علم بھی شامل تھے۔
اس زمانے میں بریڈ فورڈ سے راولپنڈی تک کی ٹکٹ صرف 40 پاؤنڈ کی ہوتی تھی اور جو شاہین ایکسپریس پر ہی واپس آنا چاہتا تو اس کا رٹرن کرایہ 75 پاؤنڈ ہوتا۔
وہ دور اور تھا۔ نہ سکیورٹی کے مسائل آج جیسے تھے اور نہ سرحدوں پر آج کی سختیاں اور کورونا کا خوف۔ لوگ کاریں، منی بسیں اور یہاں تک کے پیدل ہی لفٹ لیتے ہوئے بھی دنیا کی سیر کو نکل جاتے تھے۔لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ لیکن پھر بھی مہم جوئی کے متوالے اپنے شوق کی خاطر نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔حال ہی میں انڈیا سے خبر آئی کہ دلی کی ایڈونچرز اوورلینڈ کمپنی انڈیا کے دارالحکومت سے لندن تک بس سروس شروع کر رہی ہے۔ کمپنی کا منصوبہ ہے کہ اگر کورونا کی وبا آڑے نہ آئی تو مئی، جون 2021 میں وہ لندن کی جانب سفر کر رہے ہوں گے۔تاہم ایڈونچرز اوورلینڈز کا سفر ماضی میں کیے گئے لندن کے سفر سے قدرے مختلف ہے۔ یہ سیدھا سادہ سات، ساڑھے سات ہزار کلومیٹر کا سفر نہیں ہے جو زیادہ سے زیادہ بارہ چودہ دنوں میں ختم ہو جاتا تھا بلکہ یہ تقریباً 20 ہزار کلو میٹر کی مسافت ہے جس کے دوران 70 دن میں آپ 20 کے قریب ممالک سے ہوتے ہوئے لندن پہنچیں گے۔
کمپنی کے بانی توشار اگروال اور سنجے مدن پہلے بھی دہلی سے لندن کے سفر کرا چکے ہیں لیکن وہ مختلف اس طرح تھے کہ ان میں لوگ اپنی گاڑیاں لے کر قافلے کی صورت میں چلتے تھے۔ اب بس بس ہو گی اور 20 کے قریب مسافر جنھیں ایڈونچر کا شوق ہو گا۔
بی بی سی اردو نے توشار اگروال سے فون پر بات کرتے ہوئے پوچھا کہ ابھی تک کووڈ 19 سے لگی پابندیاں ختم نہیں ہوئیں، کیا ان کا ابھی تک منصوبہ اگلے سال مئی تک بس لندن لے جانے کا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی مئی میں آٹھ نو مہینے باقی ہیں، ویزہ پرمٹ کے لیے ہمیں صرف تین چار مہینے ہی چاہیئے ہوتے ہیں، باقی سب چیزیں تیار ہیں۔
’تقریباً 40 ہزار کے قریب تو ہمیں انکوائریاں آ چکی ہیں اور لوگوں نے اس دلچسپ سفر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ابھی سے بکنگ کر لیں، لیکن ہم نے ابھی بکنگ شروع نہیں کی۔ اگر سب چیزیں ٹھیک رہیں تو ہم نومبر یا دسمبر سے بکنگ شروع کریں گے۔‘
جب تشار سے سوال کیا کہ انھوں نے اتنا لمبا روٹ کیوں چنا اور ماضی کی طرح روایتی روٹ کو ترجیح کیوں نہیں دی، تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے بہت آسان تھا کہ وہ ماضی کی طرح پاکستان سے ایران، ترکی اور یورپ کا چھوٹا روٹ لیں۔ یہ سستا بھی تھا اور اس میں کم دن بھی لگتے تھے۔ لیکن پاکستان کے ساتھ تعلقات اور ویزہ کے مسائل آڑے آئے اور ہم یہ نہ کر سکے۔‘
’لیکن جو نیا روٹ ہم نے چنا ہے یہ بھی بہت خوبصورت اور ایڈونچر سے بھرپور ہے۔ لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ مغربی چین کتنا خوبصورت ہے، برما کا سحر کیا ہے۔ کرغستان، ازبکستان، قازقستان میں کتنا جادو ہے، مہمان نوازی ہے۔ ہمارے اس ٹور پہ لوگ ان سب کا مزہ لیں گے۔‘
کہتے ہیں ناں ’شوق کا کوئی مول نہیں‘، بالکل اسی طرح اس سفر کا کرایہ بھی شاید ہر کسی کے بس کی بات نہ ہو۔ یہ ہے 20 ہزار ڈالر فی مسافر۔ لیکن اگر کوئی اکٹھے اتنا نہیں دینا چاہتا تو وہ راستے میں اتر سکتا ہے اور اسی لیے ہی کمپنی نے اس سفر کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
تاہم تشار کا کہنا تھا کہ اگر دیکھا جائے تو یہ کوئی مہنگا ٹور نہیں ہے۔ ’آپ 70 دن میں 20 ممالک دیکھتے ہیں اور زیادہ تر جگہوں پر رکتے بھی ہیں۔ 70 میں سے 25 دن تو آپ سڑک پر ہوتے ہی نہیں۔ آپ سائٹ سییئنگ کر رہے ہوتے ہیں، فائیو سٹار ہوٹلوں میں رہ رہے ہوتے، زندگی کا مزہ اٹھا رہے ہوتے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ تو ایک لحاظ سے سستا پیکیج ہے۔‘
پھر پاکستان کیسے پیچھے رہ سکتا ہے؟
لندن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی کاروباری جو اپنا تعلق کراچی کے علاقے لیاری سے بتانے پر اصرار کرتے ہیں، کاغذات پر لندن تا لاہور اور بعد میں کرتار پور منصوبہ بنا کر تیار بیٹھے ہیں۔ انھیں اشارہ ہے بس حکام کا، چاہے وہ یورپی ہوں یا پاکستانی۔ باقی ان کے پاس سب تیار ہے۔
یہ ہیں حبیب جان، جو ہیں تو سیاسی شخصیت لیکن کاروبار میں بھی کسی طرح پیچھے نہیں ہیں۔ جب بی بی سی اردو نے ان سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ تمام روکاٹوں کے باوجود ان کا منصوبہ تیار ہے۔ بسیں تیار ہیں، ڈرائیور تیار ہیں، بریک ڈاؤن مکنیک تیار ہے، اور تو اور مسافر تک تیار ہیں کہ کب منصوبے کو سبز بتی دکھائی جائے اور وہ بس پکڑیں۔
حبیب جان کہتے ہیں کہ کرتار پور رہداری پاکستان کو عالمی سطح پر لانے کا ایک سنہرا موقع ہے جسے گنوانا نہیں چاہیئے۔ یہ نہ صرف سکھ برادری کے دل میں پاکستان کے لیے عزت لائے گا بلکہ اس سے کشمیریوں کی کاز بھی اجاگر ہو گی کہ پاکستان امن کے ذریعے معاملات سلجھانا چاہتا ہے۔
دوسرا یہ کہ اس سے سیاحت بڑھے گی، صنعتوں کو فروغ ملے گا اور پاکستان کا نام روشن ہو گا۔
تو پھر بس کیوں رکی ہوئی ہے؟حبیب جان کے مطابق بس کے ابھی تک نہ چلنے کی کئی وجوہات ہیں، یا یوں کہیئے کہ یہ ابھی ان کے بس میں نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان حکومت کو چاہیئے کہ وہ بھی کرتاپور ٹورازم کو اسی طرح فروغ دے جس طرح اس نے کرتار پور راہداری بنانے میں سنجیدگی اور پھرتی دکھائی تھی۔ یورپ کے دیگر ممالک میں موجود پاکستان کے کونسل خانوں میں خصوصی کرتارپور ڈیسک ہونے چاہیئں جو کرتار پور جانے والی سکھ برادری اور ٹراسپورٹرز کو سہولیات فراہم کریں۔’کیونکہ ہر ملک کی اپنی اپنی پالیسیاں ہوتی ہیں اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ اس میں ایکٹیو کردار ادا کرے اور دوسرے ممالک کو یقین دلائے کہ اس سے امن کو فروغ ملے گا اور اس میں سب کا فائدہ ہے۔‘
ایک اور بڑا مسئلہ انشورنس کا بھی ہے جو یورپ میں بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ یہاں بھی ہر ملک میں یہ مختلف طریقے سے ہوتا ہے۔ حبیب جان کے مطابق ماضی میں یہ مسئلہ نہیں تھا، اسی لیے 70 اور 80 کی دہائی میں لوگ بسوں اور منی بسوں پر دنیا بھر کا سفر کر لیتے تھے۔‘’اس کے علاوہ امیگریشن بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کہ اسے کیسے حل کرنا ہے۔ کسں طرح حکام کو یقین دلانا ہے کہ مسافر بس سروس کی ذمہ داری ہیں اور ان کو منزلِ مقصود تک پہنچایا جائے گا۔‘
’اور آج کا مسئلہ ہے کووڈ۔19 کا۔ کب اس سے چھٹکارا ملے اور چیزیں آگے بڑھیں۔‘سو سرحدیں بند ہیں، منصوبے بند ہیں، بسیں بند ہیں، لیکن حبیب جان کے خواب بند نہیں ہوئے۔ انھیں یقین ہے کہ وہ پاکستان حکومت کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ اس منصوبے کے سر پر ہاتھ رکھے کیونکہ ’اس میں سب کا فائدہ ہے۔‘
’سرکاری طور پر کچھ لوگوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی ہے لیکن اب صرف پاکستان حکومت کو قدم آگے بڑھانا ہے جو کوئی بہت مشکل کام نہیں۔ صرف انفراسٹرکچر ذرا ٹھیک کرنا ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ اس کا سادہ سا حل علی بابا ڈاٹ کام پر موجود ہے۔ جہاں 100 کمروں کا کنٹینر ہوٹل صرف دو ہفتوں میں بنایا جا سکتا ہے۔ اس لیے شروع میں کرتار سنگھ میں کوئی فائیو سٹار ہوٹل بنانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم ابتدا میں کرایہ کم رکھ رہے ہیں جو کہ 850 پاؤنڈ ہے اور اس میں مسافر 60 کلو گرام تک سامان اپنے ساتھ لے کے جا سکتے ہیں۔ ’اب ذرا سوچیں کہ جب یاتری پاکستان سے اتنی مقدار میں چیزیں خریدیں گے تو ملک کے ذرِ مبادلہ کو کتنا فائدہ ہو گا۔ مقامی صنعت بہتر ہو گی، نوکریاں ملیں گے، ٹورازم بڑھے گا۔‘
میرپور سے برمنگھم: یہ کوششیں پہلے بھی ہوئیں
سنہ 2012-13 میں بھی میرپور، پاکستان سے برمنگھم تک بس سروس کا ایک منصوبہ بنا تھا جو پایہ تکمیل تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ گیا۔ افغانستان کی سرحد کے نزدیک ایران اور ترکی سے ہوتے ہوئے 6400 کلو میٹر کا سفر طے کر کے اس بس کو برمنگھم پہنچنا تھا اور اس سروس کے پیچھے اس وقت کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کا ہاتھ تھا۔
12 دنوں پر مشتمل سفر کی اس وقت ٹکٹ 130 پاؤنڈ رکھی گئی تھی۔ وزیر طاہر کھوکھر کو یقین تھا کہ بس چار ہفتوں میں چل پڑے گی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔
بی بی سی کے مطابق انھوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا وہ مختلف غیر ملکی سفارتخانوں سے بات کر رہے ہیں اور جیسے ہی مسائل حل ہوتے ہیں وہ شیڈول کا اعلان کریں گے۔
تاہم سکیورٹی آڑے آ گئی۔ برطانیہ نے اپنے شہریوں کو ایران نہ جانے کا مشورہ دیا اور یہ بھی کہا کہ کوئٹہ بھی تب جائیں اگر بہت ہی زیادہ ضرورت ہو۔
یاد رہے کہ برمنگھم میں دنیا کی سب سے بڑی کشمیری آبادی رہتی ہے جن میں ایک بڑی تعداد ان کشمیریوں کی ہے جو 1960 کی دہائی میں پاکستان میں ڈیم بننے کی وجہ سے بے گھر ہو کر برطانیہ آئے تھے۔ لیکن ان کے اب بھی میرپور سے گہرے روابط ہیں۔ اور اسی لیے میرپور کو ’لٹل برمنگھم‘ بھی کہا جاتا ہے۔
یورپ کی ’ہپی بسیں‘
1960 اور 1970 کی دہائی وہ دہائی تھی جس میں نوجوان گروہوں کی شکل میں دنیا فتح کرنے نہیں بلکہ اسے دیکھنے اور اسکا مزہ لینے کے لیے نکلے تھے۔ اور کیونکہ مشرق کا ایک اپنا سحر تھا اس لیے زیادہ تر گروہ اپنی منی بسیں اور والکس ویگن کیمپر وینز لیے ایران، افغانستان، پاکستان اور انڈیا آتے تھے۔ اس سے قبل بھی کلکتہ سے لندن ایک بس چلی تھی لیکن اس کا ذکر پھر کبھی۔
اگر کسی کو 60 اور 70 کی دہائی کا پاکستان یاد ہو تو کراچی، پشاور اور لاہور میں کیمپر وینز میں بیٹھے سگریٹ پیتے ہوئے غیر ملکی نوجوان لڑکے لڑکیاں کون بھول سکتا ہے۔ وہ پیسے اکٹھے کر کے یہاں آتے تھے اور کئی ایک تو کئی کئی سال یہیں رہتے۔ نہ کوئی ڈر تھا نہ کوئی خوف۔ لیکن وہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیار اور محبت کی دہائیاں تھیں۔ پھر وقت بدل گیا۔ پرانی چیزوں کے شوقین کئی افراد کے پاس وہ کیمپر وینز اب بھی موجود ہیں۔