کمسن اریحا شاہ کیس: بھارت اور جرمنی میں اہم پیش رفت، چانسلر او لاف شولز کے دورہ ہندوستان میں بات چیت متوقع رکن پارلیمان نریش مہسک ے کی کوششوں کو کامیابی

کمسن اریحا شاہ کیس: بھارت اور جرمنی میں اہم پیش رفت، چانسلر اولاف شولز کے دورہ ہندوستان میں بات چیت متوقع
رکن پارلیمان نریش مہسکے کی کوششوں کو کامیابی
تھانے (آفتاب شیخ)
ہندوستان کی کمسن بچی اریحا شاہ، جو جرمنی میں فوسٹر کیئر میں ہیں، کے مستقبل سے متعلق بھارت اور جرمنی کے درمیان جاری تنازعہ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جرمن چانسلر اولاف شولز کے حالیہ دورہ بھارت کے دوران اریحا کے کیس پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ دونوں ممالک اس حساس مسئلے کا جلد حل تلاش کر سکتے ہیں۔
اریحا شاہ، جو کہ تھانے ضلع کے میرا بھائیندر علاقے کی رہائشی ہیں، کو ستمبر 2021 میں والدین سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔ جرمن حکام نے والدین پر اریحا کے معمولی جسمانی زخموں کا الزام لگا کر سرپرستی کا حق چھینتے ہوئے اریحا کو فوسٹر کیئر میں منتقل کر دیا۔ تب سے اریحا جرمنی میں ایک پناہ گاہ میں مقیم ہے، اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ 18 سال کی عمر تک جرمنی میں ہی مقیم رہے گی۔ والدین نے اپنی بیٹی کو ہندوستانی ثقافت سے روشناس کرانے اور اسے وطن واپس لانے کے لیے قانونی جدوجہد شروع کی، جسے ہندوستان میں سیاسی حمایت بھی حاصل ہوئی۔
تھانے کے ایم پی نریش مہسکے نے پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو مؤثر انداز میں اٹھایا، جس پر حکومت اور اپوزیشن نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حمایت کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی یہ معاملہ براہ راست چانسلر اولاف شولز کے سامنے رکھا اور اریحا کی واپسی کے حوالے سے اہم گفتگو کی۔ اس کے جواب میں جرمن سفیر فلپ ایکرمن نے یہ اعلان کیا کہ جرمن حکام اریحا کے مستقبل کے لیے بھارت کے ساتھ مثبت مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
اس سلسلے میں، اریحا کو ہندوستانی زبان کی تربیت دینے اور بھارتی ثقافتی تقریبات میں شرکت کی اجازت دینے کا اصولی معاہدہ طے پایا ہے۔ جرمنی میں اریحا کو جین کمیونٹی کے مذہبی تقریب میں شرکت کا موقع بھی دیا گیا، جس میں وہ بھارتی ثقافت سے روشناس ہو سکی۔ اس کے علاوہ، شاہ خاندان کو مہینے میں ایک یا دو بار اپنی بیٹی سے ملاقات کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
اس کیس میں بھارتی حکام نے ثقافتی شناخت کے تحفظ کو بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے اور اریحا کے مستقبل کے لیے امید ظاہر کی ہے کہ جرمنی اور بھارت باہمی تعاون سے اس مسئلے کا حل تلاش کریں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading