لیہہ: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ کشمیر کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کشمیر میں مداخلت کے بجائے اپنے ملک کے مسائل حل کرنے کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ راجناتھ سنگھ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں اپنے ایک روزہ دورے کے دوران کیا۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران چین کے ساتھ لگنے والی حقیقی لائن آف کنٹرول کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔
मैं पाकिस्तान से पूछना चाहता हूं कि कश्मीर पाकिस्तान के पास था कब? और पाकिस्तान भी तो इसी भारत से निकल कर बना है।
हम पाकिस्तान के वजूद का सम्मान करते हैं इसका अर्थ यह नहीं है कि वह कश्मीर को लेकर कोई लगातार बयानबाजी करता रहेगा।
— Rajnath Singh (@rajnathsingh) August 29, 2019
وزیر دفاع نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ‘پاکستان خود پہلے ہندوستان کا حصہ تھا۔ کشمیر کبھی بھی اس کا حصہ نہیں تھا۔ پاکستان کو کشمیر پر اپنے دعوے کو ترک کرتے ہوئے اپنے ملک کے مسائل حل کرنے کی طرف دھیان دینا چاہیے’۔ انہوں نے کہا: ‘ریاست کے لوگوں نے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کی منسوخی کو قبول کرلیا ہے۔ پاکستان کو کیا پریشانی ہے یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ وہ کشمیر میں ملی ٹنسی کو فروغ دے رہا ہے۔ پاکستان زیر قبضہ کشمیر اور گلگت بلتستان کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں ہیں’۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کا خاتمہ بی جے پی کا ایک بنیادی ایجنڈا تھا۔ انہوں نے کہا: ‘ہم نے ریاست کے لوگوں کو دھوکہ نہیں دیا ہے۔ ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کا خاتمہ ہماری جماعت کا ایک بنیادی ایجنڈا تھا۔ ہم ملک میں ایک وزیراعظم، ایک جھنڈے اور ایک آئین کے حق میں رہے ہیں’۔
पाकिस्तान का कश्मीर में कोई Locus Standi नहीं है। जबकि गिलगिट-बाल्टिस्तान समेत पूरे POK पर उसने ग़ैर क़ानूनी क़ब्ज़ा जमाया हुआ है।
हमारे देश की संसद ने फ़रवरी 1994 को एक सर्वसम्मत प्रस्ताव पारित किया जिसमें भारत की स्थिति पूरी तरह स्पष्ट कर दी गयी है।
— Rajnath Singh (@rajnathsingh) August 29, 2019
راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ملی ٹنسی کے خاتمے تک پاکستان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا: ‘ہم پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن پاکستان ہمارے ملک کو غیر مستحکم بنانا چاہتا ہے اور یہاں ملی ٹنٹ بھیج رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں ہے’۔ دریں اثنا دفاعی ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ یہ دفعہ 370 کی منسوخی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقے بنائے جانے کے بعد وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا پہلا دورہ لداخ تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع جن کے ہمراہ فوجی سربراہ جنرل بپن راوت بھی تھے، نے اپنے دورے کے دوران علاقہ میں مجموعی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر دفاع کو دورے کے دوران چین کے ساتھ لگنے والی حقیقی لائن آف کنٹرول اور پاکستان کے ساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
