بنگلورو ، 31 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک میں تقریباً ایک دہا قبل بیف پر امتناع عائد کرنے کی کوشش ہوئی تھی۔ 2010ء میں بی جے پی کے متعارف کردہ متنازعہ کرناٹک انسداد ذبیحہ اور تحفظ مویشیان بل کو اُس وقت کے ریاستی گورنر نے منظور نہیں کیا تھا۔ اب دوبارہ بی ایس یدیورپا کی قیادت میں بی جے پی حکومت آگئی ہے، جس پرانے بل کو واپس لانے کوشاں ہے۔ اس بل کی بعض دفعات کے نتیجہ میں لازمی طور پر ریاست میں بیف پر پابندی عائد ہوجائے گی۔ یدی یورپا کابینہ کے وزیر سی ٹی روی نے ’دی کوئنٹ‘ کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو دیگر ریاستوں میں متعارف کردہ اسی نوعیت کے قوانین کا جائزہ لے رہی ہے اور اُن کے تجزیہ کی اساس پر 2010ء کے بل کو دوبارہ متعارف کیا جائے گا۔اس مسودہ بل کے فقرہ 5 نے بیف کو کسی مویشی کا گوشت قرار دیتے ہوئے بیف کی فروخت، استعمال اور اسے قبضہ میں رکھنے پر پابندی تجویز کی تھی۔ اس نے یہ بھی تجویز کیا کہ بیف کی فروخت اور اس کو قبضہ میں رکھنے کے جرم پر کم از کم ایک سال سزائے قید ہو اور 25,000 روپئے کا جرمانہ عائد کیا جائے۔
Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-