اسلام آباد: پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے بدھ کے روز کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کرتارپور راہداری معاہدہ پر کل جمعرات کو دستخط کریں گے۔ ڈاکٹر فیصل نے ہفت روزہ پریس بریفنگ میں یہ اطلاع دی۔ اس معاہدہ پر آج دستخط ہونے تھے لیکن ہندوستان نے منع کردیا۔ اس کے بعد ترجمان کا یہ بیان آیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان اس بات پر مصر ہے کہ پاکستان کرتارپور آنے والے سکھ عقیدت مندوں پر عائد کئے جانے والے بیس ڈالر کے سروس چارج کو ختم کرے۔
پاکستان کرتارپور راہداری کے سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان مجوزہ معاہدہ کاحتمی مسودہ گیارہ اکتوبر کو ہندوستان کو سونپ چکا ہے۔ اسلام آباد نے ہندوستان کے اس مطالبہ کو تسلیم کرلیا ہے جس میں سکھوں کے علاوہ ہندووں او رعیسائیوں اور دیگر لوگوں کو بھی کرتار پور آنے کی مانگ کی گئی تھی۔
کرتار پور میں واقعہ گردوارہ میں سکھوں کے پہلے گرو بابا نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری دن گذارے تھے اور ان کی 550ویں جینتی پر اس راہداری کو کھولا جانا ہے۔ جس سے ہندوستان کے سکھ برادری کے لوگ زیارت کے لئے وہاں آسانی سے پہنچ سکیں گے۔
معاہدہ کے مطابق روزانہ کم سے کم پانچ ہزار یاتریوں کو کرتار پور میں واقع گردوارہ کے درشن کی اجازت دی جائے گی۔ ہندوستان کی طرف سے وہاں جانے والے زائرین کی فہرست دس دن قبل پاکستان کو دستیاب کرانی ہوگی۔ پاکستان اس کی جانچ کرکے سفر سے چار دن قبل اسے منظور کرکے ہندوستان کو مطلع کرے گا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
