سعیدپٹیل جلگاؤں
ملک عزیز کی پانچ ریاستوں کی اسمبلیوں کے عام چناؤ کے نتایئج میں ملک کی سب سے بڑی اور پرانی سیاسی پارٹی کانگریس نے پانچ میں سے چار ریاستوں میں بی جے پی کو شکست دے کر اس کے منصوبوں پر کام کرنے کے طریقئہ کار پر روک لگادی ۔گویا کہ آئیندہ سال ہونے والے پارلیمانی عام چناؤ سے پہلے کے مشقی امتحان میں زبردست واپسی کرتے ہوۓ شاندار جیت حاصل کی ہیں۔گذشتہ چار برسوں میں ملک میں کیا نہیں ہوا۔؟شاید اس جیت کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہیں۔؟صرف یقین دہانیاں ،نوٹ بندی ،اندھن کی قیمتوں میں اضافہ ،جی ایس ٹی ،بیروزگاری ،کسانوں کی خودکشی ،مذہبی منافرت ، تین طلاق کا مسلہ ، آسمان چھوتی مہنگائی ،غریبوں ، مزدور طبقہ کو نظرانداز کرنا ،صنعتکاروں اور سرمایا داروں کے مفادات میں کام کرنا وغیرہ بڑی وجوہات شامل ہیں۔لیکن اس جیت پر جشن منانے کی بجاے کانگریس کو چاھئے کہ اسے جو موقعہ عوام نے دیا ہے۔ اس کا صیح استمعال کرتے ہوۓ ملک کے جمہوری نظام میں ملک کی گنگاجمنی تہیذیب ،قومی اتحاد اور مذکورہ بالا وجوہات کے برعکس ایماندارانہ اور غیر جانبدارانہ کام کرکے بتائیں۔تنازعات سے پرہیز کریں۔ عوام کے بنیادی مسائل پر خصوصی توجہ دی جائیں۔جس امید سے کانگریس کوشاندار کامیابی ملیں ہے۔اس پر بنا کوئ فرق کۓ منصوبہ بند طریقوں سے حل کۓ جائیں۔عوام کے دلوں میں اپنے اور پارٹی کے تعلق سے جگہ بنائیں۔کہیں ایسا نہ ہوکہ جشن اور استقبال کے ماحول میں مرکز کی غلطیاں اور عوامی مطالبات بہتے پانی کی طرح بہیے نہ جائیں۔اس لۓ کہ اب ملک کی صورتحال پہلے جیسے نہیں رہے ہیں۔کانگریس کی جیت سے نفرت اور ووٹ بینک کی شکست ہوئ ہیں۔اس طرف عوام بہت جلد لوٹ آئ ہیں یہ بہت اچھا اور قابل ستائیش قدم ہے۔