
ہندو مذہبی روایات میں ہنومان کی بہت اہمیت ہے یہی وجہ ہے کہ یوپی کے وزیر اعلی نے الیکشن کو پولرائز کرنے کے لئے ہنومان کا استعمال کیا اور اس کو دلت قرار دیا لیکن سوال یہ ہے کہ ہندو میتھالوجی میں ہنومان نام کا یہ کردار کہاں سے آیا۔
مصری تہذیب میں توتھ نام کا ایک شخص ملتا ہے جو دراصل کسی فرعون کا بیٹا تھا۔ اس زمانے میں بادشاہ کا بیٹا ایک خاص وزارت کا ذمہ دار ہوتا تھا جس کے تحت تعمیرات سائنس اور تجارت جیسی اہم چیزیں آتی تھیں۔ اس منصب پر فائز شخص کو ہنو کا لقب دیا جاتا تھا۔ توتھ کی خدمات چونکہ اس منصب پر فائز ماضی کے دیگر وزراء سے کہیں بہتر تھی اسی لئے اس کے لقب کے ساتھ مصری زبان میں عظیم کا لفظ بھی استعمال ہونے لگا اور وہ مصر میں عظیم ہنو کے نام سے مشہور ہوگیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عظیم ہنو کی عبادت بھی ہونے لگی اور اس کو عقل کا خدا مان لیا گیا۔ عظیم ہنو کی بہن کا نام مصری میتھالوجی کے اعتبار سے سیسات ہے جس کو حکمت اور تعلیم کے خدا کی حیثیت سے جانا جاتا ہے ہنو کی بیوی کا نام مات ہے جس کو عدل انصاف اور طاقت کا خدا مانا جاتا ہے۔
مصری میتھالوجی کے اعتبار سے مرد خداؤں کے بت ہمیشہ انسان اور جانور دونوں کو ملا کر بنائے جاتے تھے۔ ہنو کا بت آج بھی گوگل پر دیکھا جاسکتا ہے کہ انسان کے دھڑ اور بندر کے سر کو ملا کر بنایا گیا ہے۔ جب یہ بت اور اس کے ساتھ کی کہانیاں بھارت میں آئیں تو کوئی بعید نہیں کہ عظیم ہنو کو ہنو مہان اور پھر ہنومان کردیا گیا ہو۔ سیسات کو سرسوتی اور مات کو ماتا کردیا گیا ہو۔ واضح رہے کہ ہندو میتھالوجی کے اعتبار سے بھی ہنومان کو عقل کا خدا، سرسوتی کو حکمت کا اور درگا ماتا کو طاقت وانصاف کا خدا مانا جاتا ہے۔ اس لیے یہ تو طے ہے کہ ہنومان دلت نہیں تھے، مگر کیا تھے اس کے لیے آرین تہذیب کی بھارتی نسل کو مزید تحقیق کرنی چاہیے۔