
پربھنی:27 اکتوبر :(ورقِ تازہ نیوز) آج پربھنی کے مشہور و معروف کامل اردو ہائی اسکول، یوسف کالونی میں خسرہ اور روبیلا مدافعتی ٹیکہ بیداری مہم کے تحت سرپرست نشست کا کامیاب انعقاد نوڈل آفیسر معلّم محمد عبدالعلیم سر کے زیر نگرانی میں عمل میں آیا. جس میں پربھنی کے نامور ماہر اطفال ڈاکٹر محمد ظفر اقبال صدیقی سر اور ان کی ٹیم موجود تھی. اس موقع پر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال صدیقی سر نے مو¿ثر انداز میں خسرہ اور روبیلا امراض کی تفصیلی معلومات دی اور امراض سے ہونے والے خطرات سے سرپرستوں کو آگاہ کیا اور کہا کہ خسرہ اور روبیلا یہ ایک خطرناک جان لیوا وائرل بیماری ہے اور بچوں کے عام متعدی امراض میں سے ایک ہے۔ خسرہ کا مرض کھانسی یا چھینک کے جراثیم اور متاثرہ شخص کے ساتھ رہنے سے پھیلتا ہے۔ انھوں نے خسرہ اور روبیلا جیسی موذی اور وبائی امراض سے بچنے کیلئے آئندہ ماہ نومبر میں اپنے نو مہینے سے لیکر پندرہ سال تک کے تمام عمر کے بچوں کو مدافعتی ٹیکہ لگانے اور نیشنل مہم کو کامیاب بنانے کی پ±ر زور اپیل کی. انھوں نے کہا کہ خسرہ اور روبیلا مدافعتی ٹیکے پوری طرح محفوظ ہیں. اسکے کوئی مضر اثرات نہیں ہوتے. ہم اپنے بچوں کو مدافعتی ٹیکہ لگوا کر خسرہ اور روبیلا سے بچاو¿ اور احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس موذی مرض سے بچا جاسکتا ہے. انھوں نے سرپرست حضرات کو افواہوں پر دھیان نہ دیتے ہوئے اپنے بچوں کو مدافعتی ٹیکہ لگانے کیلئے پ±ر زور اپیل کی. اس پروگرام میں طلباء اور سرپرست حضرات کی کثیر تعداد موجود تھی. اس نشست میں سرپرست حضرات کی جانب سے کئی حسّاس سوالات بھی اٹھائے گئے. جن میں ٹیکہ لگانے سے مسلمانوں میں نسل کشی کی سازش اور یہ ٹیکہ حکومت کی جانب سے ہمارے بچوں کو زبردستی کیوں دیا جارہا ہے، شامل تھے. جس کے جواب میں ڈاکٹر محمد ظفر اقبال صدیقی سر نے مدافعتی ٹیکہ کے تعلق سے سرپرست حضرات کے خدشات اور شکوک و شبہات اور مسلمانوں میں نسل کشی کی سازش کی پ±ر زور تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب بے بنیاد، من گھڑت افواہیں ہیں جو کہ لاعلمی کا نتیجہ ہے. یہ افواہیں اس قدر تیزی سے پھیل گئیں ہیں کہ عام لوگ ہی نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور بااثر افراد بھی ان افواہوں کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہیں. جسکی وجہ سے بچے مدافعتی ٹیکہ لینے سے محروم ہو رہے ہیں. اگر اس مدافعتی ٹیکے کو لگانے سے نسل کشی کے امکانات یا کسی بھی قسم کے مضر اثرات، خطرناک پیچیدگیاں رونما ہوتی تو حکومت تادیبی کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف اس ٹیکہ پر فوراً پابندی لگادیتی بلکہ اسے ہرگز ویکسینیشن چارٹ میں بھی شامل نہیں کرتی. اور کوئی بھی حکومت ازخود اپنی بدنامی کیوں کرے گی. واضح رہے کہ بھارت ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر خسرہ اور روبیلا مدافعتی ٹیکہ کو ویکسینیشن چارٹ میں شامل کیا گیا ہے. مرکزی حکومت بھی اس بیماری کو پورے ملک میں جڑ سے ختم کرنا چاہ رہی ہے. چونکہ یہ ٹیکہ پوری طرح سے محفوظ ٹیکہ ہے. اسلئے حکومت خسرہ اور روبیلا کو ملک سے ختم کرنے کیلئے اس کا مدافعتی ٹیکہ پولیو کے طرز پر بلا مذہب و ملّت سبھی بچوں کو زبردستی نہیں بلکہ احتیاطی تدابیر کے طور پر ملک گیر سطح پر باضابطہ طبی ماہرین کے زیر نگرانی میں مفت ٹیکہ لگانے کی مہم چلارہی ہے تا کہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پاسکے. انھوں نے کہا کہ اب تک 20 ریاستوں میں کامیابی کے ساتھ خسرہ اور روبیلا کی ٹیکہ کاری مہم چلائی جاچکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ صرف ٹیکہ ہی نہیں لگایا جاتا بلکہ اس کی نگرانی بھی کی جاتی ہے اور یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کوئی بچہ ٹیکہ کاری مہم سے چھوٹ تو نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ روبیلا یہ ایک سینڈروم ہے یعنی کئی بیماریوں کا مجموعہ ہے جو کہ خسرہ سے زیادہ مہلک بیماری ہے. جس سے دوسری بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں جو موت کا سبب بنتی ہیں۔ سرپرست محمد فضل بلّشغم کے اس سوال کے جواب میں کہ خسرہ اور روبیلا کا ٹیکہ لگانے کے بعد کسی کو خسرہ یا روبیلا ہوسکتا ہے؟ انھوں نے کہا کہ دوبارہ خسرہ اور روبیلا ہونے کا اندیشہ نہیں رہتا ہے. اگر 95 فیصد بچے ٹیکہ لگاتے ہیں تو باقی ماندہ پانچ فیصد بچے اس بیماری سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ٹیکہ کاری مہم کے سلسلے میں لوگوں میں بہت ساری غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں جس سے پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ اس کیلئے میڈیا، مذہبی لیڈروں، مدرسے، اسکولی بچوں اور دیگر اداروں کی خدمات لیکر اس غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے. انھوں نے کہا کہ یہ بیماری خواتین وضع حمل کی وجہ بھی بن سکتی ہے، بچے معذور پیدا ہوتے ہیں۔ بانجھ پن کا شکار ہوسکتی ہیں۔ کم وزن کا بچہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انھوں نے میڈیا کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس نیشنل مہم کو کامیاب بنانے میں میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور لوگوں کے درمیان پائی جانے والی غلط بھی دور کرنے میں اپنی خدمات پیش کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میڈیا کی بڑی طاقت ہے اور میڈیا نے اس بیماری اور یونیسیف کے دیگر پروگرام کو گھر گھر تک پہنچایا ہے۔ مہم میں پورے ملک کے پندرہ سال تک کے41 کروڑ بچے شامل کئے جائیں گے۔ اس نیشنل مہم کے ذریعے ملک کے یونیورسل ایمونائزیشن پروگرام میں پہلی مرتبہ روبیلا ویکسین کو شامل کیا گیا ہے۔ اس موقع پر سرپرست حضرات نے بھی اپنے بچوں کو خسرہ اور روبیلا مدافعتی ٹیکہ لگانے اور نیشنل مہم کو صد فیصد کامیاب بنانے کا پ±ر عزم ارادہ کیا. پروگرام کے اختتام پر صدیقی محمد شرف الد?ن سر نے ماہر اطفال ڈاکٹر محمد ظفر اقبال صدیقی سر اور ان کی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی ساتھ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے کامل ایجوکیشن سوسائٹی پربھنی کے جوائنٹ سیکریٹری محترم اقبال احمد خان سر اور اساتذہ کرام محمد صلاح الد?ن سر، محمد مظہر سر اور محمد معراجِ شاکر سر کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا.