ناندیڑ:27اکتوبر۔(ورقِ تازہ نیوز) بی جے پی وشیوسینا حکومت نے اگر مراٹھواڑہ کے حق کا پین گنگا کا 65 ٹی ایم سی پانی کہیں اور لے جانے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ نہایت غیرمنصفانہ ہے، اس فیصلے کی وجہ سے ناندیڑ، ہنگولی اور ایوت محل اضلاع کو پانی نہیں ملے گا۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف کانگریس پارٹی سڑکوں پر اتر کر حکومت کے خلاف احتجاج کرے گی۔ یہ الٹی میٹم آج یہاں جن سنگھرش یاترا کے دوران حد گاو¿ میں منعقدہ ایک جلسہ¿ عام سے خطاب کے دوران کانگریس کے ریاستی صدر اشوک چوہان نے حکومت کودی ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اشوک چوہان نے مرکزی وریاستی حکومت کی عوام مخالف اور غلط پالیسیوں پر جم کر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی وشیوسینا کی حکومت جان بوجھ کر مراٹھواڑہ کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے۔ یہ اپّر پین گنگا کا 65 ٹی ایم سی پانی کہیں اور لے جانے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ یہ پانی اگر کہیں اور لے جایا گیا تو حدگاو¿ں، بھوکر، مدکھیڑ، اردھا پور، امری، دھرماباد، ایوت محل اور ہنگولی کو ان کے حق کا پانی نہیں ملے گا۔ اس تعلق سے ہم نے وزیراعلیٰ اور گورنر سے ملاقات کرکے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے اور اس کے نقصانات سے انہیں آگاہ کیا ہے۔ اس کے باوجود اگر حکومت نے یہ پانی کہیں اور لے جانے کی کوشش کی تو ہم سڑکوں پر اترکر حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں16سے زائد کسانوں نے خودکشی کرلی ہے لیکن حکومت کو اس سے کوی فرق نہیں پڑتا ہے۔ بی جے پی وشیوسینا کے وزراءاقتدار کی حصہ داری میں مصروف ہیں، انہیں مرنے والے کسانوں کی جانب دیکھنے کی فرصت نہیں ہے۔ خودکشی کرنے والے کسانوں کو ان کی زندگی میں تو حکومت ایک روپئے کی بھی مدد نہیں کرتی ہے اور ان کے مرنے کے بعد ایک لاکھ روپئے دیتی ہے۔یہ پیسہ مرنے والے کسان کے بھلا کس کام کا؟۔ اشوک چوہان نے حکومت سے سوال کیا کہ آپ کے ایک لاکھ روپئے کی مدد سے ہمارا کسان واپس آجائے گا کیا؟ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزراءکہتے ہیں کہ مودی کو سیٹلائیٹ میں خشک سالی نظر نہیں آئی اس لئے تعلقہ جات کو خشک سالی کی فہرست سے خارج کردیا گیا۔حقیقت بھی یہی ہے کہ مودی کے سیٹلائیٹ کو عام کسانوں کی تکالیف نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ ناندیڑ ضلع میں گیارہ سو ٹرانسفامر جل چکے ہیں۔ حکومت دوسرے بجلی کے ٹرانسفارمر تک نہیں دے پارہی ہے۔ ان جلے ہوئے بجلی کے ٹرانسفارمر کی مرمت کسانوں کو اپنے پیسوں سے کرانی پڑ رہی ہے۔ اتنا بدترین وقت مہاراشٹر میں کبھی نہیں آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ہرسال دوکروڑ نوجوانوں کو ملازمت دینے کا وعدہ کئے تھے لیکن آج وہ تعلیم یافتہ و ہنرمند نوجوانوں کو پکوڑا فروخت کرنے کا مشورہ دے کر ان کی تضحیک کررہے ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حزبِ مخالف لیڈر رادھا کرشن ویکھے پاٹل نے کہا کہ ریاست کے تمام طبقے اس بی جے پی وشیوسینا حکومت سے عاجز آچکے ہیں۔ اس حکومت کے چار سالہ دور میں تقریباً 16سوکسان خودکشی کرچکے ہیں۔ یہ حکومت صرف اور صرف وعدوں کی حکومت ہے جبکہ عوامی مسائل کے حل کے معاملے میں یہ گونگی وبہری ہوجاتی ہے۔ یہ حکومت مکمل طور پر ہرمحاذ پر ناکام ہوچکی ہے اور اب اس کے آخری دن قریب ہیں۔ واضح رہے کہ کانگریس پارٹی کی ریاستی جن سنگھرش یاترا آج ناندیڑ سے حدگاو¿ں پہونچی جہاں ایک عظیم الشان جلسہ¿ عام کا انعقاد ہوا۔ اشوک چوہان اسی جلسہ¿ عام سے خطاب کررہے تھے۔ اس جلسہ¿ عام میں اسٹیج پر اسمبلی میں حزبِ مخالف لیڈر رادھا کرشن ویکھے پاٹل، سابق وزیر ہرش وردھن پاٹل، ایم ایل اے بالا صاحب تھورات، ایم ایل اے ڈی پی ساونت، ایم ایل اے امر راجورکر، ضلع پریشد صدر شانتابائی جول گاو¿ نکر، سابق ایم ایل اے مادھوراو¿ پاٹل جول گاو¿نکر اور سابق ممبر پارلیمنٹ تکارام رینگے کے علاوہ ناندیڑ ضلع کانگریس کے دیگر لیڈران وعہدیداران موجود تھے۔