چین سے آنے والی درآمات کو بندرگاہوں پر روک دیا گیا۔

19_07_2017-india-china-standoff-us1591417469568تخم ریزی کے لیے لگنے والی ضرری اشیاء کی عدم فراہمی سے کسانوں کی فصل متاثر ہونے کے خدشات

ممبئی٢٨ جون (یواین ای ) بھارت چین سرحدی جھڑپوں اور تنازعہ کے نتیجے میں سرحد پر دونوں جانب پیدا شدہ سخت کشیدہ صورتحال کے تناظر میں، ہندوستانی تجارت اور صنعت کو لاحق ہونے والی مشکلات اور نقصانات کے بدترین خدشات حقیقت کا روپ اختیار کرتے دکھائی رہے ہیں۔ تجارتی و صنعتی ماہرین اور دیگر کاروباری ذرائع کے مطابق بھارت چین سرحد پر موجودہ کشیدگی کے باعث صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کا بڑے پیمانے پر نقصان ہونے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ کے دوران، چین اور ہانگ کانگ سے درآمد کردہ، لاکھوں روپیوں کی مالیت کے اور ہر طرح کی درآمدی اشیا ءسے لدے ہوئے ہزاروں کنٹینرز( سامان لانے لیجانے کے لیے استعمال ہونے والے بڑے بڑے صندوق) اب ملک کی مختلف سمندری اور ہوائی بندرگاہوں پر روک لیے گئے ہیں۔

ان میں تقریبا 1000 کنٹینر شامل ہیں جن میں 300 کروڑ سے زائد مالیت کے زراعت سے معقلق تیار شدہ اشیاء اور ان کے اسپریئرز کے اجزاء ، اور اس کے علاوہ ہندوستانی صنعتوں کے استعما ل میں آنے والی ہر قسم کی ضروری سامان اور تجارتی اشیاء موجود ہیں۔جس کے باعث صنعتی اور کاروباری حلقوں میں بے چینی کا ماحول ہے۔

ان کنٹینرز کو روکے جانے سے متعلق دستیاب غیر سرکاری وجوہات کے مطابق قومی سلامتی کے پیش نظر جب تک چین سے آنے والے ان تمام کنٹینرز کا "مکمل معائنہ” اور ہر یونٹ کی انفرادی پیکنگ کو کھول کراس میں موجود مشمولات و تمام دستاویزات کی سخت جانچ پڑتال نہیں کر لی جاتی اس وقت تک انھیں ان کے درآمد کنندگان کو نہیں سونپا جائے گا۔اس ضمن میں، ممتاز زرعی شعبے کے صنعت کار اور درآمد کنندہ تشر سی پڈگلوار نے بتایا کہ ، "جواہر لال نہرو پورٹ ٹرسٹ (ممبئی) میں ، فوری طور پر لگنے والے ضروری زرعی اسپریروں( دوا چھڑکنے والی اشیاء) اور دوسرا ضروری ساز و سامان کے لگ بھگ 200 کنٹینر پھنس گئے ہیں۔ تخم ریزی کا موسم شروع ہونے کے بعد پورے ہندوستان کے کسانوں کو ان کی بڑی شدید اور فوری ضرورت ہے۔ اگر وہ جولائی کے اوائل تک یہ حاصل نہیں کرتے ہیں تو ان کی فصلوں کا موسم تباہ ہوسکتا ہے اور ہم اپنی پوری سرمایہ کاری سے محروم ہوجائیں گے۔”ایگری اسپریئرز ٹم ایسوسی ایشن (انڈیا) کے صدر ، پیڈگلوار نے موقف اختیار کیا کہ جو سامان پہلے ہی پہنچا ہے ، اس کے علاوہ ، بڑی تعداد میں سامان اس وقت چین سے ہندوستان بھیجا جارہا ہے اوہ بھی اسی طرح پھنس جائے گا۔تھانہ کے امپورٹ ایکسپورٹ کے ایک معروف مشیر نے بتایا کہ چین اور ہانگ کانگ سے درآمد کردہ کنٹینر ، جس میں صنعتی شعبوں ، اور دیگر تجارتی اشیاء کی تمام اقسام کی مصنوعات ہیں ، جن کی مالیت کئی ارب ڈالر ہے ، اس وقت پورے ہندوستان کی بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے ہیں ، حکام کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا جا رہا ہے کہ انھیں کب چھوڑا جائے گا۔”

کچھ خاص قسم کا سامان فوری نہ ملے تو اس کا انتظار کیا جا سکتا ہے لیکن دیگر قسم کے سامان ، خاص طور پر جلد خراب ہونے والی اشیاء اور ادویات سازی میں لگے والا سامان کے لیے یہ انتظار بڑے نقصان کا باعث بن سکتا ہے مزید برآں ، درآمد کنندگان نے اس کے لیے پوری ادائیگی کر دی ہے ، کسٹم کا ٹیکس ادا کردیا ہے ۔ اور حتی کہ اپنے صارفین سے پیشگی آرڈر بھی لئے ہیں۔ موجودہ صورتحال سے بری پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ دیگر عہدیدار نے سخت رخ اپناتے ہوئے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور واضح طور پر نوٹس لگا دی ہے کہ "چین سے درامد کردہ سامان کے ترسیل کی اجازت نہیں دی جائے گی "۔انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیاس (آئی سی اے آئی) کے مغربی ریجن کونسل کے سابق سکریٹری انیوردھ شینوی نے اس بات پر زور دیا کہ ” کوئی بھی اچانک اٹھایا گیا معاشی اقدام تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے”۔انیوردھ شینوی نے مزید کہا کہ "بھارت مختلف اسپیئرز ، خام یا تیار شدہ مصنوعات کے لیے چین پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے … لہذا ، اس طرح کی حرکتیں پوری ہندوستانی معیشت پر زبردست اثر ڈال سکتی ہیں جب تک کہ کوئی قابل اطلاق فراہمی والے متبادل ذرائع ہمارے لئے دستیاب نہ ہوجائیں۔”تشر سی پڈگلوار نےمزید کہکہ : "ہمیں ” سامان اور دستاویزات کی مکمل جانچ پڑتال پر کوئی اعتراض نہیں ہے جو ایک دو بندرگاہوں پر شروع ہوا ہے ، لیکن اس عمل کو تیز کرنا ضروری ہے "عام طور پر ، کنٹینر 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر اندر اتارے اور حوالے کر دیے جاتے ہیں ، لیکن گذشتہ ایک ہفتہ سے ، چین – ہانگ کانگ سے آنے والے کارگو کنٹینرز کی معمول کے مطابق ترسیل نہیں ہو رہی ہے جو نقصان کا باعث بن رہی ہےصنعت کے ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان میں آنے والے تمام کنٹینر ٹریفک میں سے ، دو تہائی سے زیادہ کا تعلق چین ہانگ کانگ سے ہے ، اور موجودہ سرحدی تعطل نے پہلے ہی ہندوستانی کاروبار کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔اس ضمن میں جنوبی ممبئی کی مشہور منیش مارکیٹ اور سارا سہارا میں ۹۰ فیصد سامان چین سےمنگا کر فروخت کئے جاتے ہیں لیکن اب مال نہ آنے کی وجہ سے منشی مارکیٹ بھی سونی پڑی ہےیو ائن ائ اے اے اے

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading