چینی حکومت کی مسلمانوں کےساتھ ظلم وبربریت ناقابل برداشت۔
تمام امن پسندوبالخصوص اسلامی ممالک مظلوموں کے حق میں آوازبلندکریں۔
مفتی محمدمنظرحسن خان اشرفی مصباحی ممبئ۔ دارالعلوم حجازیہ چشتیہ گھاٹکوپر ویسٹ, ممبئ
آج آئے دن دنیاکےبیشتر ممالک میں مذہبی منافرت،تعصب وتنگ نظری کی آگ بڑھتی جارہی ہے۔انسان توہیں مگرانسانیت مردہ ہورہی ہے۔دنیاءکوامن کادرس دینےکادعویٰ کرنےوالےممالک کےدامن بھی نفرت وتشددسےپرہیں۔ عالمی قوانین میں ہر فرد کو اپنے مذہبی اصول وطریقےپرعمل کرنےکی آزادی حاصل ہے۔کوئ ملک یافردکسی کوبھی اس کے مذہب سےجبراھٹانہیں سکتااورنہیں کوئ مذہب پرعمل کرنےسے کسی کو روک سکتاہے۔مگرافسوس اسوقت ہوتاہے کہ جب مسلمانوں کوانکے مذہبی اصول پرعمل کرنے کیوجہ سے تعصب وتشددکانشانہ بنایاجاتاہےاوراسےنشربھی کیاجاتاہے۔جسےدیکھ کربھی دنیاءکےامن کاسبق دینےوالےممالک جان بوجھ کرچشم پوشی کرتےہیں۔اور جب عاجزآکر کوئ شخص اس ایکشن پراپنی دفاع میں کچھ کرجاتاہےتواسےسیدھامذہب سے جوڑکرواویلامچایاجاتاہے۔حالانکہ کوئ بھی قانون کوہاتھ میں لینے کی وکالت نہیں کرتاہے۔خواہ وہ کیسا بی قانون ہو۔پوری دنیاکومعلوم ہےکہ چین کی تشددپسند حکومت کئ سالوں سےمسلمانوں کوظلم وبربریت اورنفرت وتشددکانشانہ بنارہی ہے۔وہاں مسلمانوں کواپنےمذہب پرعمل کرنےکیوجہ سے بیجاتشددکا سامناکرناپڑتاہے۔وھاں نومولود بچےکا محمدنام رکھنے پربھی سنتےہیں کہ پابندی چینی حکومت کی طرف سےہے۔جوسراسرتعصب اورظلم ہے۔افسوس تواقوام متحدہ اوراسلامی ممالک پرہے جواس ظلم وتشددکودیکھنےکےباوجود خاموش تماشائ بنے ہوئے ہیں۔تمام امن پسندملکوں کےساتھ بالخصوص اسلامی ممالک کے ارباب اقتدرسےمطالبہ ہےکہ چینی حکومت کومسلمانوں پر ظلم وبربریت کرنےسےروکے۔اس ظلم وتشددکےخلاف اقوام متحدہ پرزورڈالےکےوہ عالمی قانون پرعمل کرتےہوئے چینی حکومت کومسلم دشمنی سے بازرہنے کیلئے زورڈالے۔ تشددکہیں بھی ہواورکسی کی طرف سے بھی ہوکیسی ہی ہو وہ مذموم حرکت ہے اس کی کوئ سراہنانہیں کرسکتا۔اس سےپوری دنیاکےامن ومحبت کوخطرہ درپیش ہوتاہے۔اس سے فضاپرآشوب اورخراب ہوجاتی ہے۔
