چرم قربانی دینے کے ساتھ معقول رقم دے کر مدارس اسلامیہ کے خلاف فرقہ پرستوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں

امسال عید الأضحىٰ کے موقع پر اہل ثروت مدارسِ اسلامیہ کو چرم قربانی دینے کے ساتھ معقول رقم سے بھی مالی تعاون کریں جس سے کہ مدارس اسلامیہ کے خلاف فرقہ پرستوں کے ناپاک عزائم کو ناکام کیا جاسکے

مولانا مفتی محمّد اسمٰعیل صاحب قاسمی مالیگاؤں رکنِ شوریٰ درالعلوم دیوبند و صدر مدارسِ اسلامیہ عربیہ مہاراشٹر

برسرِ اقتدار حالیہ فرقہ پرست حکومت جس طرح اسلامی شعائر کو نشانہ بنا رہی ہے. اس کے اثرات مسلمانوں کے مذہبی عقائد کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ دین کے قلعے یعنی مدارس اسلامیہ پر پڑ رہے ہیں. فرقہ پرست طاقتیں دین کے قلعوں کو مسمار کرنے کے لئے انتہائی منصوبہ بند سازش کر رہی ہے. اسی منصوبے کی ایک کڑی مذہب اسلام کے اہم واجبی رکن قربانی میں غیر ضروری مداخلت بھی ہے. جس کی وجہ سے مدارس پر سخت حالات آنے کا اندیشہ ہے. ایسے نازک حالات میں اہل ثروت افراد کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے. شہر مالیگاؤں کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ گذشتہ برسوں سے شہر میں قربانی کے جانوروں میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے. گزشتہ کے مقابلے میں امسال تقریباً 50 تا 60 فی صد کمی کا اندیشہ ہے. ہر سال وہ صاحب ثروت افراد جو اپنے واجبات کی ادائیگی کے ساتھ نفلی قربانی بھی کیا کرتے تھے ان کے یہاں امسال صرف واجبات پر ہی اکتفا کیا جارہا ہے. اسی طرح گزشتہ سال جانوروں کا چمڑا 250 سے 300 کے درمیان فروخت ہوا تھا، لیکن امسال چمڑا بیوپاریوں اور تاجروں کے مطابق چمڑے کے داموں میں سخت گراوٹ ہوئی ہے ایک چرم کا قیمت 40 اور 50 سے روپے سے اوپر نہیں ہیں. ایسے حالات میں مدارس کو چرم کے ذریعے جو معقول آمدنی ہوجاتی تھی وہ اب بہت زیادہ متاثر ہوگی. ایسے نا مساعد حالات میں ہم مسلمانوں کی ملی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اپنے دین کے سرچشموں کی بقاء کے لئے خوش دلی کے ساتھ آگے آئیں اور چرم کے ساتھ مدراس کی اعانت کے لئے 1000،2000 کی رسید ضرور بنوائیں اسی کے ساتھ چمڑے کے علاوہ جانوروں کی وہ اشیاء جو قیمتی داموں میں فروخت ہوتی ہیں آپ انہیں قصاب کو دینے کے بجائے اسے فروخت کرکے اس رقم کے ذریعے بھی مدارس کا تعاون کریں. تاکہ فرقہ پرستوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جاسکے اور مدارس اسلامیہ کو پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم ہوسکے. نیز گوشت کی تقسیم میں غرباء کو ترجیح دیں. اللہ تعالیٰ بہترین جزائے خیر عطا فرمائے. آمین

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading