پہلگام حملہ: کوئی اِس پار تو کوئی اُس پار، اٹاری اور واگھہ بارڈر پر اپنوں کے پاس جانے کی تگ و دو

پہلگام حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے اٹاری و واگھہ بارڈر پر کئی کنبے مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔ جمعہ کو حالت یہ تھی کہ واگھہ میں پاکستانی شوہر انتظار کر رہے تھے تو ادھر اٹاری میں ان کی بیویاں اس پار جانے کی پوری کوشش کر رہی تھیں۔ وہیں ہفتہ کو اس کے برعکس ہوتا ہوا نظر آیا جب دو ہندوستانی شوہر سرحد کے اس پار موجود اپنی بیویوں کا انتظار کرتے رہے۔

اپنی اپنی بیویوں کو رسیو کرنے اٹاری سرحد پر پہنچے مہاراشٹر کے وکرم اُداسی اور رشی جیسرانی نے بتایا کہ ان کی بیویاں پاکستان میں ہیں۔ دونوں اپنے ماں-باپ سے ملنے پاکستان گئی تھیں پر اب انہیں پاکستان کی طرف سے ہندوستان نہیں آنے دیا جا رہا ہے۔ ان کا فون آیا تھا کہ وہ واگھہ سرحد پر پہنچ گئی ہیں پر دیر شام تک وہ ہندوستانی سرحد پر نہیں آئیں۔ ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہے یعنی اس وقت پاکستانی شہری ہیں۔

اسی طرح کراچی سے اپنی بوا دولت کا علاج کرانے ہندوستان آئے محمد رفیق کو ہفتہ کو پاکستان لوٹنا پڑا۔ اٹاری سرحد پر پہنچے محمد رفیق نے بتایا کہ ان کی بوا سنگین طور سے بیمار ہے۔ وہ جودھپور میں رہ رہے تھے۔ بوا کا علاج کروانے آئے تھے۔ ویزا تو ڈیڑھ ماہ کا تھا پر ابھی دو ہفتہ ہی ہوئے ہیں۔

جئے پور سے آئے بلیرام کنبہ سمیت اٹاری سرحد سے پاکستان لوٹ گئے۔ بلیرام نے بتایا کہ وہ 45 دنوں کے ویزا پر آئے تھے لیکن ابھی یہاں 20 دن ہی ہوئے تھے کہ لوٹنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے جو کچھ کیا وہ بہت غلط ہے۔ پاکستان میری سرزمیں ہے اور یہی چاہتا ہوں کہ دونوں ملکوں کی حکومتیں مل جلر کر اس مسئلے کا حل نکالیں تاکہ عام آدمی کو پریشانی نہ ہو۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading