پاکستان کے دفتر خارجہ نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ دونوں ممالک نے امن مذاکرات فوری شروع کرنے، شہریوں اور غیر فوجی مقامات کا تحفظ یقینی بنانے سمیت پانچ نکاتی اقدامات تجویز کیے ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کے بعد دفتر خارجہ نے اس کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 31 مارچ کو اسحاق ڈار اور وانگ ژی کی ملاقات کے دوران خلیج اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے دونوں ممالک نے یہ پانچ نکاتی اقدامات تجویز کیے ہیں۔
کشیدگی کا فوری خاتمہ کیا جائے اور جنگ سے متاثرہ تمام علاقوں تک انسانی بنیادوں پر امداد کی بلا تعطل رسائی یقینی بنائی جائے۔
امن مذاکرات فوری طور پر شروع کیے جائیں کیوں کہ گفت و شنید اور سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران اور خلیج کی ریاستوں کی خود مختاری، علاقائی سالمیت، قومی آزادی اور سکیورٹی یقنی بنائے جائے۔ تمام فریق تنازعات کا پر امن حل تلاش کریں اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں۔
شہریوں اور غیر فوجی مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ توانائی کے مراکز، پانی کو قابل استعمال بنانے والے مراکز اور پر امن مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی جوہری تنصیبات پر حملے روکے جائیں۔
بحری گزر گاہوں کی حفاظت کی جائے۔ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے، سول اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ دیا جائے اور آبنائے ہرمز میں معمول کی آمد و رفت جلد از جلد بحال کی جائے۔اقوام متحدہ کے تحت جامع امن کے لیے ایک فریم ورک تشکیل دیا جائے۔