۔صحت بخش غذا کا انتخاب پھلوں اور سبزیوں کی صورت میں تو کرلیتی ہیں ،مگر یہ نہیں جانتیں کہ انہیں کاٹنے کھانے ،پکانے وغیرہ کے صحیح طریقے کیا ہیں ۔اس طرح وہ یاتو زیادہ کیلوریز لے لیتی ہیں یا پھر بہت کم اور یہ گڑ بڑزیادہ تروہ خواتین کرتی ہیں جو معلومات نہ ہونے کے باوجود اپنا ڈائٹنگ پلان خود تیا ر کرتی ہیں ۔
قدرت نے ٹھنڈے ،گرم اور معتدل موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے انسان کے لیے موسمی پھل اور سبزیاں پیدا کی ہیں ۔بعض اوقات ان کا غلط وقت پر اور غلط طریقے سے استعمال کر کے کئی لوگ انہیں فائدے مند بنانے کے بجائے نقصان دہ بنا لیتے ہیں ۔ایک دوسرے کی ضد والی سبزیاں اور پھل بغیر آگاہی کے کھائے جاتے ہیں ۔ساتھ ہی غلط طریقے سے سبزیاں پکائی اور کھائی جارہی ہوتی ہیں ۔مختلف انداز کے ساگ ابال کر کھانے یا بھاپ میں پکانے کے بجائے بھون بھون کرکھائے جارہے ہیں ۔
کچی کھانے والی یا بھاپ میں پکانے والی سبزیاں گھی تیل میں تل کر یا بگھار کر اور بھون کر استعمال کی جاتی ہیں ۔
ماہرین غذا کا کہنا ہے کہ خوراک اگر درست طریقے سے نہ پکائی جائے ،پھل اور سبزیاں درست طریقہ سے نہ کاٹی اور نہ کھائی جائیں تو ان کی افادیت کم یا ختم ہوجاتی ہے۔پھل اور سبزیوں کو کاٹنے، پکانے اور کھانے کے لیے درست طریقوں سے آگاہی حاصل کیجیے،ورنہ دبلی ہونا ممکن نہیں ہوسکے گا۔
ماہرین غذا کا کہنا ہے کہ وزن گھٹانے کی خواہش مند خواتین آلو کو بھول جائیں ۔لیکن اگر آلو کھانا ضروری ہے تو ابلے ہوئے آلو کھائیں یا اس کا بھرتا بنا کر اس میں لیموں یا سر کہ ضروری شامل کریں ۔
اسی طرح ہرے ،گول اور موٹے مٹر دیکھ کر ان کی طرف نہ لپکیں ،تلے ہوئے موٹے مٹر موٹاپے کا سبب بنتے ہیں ۔بھٹے اور مکئی کے دانے وزن بڑھا سکتے ،لہٰذا ان سے پر ہیز کرنا چاہیے ،نہ ابلے ہوئے ،نہ بھنے ہوئے اور نہ ہی نمک لیموں لگے ہوتے ۔
فیشن اور شوق میں سلاد کے پتے کھاکر ڈائٹنگ کرنے والی خواتین کو معل����م ہونا چاہیے کہ ماہرین خوراک ایسے کئی پتوں کو موٹا کرنے والی سبزیوں میں شامل کرتے ہیں ۔
ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ایک تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے ڈائٹنگ کرنے والے تیس ہزار سے زائد امریکی مرد اور عورتوں سے ان کی خوراک سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کیں تو یہ پتا چلا کہ وہ اپنی غذا میں جو 131غذائی اجزا لے رہے تھے ان میں بہت سے ایسے پھل اور سبزیاں شامل تھیں جنھیں وہ غلط طریقے سے کھارہے تھے ،وہ ورزش بھی نہیں کرتے تھے جس سے یہ پتا چلا کہ متوازن صحت مند پھل اور سبزیاں استعمال کرنے والوں کا وزن صرف اس لیے کم نہیں ہوا کہ وہ ان کو غلط طریقوں سے کاٹ کر اور پکا کر کھا رہے تھے ۔اگر ایسا کیا جائے تو جو اشیاء وزن کم کرنے میں معاون ہیں، وہی وزن بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں ۔غذا سے فوائد حاصل کرنے کے لیے غذا کی درست تعداد،اسے کاٹنے پکانے کا بھی صحیح طریقہ معلوم ہونا چاہیے۔
ماہرین غذا کا کہنا ہے کہ کوئی بھی پھل یا سبزی کھانے سے پہلے یہ ضرور معلوم کرلیں کہ اس میں کتنے حرارے یا کیلوریز ہیں ،ورنہ ان کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ وزن ایک ہی سطح پر بر قرار رہے ۔
ماہرین غذا کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچی پکی ،ابلی غذا کی مقدار ایک مٹھی ،ایک پیالہ ،ایک کپ اور ایک گلاس سے زیادہ نہ ہونے دیں ۔اسی طرح کیلا بھی موٹاپے کا سبب بن سکتا ہے ۔
بیر، کریلا ،میتھی اور چولائی کا ساگ کھانے میں احتیاط کریں ۔جن پھلوں میں زیادہ شکر ہوتی مثلاً آم ،کیلا ،ان کی فروٹ چاٹ بھی زیادہ نہ کھائیں ۔اگر کھانا ہی ہے تو اس میں لیموں یا نارنگی کا جوس ڈال کر کھائیں ۔
کم کیلوریز والا سلاد کھائیں ۔پھلوں کے مربے کھانے سے گریز کریں ۔سبزیوں کو بھون کر نہ کھائیں ۔نرم اور پتے والی سبزیاں ابال کر یا بھاپ میں پکائیں ۔سخت سبزیوں کوکدوکش کرکے پکائیں ۔پانی والی سبزیاں کو تیل میں نہ پکائیں ،بلکہ بغیر پانی کے بھاپ میں پکائیں یا دھیمی آنچ پر پکائیں جن میں ساگ ،توری ،بھنڈی ،گھیا،کدو،گاجر ،چقندر، پھول گوبھی ،مولی ،بینگن وغیرہ کو ان کے اپنے پانی میں گلا کر پکائیں ،اوپر سے بگھار کر مسالے ڈال دیں ۔
گودے والی سبزیاں کم پانی اور دھیمی آنچ پر بڑے ٹکڑے کرکے پکائیں جیسے مشروم ،پیاز،شلجم ،چقندر
،لوکی ،ٹنڈے وغیرہ کو ابالنا زیادہ سود مند ہے ،مگر ابالتے وقت اتنا ہی پانی ڈالیں جتنے میں وہ گل جائیں اور پانی خشک ہو کر انہی میں جذب ہوجائے۔
سبزیاں پکانے سے پہلے کاٹ کر نہ رکھیں بلکہ پکاتے وقت کاٹیں ورنہ ان کی افادیت کم ہوجائے گی ۔ریشے والے آم کو نرم کرکے چوسیں ،اسے کاٹ کر نہ کھائیں ۔اگر آم کاٹ کر کھانے ہیں تو اس کی لمبائی میں قاشیں کاٹ کر چھوٹے ٹکڑے کرلیں تا کہ اس کے وٹامنز ضائع نہ ہوں ۔سیب کو گولائی میں نہ کاٹیں بلکہ اس کی قاشیں کرلیں ۔انگور ،لیچی ،بیریاں ،انار وغیرہ کارس نکالنے کے بجائے انہیں ثابت کھائیں ۔
امرود ،ناشپاتی ،مٹھے،آڑووغیرہ کو چار چار ٹکڑے کرکے کھائیں ۔
آلو چہ،خوبانی وغیرہ کو دو ٹکڑے کرکے کھائیں ،چھری نہ لگائیں تو اچھا ہے ۔ترش پھلوں کو ہاتھ سے توڑ کر استعمال کریں ۔کھیرے،ککڑی اور شملہ مرچ کو لمبائی میں کاٹ کر کھانا مفید ہے ۔ٹماٹر سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لیے اسے چار ٹکڑے کرکے کھائیں ،نہ ثابت کھائیں اور نہ زیادہ قتلے کریں۔زیادہ بہتر ہو گا کہ اس کا چھلکا اتار کر کھائیں ۔اسی طرح گوار پھلی ،سیم کی پھلی ،مونگرے اور پالک سمیت تمام ساگ ہاتھ سے توڑ کرپکائیں ۔بھنڈی ،توری ،لوکی وغیرہ قتلے کرکے پکائیں ۔بند گوبھی ،کھیرا ،ککڑی ،پیاز لہسن ،ہری مرچ ،گاجر ،شلجم ،چقندر کو کچا کھانا مفید ہے ۔
گوشت میں چقندر اور شلجم چار ٹکڑے کرکے ڈالیں۔ ادرک لہسن ہمیشہ کاٹ کر استعمال کریں ،ثابت یا بڑے ٹکڑے نہ کریں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انار کو اس کے دانوں پر لپٹی جھلی کے ساتھ کھائیں ،کیوں کہ یہ جھلی انار کے دانوں کو معدے میں ہضم ہونے میں مدد دیتی ہے اور مقوی معدہ ہے۔ماہرین غذاکا کہنا ہے کہ جو چیز چھلکے سمیت بہ آسانی کھائی جا سکتی ہے ،اس کا چھلکا نہ اتاریں ورنہ وٹامن ضائع ہوجائیں گے جیسے سیب ،چیکو ،آڑو،آلو چہ اور کھیراوغیرہ۔
جو سبزیاں چھلکوں سمیت کھانے میں مفید ہیں ،ان میں کدو،لوکی ،توری ،چقندر ،شلجم وغیرہ شامل ہیں ۔
ان سبزیوں کے چھلکوں میں ہی وٹامن ،منرلز ،معدنیات اور نمکیات وغیرہ کا خزانہ جمع ہوتا ہے ۔