پاکستان مسلسل دنیا کو یہ جتلانے کی کوشش کررہا ہے کہ بالاکوٹ میں ہندوستانی فضائیہ کی ائیر اسٹرائیک سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ امریکہ میں رہ رہے پاکستان کے گلگت کے سماجی کارکن سینگے حسنان سیرنگ نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بالاکوٹ ائیر اسٹرائیک کو لے کر سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔سیرنگ نے دعوی کیا ہے کہ مقامی اردو اخباروں میں شائع خبر کے مطابق ائیر اسٹرائیک کے بعد 200 دہشت گردوں کی لاشوں کو پاکستانی فوج نے بالاکوٹ سے خیبر پختونخوا پہنچادیا تھا۔
سیرنگ نے ٹویٹر پر دو منٹ 20 سکینڈ کا ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "ہندوستان کے فضائی حملہ کے بعد پاکستان کے فوجی اہلکاروں نے 200 سے زیادہ دہشت گردوں کو دفنانے کی بات کا اعتراف کیا ہے۔ دہشت گرد مجاہد کو اللہ سے ملی خاص سوغات کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ پاکستانی حکومت کیلئے دشمن کے خلاف کام کررہے تھے۔ ان کے اہل خانہ کو تعاون دینے کی بات کی "۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مبینہ طور پر پاکستانی فوج کا ایک افسر کسی گاوں میں ایک کنبہ کے پاس پہنچتا ہے۔ وہاں چاروں طرف ماتم چھایا ہوا ہے۔ فوج کا یہ اہلکار دہشت گرد کے کنبہ کو سمجھانے کی کوشش کررہا ہے۔سینگے حسنان کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو کتنا صحیح ہے ، یہ میں نہیں کہہ سکتا ہے ، لیکن یہ سچ ہے کہ بالاکوٹ میں جو کچھ بھی ہوا پاکستان اس کو چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔ وہ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کو وہاں نہیں جانے دے رہا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ پاکستان کے مقامی اخباروں میں لاشوں کو لے جانے کے بارے میں بھی خبریں شائع ہوئی ہیں۔
https://twitter.com/SengeHSering/status/1105660202337095681