اسلام آباد۔پاکستان کے صوبے سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ایک ہندو استاد پر توہینِ رسالت کا الزام عائد کیے جانے اور مشتعل ہجوم کی جانب سے ایک نجی سکول اور اس کے مالک کی رہائش گاہ پر حملے کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔
صحافی علی حسن کے مطابق توہینِ رسالت کا یہ مبینہ واقعہ سنیچر کو پیش آیا تھا جب ایک نجی سکول کے نویں جماعت کے طالب علم کی جانب سے نوتن مل نامی ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے استاد پر پیغمبرِ اسلام کی توہین کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔نویں جماعت کے اس طالبعلم کا دعویٰ تھا کہ نوتن مل کمرۂ جماعت میں سبق پڑھاتے ہوئے مبینہ طور پر توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔
یہ طالبعلم جس سکول میں زیرِ تعلیم تھا وہ نوتن مل کی ہی ملکیت ہے جو کہ ایک ریٹائرڈ پروفیسر ہیں۔مذکورہ طالبعلم کے والد نے اس سلسلے میں پولیس سے رابطہ کیا اور پولیس کے مطابق ہندو استاد کو گرفتار کر کے توہینِ رسالت کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے