شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف بنگلورو کی ایک تقریب میں ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے والی لڑکی امولیہ لیونا کے خلاف ملک سے غداری کا کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھی بھیج دیا گیا ہے۔ امولیہ لیونا نے آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سربراہ اسدالدین اویسی کی سی اے اے مخالف ریلی میں ان کی موجودگی میں ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا تھا جس کی وجہ سے کافی ہنگامہ برپا ہوگیا۔
Karnataka: Amulya (who raised 'Pakistan zindabad' slogan at an anti-CAA rally in Bengaluru, yesterday) & was charged with sedition, sent to 14-day judicial custody pic.twitter.com/vWS55tDZEQ
— ANI (@ANI) February 21, 2020
دراصل اسدالدین اویسی کی ریلی جمعرات کو منعقد ہوئی تھی جس میں امولیہ نے اسٹیج پر پہنچ کر ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگا دیا۔ اس کے بعد ریلی میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اس واقعہ کے بعد اویسی اسٹیج پر پہنچے اور امولیہ سے مائک چھیننے کے لیے بڑھے۔ کچھ دیگر لوگوں نے بھی امولیہ کو اسٹیج سے ہٹانے کی کوشش میں آگے بڑھے۔ لیکن امولیہ اپنی بات رکھنے کے لیے اسٹیج پر بضد نظر آئی۔ بعد میں پولس نے آگے بڑھ کر امولیہ کو اسٹیج سے ہٹایا۔ واضح رہے امولیہ نے بعد میں اپنی بات کہنے کے لئے ہندوستان زندآباد کے نعرے بھی لگائے لیکن منتظمین نے اس کو پولیس کے ذریعہ اسٹیج سے نیچے اتروا دیا۔
#WATCH The full clip of the incident where a woman named Amulya at an anti-CAA-NRC rally in Bengaluru raised slogan of 'Pakistan zindabad' today. AIMIM Chief Asaddudin Owaisi present at rally stopped the woman from raising the slogan; He has condemned the incident. pic.twitter.com/wvzFIfbnAJ
— ANI (@ANI) February 20, 2020
اس واقعہ کے بعد اسدالدین اویسی نے مائک ہاتھ میں لے کر ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے والی لڑکی کی مذمت کی۔ اویسی نے اس واقعہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے جیسے ہی سنا کہ اسٹیج پر کوئی ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگا رہا ہے تو میں دوڑ کر آیا۔ میں نماز پڑھنے کے لیے جا رہا تھا جب یہ نعرہ لڑکی نے لگایا۔ میں نے جیسے ہی یہ واہیات نعرہ سنا تو آ کر اسے روکا۔ اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ان کو (امولیہ کو) ملک سے کوئی محبت نہیں ہے۔ میں اس طرح کی بات کی مذمت کرتا ہوں۔ اس طرح کی حرکت کو کبھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان زندہ باد ہے اور رہے گا۔‘‘
امولیہ کے والد کا بھی اس پورے معاملے میں رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کی بیٹی ایک خاص طبقہ کے لوگوں سے متاثر تھی اور اسے ایسی سرگرمیوں سے دور رہنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن وہ نہیں مانی۔ اس کے والد نے کہا کہ وہ بیتی کے اس عمل کی حمایت نہیں کرتے اور پولیس جو چاہے اس کے ساتھ کرے۔ ادھر خبر ہے کہ کل کچھ شدت پسندوں نے امولیہ کے گھر پر توڑ پھوڑ کی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو