جموں و کشمیر سے متعلق پھیلائی جا رہی افواہ پر کانگریس نے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے کسی بھی ناپاک ارادے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ کشمیر ہمارا تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے بدھ کے روز میڈیا سے کہا کہ ’’ہم نے ایسی خبریں دیکھی ہیں جن میں پاکستانی حکومت کے ذریعہ جموں و کشمیر ایشو پر اقوام متحدہ میں دی گئی مبینہ عرضی کے حوالے سے راہل گاندھی کا نام شرارت خیز طریقے سے گھسیٹا گیا ہے تاکہ پاکستان کے ذریعہ پھیلائے گئے جھوٹوں اور غلط خبروں کے انبار کو سچ ثابت کیا جا سکے۔‘‘
INC COMMUNIQUE
Statement of Sri. @rssurjewala ,I/C , Communications on the alleged petition by Pakistan in which they have mischievously dragged Rahul Gandhi's name. pic.twitter.com/ifuJJ8R3Vp
— INC Sandesh (@INCSandesh) August 28, 2019
کانگریس ترجمان سرجے والا نے مزید کہا کہ دنیا میں کسی کو بھی اس بات میں اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کہ جموں وکشمیر اور لداخ ہندوستان کے اٹوٹ حصے تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کتنی بھی سازش کر لے، ترکیبیں اپنا لے، لیکن اس سچائی کو کبھی بدلا نہیں جا سکتا۔
دوسری طرف راہل گاندھی نے بھی کشمیر میں تشدد پھیلانے کے لیے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ راہل گاندھی نے واضح لفظوں میں کہا کہ وہ کئی ایشوز پر مودی حکومت سے اتفاق نہیں رکھتے، لیکن یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے اور پاکستان یا کوئی دوسرا ملک اس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ راہل گاندھی نے پاکستان پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پڑوسی ملک جموں و کشمیر میں تشدد بھڑکا رہا ہے اور دہشت گرد حامی کے طور پر دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔
There is violence in Jammu & Kashmir. There is violence because it is instigated and supported by Pakistan which is known to be the prime supporter of terrorism across the world.
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) August 28, 2019
راہل گاندھی نے اپنے ایک دیگر ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’جموں و کشمیر میں تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے اور اس کے لیے پاکستان ذمہ دار ہے۔ یہ پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی حمایت کرنے والا ملک ہے اور یہ کشمیر میں لوگوں کو مشتعل کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
