ٹی ای ٹی پیپر لیک معاملہ: بھیونڈی عدالت نے تینوں ملزمان کو 6 جولائی تک پولیس تحویل میں بھیجا، ماسٹر مائنڈ کی تلاش تیز

بھیونڈی ( شارف انصاری):- مہاراشٹر ٹیچر ایلیجیبلیٹی ٹیسٹ (TET) پیپر لیک معاملے میں اتوار کے روز اہم پیش رفت سامنے آئی۔ اس سنسنی خیز معاملے میں گرفتار تینوں ملزمان کو کونگاؤں پولیس نے بھیونڈی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے انہیں 6 جولائی تک پولیس تحویل (پولیس کسٹڈی) میں بھیجنے کا حکم دیا۔ عدالت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس کو ملزمان سے تفصیلی تفتیش کی اجازت بھی دی ہے۔

واضح رہے کہ 28 جون کو ریاست بھر میں منعقد ہونے والے ٹی ای ٹی امتحان سے عین قبل کونگاؤں پولیس نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے بہار کے رہائشی راجیو شاؤ (45)، آکاش کمار (30) اور ہریانہ کے رہائشی دھیرج سنگھ (28) کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے ٹی ای ٹی امتحان کے چار مختلف سوالیہ پرچے برآمد ہوئے، جنہیں مبینہ طور پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے میں فروخت کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔

اس بڑے انکشاف کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ریاست بھر میں منعقد ہونے والا ٹی ای ٹی امتحان فوری طور پر ملتوی کر دیا، جس سے لاکھوں امیدواروں کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

گرفتاری کے بعد تینوں ملزمان کا طبی معائنہ کرایا گیا اور بعد ازاں انہیں بھیونڈی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ صرف تین افراد تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم اور وسیع نیٹ ورک کے سرگرم ہونے کا شبہ ہے، جس کی مکمل چھان بین کے لیے مزید پولیس تحویل ضروری ہے۔ عدالت نے پولیس کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو 6 جولائی تک پولیس تحویل میں بھیجنے کا حکم صادر کیا۔

ملزمان کے وکیل ایڈووکیٹ شیلیش گائیکواڑ نے بھی عدالت کی جانب سے 6 جولائی تک پولیس کسٹڈی دیے جانے کی تصدیق کی۔ دوسری جانب سرکاری وکیل نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ اس سنگین معاملے کی گہرائی سے تفتیش ناگزیر ہے تاکہ پورے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا جا سکے۔ اب کونگاؤں پولیس کی تفتیش کا مرکز اس پیپر لیک ریکیٹ کے اصل سرغنہ (ماسٹر مائنڈ)، دیگر ساتھیوں، مالی لین دین، ڈیجیٹل شواہد اور پورے نیٹ ورک کا سراغ لگانا ہے۔ پولیس کو امید ہے کہ دورانِ تحویل ہونے والی پوچھ گچھ سے اس منظم گروہ کے مزید اہم راز بے نقاب ہوں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading