ٹیم میں تجربے کے فقدان کے سبب افغانستان کو نہیں ملی جیت

افغانستان نے آئی سی سی ورلڈ کپ میں بے شک اپنے تمام نو میچ ہارے لیکن اس ٹیم نے اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا ہے۔ افغانستان کی کارکردگی کئی طرح سے قابل ستائش رہی اور اس نے کئی مضبوط ٹیموں کو سخت ٹکر دی۔ لیکن بین الاقوامی سطح پر تجربے کی کمی اس کے آڑے آئی جس کی وجہ سے اس نے چند میچ جیتنے کے موقع گنوادئے ۔ سابق ہندستانی کرکٹر وی وی ایس لکشمن سمیت کئی کرکٹرز نے افغانستان کی کارکردگی کی ستائش کی لیکن ساتھ ہی کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو افغانستان کو بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کے زیادہ موقع دینے ہوں گے۔

عالمی کپ میں افغانستان کا سب سے یادگار میچ ہندستان کے خلاف رہا ہے۔ افغانستان نے ہندوستان کو اپنا گھریلو میدان بنا رکھا ہے اور وہ ہندستان کے دہرہ دون میں اپنے گھریلو بین الاقوامی میچ کھیلتا ہے۔ اس نے ایک وقت تو ہندستان کے ماتھے پر پسینہ ہی لا دیا تھا۔ اگرچہ ہندستان نے اپنے تجربے کی بدولت مقابلہ 11 رنز سے جیتا۔

افغانستان نے ہندوستان کو آٹھ وکٹ پر 224 رن پر روکنے کے بعد 49.5 اوور میں 213 رن بنائے تھے۔ دیگر میچوں میں افغانستان کو آسٹریلیا نے سات وکٹ سے، سری لنکا نے 34 رنز سے، نیوزی لینڈ نے سات وکٹ سے، جنوبی افریقہ نے نو وکٹ سے، بنگلہ دیش نے 62 رنز سے، پاکستان نے تین وکٹ سے اور ویسٹ انڈیز نے 23 رنز سے شکست دی۔پاکستان کے خلاف افغانستان نے نو وکٹ پر 227 رن بنائے تھے جبکہ پاکستان نے 49.4 اوور میں سات وکٹ پر 230 رن بنا کر دو گیند باقی رہتے ہدف حاصل کیا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے آخری لیگ میچ میں 312 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے افغانستان نے 288 رن بنائے۔

افغانستان کو اس عالمی کپ میں اپنے اسپنروں خاص طور لیگ اسپنر راشد خان پر خاصا اعتماد تھا جو ٹوئنٹی 20 رینکنگ میں دنیا کے نمبر ایک بولر ہیں لیکن راشد نو میچوں میں چھ وکٹ ہی حاصل کر سکے۔ محمد نبی نے نو میچوں میں 10 وکٹ اور کپتان گلبدين نائب نے نو میچوں میں نو وکٹ لئے۔ افغانستان کی بیٹنگ عالمی کپ میں کمزور ثابت ہوئی اور صرف نجیب اللہ زدران اور رحمت شاہ ہی 200 رنز کا ہندسہ پار کر سکے۔ زدران نے 230، شاہ نے 254، حشمت اللہ شاهدي نے 197 اور نائب نے 194 رن بنائے۔

تنازعات نے بھی ورلڈ کپ میں افغانستان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ عالمی کپ سے پہلے اصغر افغان کو کپتانی سے ہٹا کر نائب کو نیا کپتان بنایا گیا تھا۔ ٹورنامنٹ کے دوران اوپنر محمد شہزاد کو فٹنس کے سبب وطن واپس بھیجا گیا۔ شہزاد نے بعد میں الزام لگایا کہ وہ پوری طرح فٹ تھے لیکن انہیں جان بوجھ کر عالمی کپ ٹیم سے باہر کیا گیا۔

افغانستان کی ٹیم نے عالمی کپ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے دعوی کیا تھا کہ وہ کچھ ایشیائی ٹیموں کو ضرور چونكائےگي لیکن بین الاقوامی تجربے کی کمی کی وجہ سے ٹیم کو اپنے دوسرے ورلڈ کپ میں مایوس ہونا پڑا۔ ٹیم نے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں سرفہرست مقام حاصل کر عالمی کپ میں جگہ بنائی تھی لیکن وہ اس سے لگائی گئی امیدوں پر کھری نہیں اتر پائی۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading