بھائی ۔ بہن کو بڑا جھٹکا،راہول اور پرینکا کے خلاف ایف آئی آر درج

نئی دہلی:تازہ اطلاعات کے مطابق 7 اکتوبر 2026 کو دہلی پولیس نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس رکن پارلیمنٹ پریانکا گاندھی وادرا سمیت دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ معاملہ آکاش وانی بھون میں مبینہ طور پر بغیر اجازت داخل ہونے سے متعلق ہے۔

اصل معاملہ کیا ہے؟

6 اکتوبر کو انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے خلاف دہلی میں احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے اور ایس آئی آر سمیت ووٹر فہرستوں سے متعلق اپنے اعتراضات اٹھا رہے تھے۔ احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو انتخابی کمیشن کے دفتر کی طرف جانے سے روک دیا۔

اس کے بعد راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی سمیت کچھ ارکان پارلیمنٹ آکاش وانی بھون کے احاطے میں پہنچ گئے اور وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ پولیس اور عمارت کے عملے کی جانب سے انہیں احاطہ خالی کرنے کے لیے کہا گیا، لیکن احتجاج جاری رہا۔ بعد میں پولیس نے راہل گاندھی، پریانکا گاندھی اور دیگر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔

ایف آئی آر میں کیا الزام ہے؟

آکاش وانی کے ملازمین کی شکایت کے مطابق راہل گاندھی، پریانکا گاندھی اور ان کے ساتھ موجود دیگر ارکان پارلیمنٹ پر آکاش وانی بھون میں مبینہ طور پر زبردستی داخل ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے شکایت موصول ہونے کے بعد ایف آئی آر درج کرکے معاملے کی تفتیش شروع کردی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ابھی تک پولیس کی جانب سے ایف آئی آر میں لگائی گئی مخصوص دفعات کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ اس لیے فی الحال یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ان دونوں رہنماؤں پر کون کون سی قانونی دفعات عائد کی گئی ہیں۔

احتجاج کس معاملے پر تھا؟

یہ احتجاج انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی یعنی SIR اور الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار کو لے کر اپوزیشن کے اعتراضات کے سلسلے میں تھا۔ اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن ان الزامات کو مسترد کرچکا ہے۔

اس واقعے کے بعد سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ ایف آئی آر کے قانونی پہلوؤں اور پولیس کی تحقیقات کے نتیجے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading