ممبئی: صرافہ بازار میں سونے اور چاندی سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مرکزی حکومت سونے، چاندی اور پلاٹینم جیسی قیمتی دھاتوں کی درآمد سے متعلق موجودہ ٹیکس رعایت میں بڑی تبدیلی کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی حکومت اور ریاستوں کے وزرائے خزانہ پر مشتمل جی ایس ٹی کونسل کا اہم اجلاس 7 اکتوبر کو ہونے والا ہے، جس میں اس تجویز پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت بینکوں اور حکومت کی جانب سے منظور شدہ اداروں کے ذریعے قیمتی دھاتوں کی درآمد پر ملنے والی انٹیگریٹڈ جی ایس ٹی یعنی آئی جی ایس ٹی کی رعایت کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ موجودہ نظام کے تحت ملک کے تاجر جب سونے اور چاندی کی درآمد کرتے ہیں تو اس لین دین پر 3 فیصد آئی جی ایس ٹی عائد ہوتا ہے، تاہم بینکوں اور منظور شدہ اداروں کے ذریعے درآمد پر بعض صورتوں میں ٹیکس رعایت حاصل ہوتی ہے۔ یہ رعایت 2017 سے دی جا رہی ہے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ سونے کی بڑھتی ہوئی درآمد سے ملک کے زرمبادلہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ چین کے بعد بھارت دنیا میں سونے کی سب سے زیادہ خریداری کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سونے کی درآمد کو محدود کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حالیہ عرصے میں حکومت نے سونے، چاندی اور پلاٹینم کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں بھی اضافہ کیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود ملک میں سونے کی خریداری کا رجحان برقرار ہے۔ رواں مالی سال اپریل سے اگست کے دوران بھارت کی سونے کی درآمد میں 3.38 فیصد اضافہ ہوا اور اس کی مجموعی مالیت تقریباً 17.47 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھی بھارتی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں حکومت سونے کی درآمد اور اس سے وابستہ زرمبادلہ کے اخراج کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
اگر جی ایس ٹی کونسل کی جانب سے آئی جی ایس ٹی رعایت ختم کرنے کی تجویز منظور کی جاتی ہے تو اس کا اثر قیمتی دھاتوں کی درآمد کی لاگت پر پڑ سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں سونے اور چاندی کی قیمتوں پر بھی اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ تاہم قیمتوں میں اصل تبدیلی عالمی بازار، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور مانگ سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوگی۔