مہا یوتی حکومت کا بجٹ حقیقت سے دور، کھوکھلے وعدوں کا پلندہ:امول ماتیلے
ممبئی: این سی پی شرد پوار کے ترجمان اور ممبئی یوتھ ونگ کے صدر ایڈوکیٹ امول ماتیلے نے مہا یوتی حکومت کے بجٹ کو انتخابی جھانسہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ محض الفاظ کی بازیگری ہے، جبکہ عملی اقدامات ندارد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوں، خواتین، نوجوانوں اور عام عوام کو بڑے خواب دکھائے، مگر بجٹ میں ان وعدوں کی تکمیل کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل نظر نہیں آتا۔
ریاستی بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی کسان دوست پالیسیوں کے دعوے صرف زبانی جمع خرچ ثابت ہوئے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران کسانوں کو مکمل قرض معافی کا وعدہ کرنے والے آج خاموش ہیں۔ مہنگائی، پیداوار کی کم قیمت اور سرکاری خریداری کے فقدان نے کسانوں کو مزید بحران میں ڈال دیا ہے، مگر حکومت نے ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے صرف تسلیاں دینے پر اکتفا کیا ہے۔ کسانوں کو امدادی قیمت میں اضافے کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی، جبکہ سرکاری خریداری کے بجائے بازار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ فصل بیمہ اسکیم کے تحت کسانوں کو ان کا جائز حق ملے گا یا پھر انشورنس کمپنیاں ہی فائدہ اٹھائیں گی؟ اس پر بھی حکومت کی پالیسی مبہم ہے۔
ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے کہا کہ خواتین کے لیے اعلان کردہ اسکیمیں بھی محض نمائشی ثابت ہو رہی ہیں۔ ’لاڈکی بہین‘ اسکیم کے تحت 2100 روپے دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، مگر بجٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ الٹا شرائط سخت کر دی گئی ہیں اور مالی امداد کی رقم سرے سے غائب ہو چکی ہے۔ خواتین کے تحفظ کے معاملے میں بھی حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ ریاست میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے۔
این سی پی- ایس پی کے ترجمان نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے وعدے بھی کھوکھلے نکلے۔ لاکھوں نوجوانوں کو سرکاری بھرتیوں کا لالچ دیا گیا تھا، مگر اب بھرتیاں ہی ختم کر دی گئی ہیں۔ تعلیم کے لیے بجٹ میں کوئی خاص رقم مختص نہیں کی گئی، جبکہ سرکاری اشتہارات پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کی توجہ تعلیمی وظائف اور بنیادی سہولتوں پر ہونی چاہیے تھی، مگر وہ صرف اپنی تشہیر میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں صنعتیں لگنے کے بجائے دوسری ریاستوں میں منتقل ہو رہی ہیں، جس سے ریاست کی معیشت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ گجرات میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے، مگر مہاراشٹر میں سرمایہ کار عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ حکومت نے اس اہم مسئلے پر کوئی ٹھوس حکمت عملی پیش نہیں کی، جس سے مہاراشٹر کی صنعتی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔
ایڈووکیٹ ماتیلے نے کہا کہ حکومت کی ناکامیوں کی فہرست میں صحت اور بنیادی سہولتوں کی بدحالی بھی شامل ہے۔ دیہی علاقوں کے صحت مراکز خالی پڑے ہیں، سرکاری اسپتالوں میں دوائیں نہیں ملتیں، جبکہ وزراء کے لیے مہنگے نجی اسپتالوں کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ عوام کو بنیادی طبی سہولتیں دینے کے بجائے حکومت اپنی ترجیحات کہیں اور مرکوز کیے ہوئے ہے۔ پانی، بجلی اور سڑکوں کی خستہ حالی نے عوام کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ مہا یوتی حکومت کے بڑے بڑے دعووں کے باوجود دیہی اور شہری علاقوں میں بنیادی ضروریات کی فراہمی تسلی بخش نہیں ہے۔ عوام کو بہتر معیارِ زندگی دینے کے بجائے حکومت نے صرف اشتہارات اور اعلانات پر زور دیا ہے۔
ایڈوکیٹ امول ماتلے نے کہا کہ یہ بجٹ حکومت کی ناکامیوں کی داستان ہے۔ ریاست کو چلانے کے لیے حکومت کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں، مگر انتخابی وعدے بڑھ چڑھ کر کیے جا رہے ہیں۔ عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جبکہ مخصوص سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کو تسلیاں اور امیروں کو مراعات دینے والی پالیسی اب زیادہ دیر تک نہیں چلے گی۔ عوام حکومت کے کھوکھلے وعدوں کو سمجھ چکی ہے اور وقت آنے پر اسے اس کا جواب ضرور دے گی۔
