بقایا بجلی بل کا 30 کروڑ روپئے کمپنی کو کیاگیا ادا
بھیونڈی ( شارف انصاری):- بھیونڈی کی بجلی ٹھیکیدار پر حکومت کی مہربانی اجاگر ہوئی ہے ۔ ریاستی حکومت نے کارپوریشن کی طرف سے عائد کئے گئے 385 کروڑ کے ٹیکس کو جہاں معاف کر دیا ہے ۔وہیں کارپوریشن کا بقایا بجلی بل 30 کروڑ روپئے کی ادائیگی بھی ٹورنٹ پاور کو کر دیا گیا ہے ۔ جسے لے کر میونسپل انتظامیہ میں ناراضگی پھیل گئی ہیں ۔ مئیر جاوید دلوی نے اس معاملے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے انصاف نہ ملنے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا انتباہ بھی دیا ہے ۔
معلوم ہو کہ ریاستی حکومت نے 2006 میں بھیونڈی میں بجلی فرنچائزز کا ٹھیکہ ٹورنٹ پاور کمپنی کو دیا تھا۔ تقریبا 10 سال تک کارپوریشن کی زمین پر لگے آلات اور پراپرٹی ٹیکس اور بقایا رقم جوڑ کر کارپوریشن نے ٹورنٹ پاور کمپنی کو 385 کروڑ روپئے کے ٹیکس بھرنے کی نوٹس ٹورنٹ پاور کمپنی کو دیا گیا تھا ۔ جس کو نہ بھرنے پر کارپوریش نے ٹورنٹ پاور کا دفتر تک سیل کردیا تھا۔جس کے بعد یہ معاملہ ریاستی حکومت کی در پر پہنچ گیاتھا ۔کئی سالوں سے یہ معاملہ حکومت کے پاس فیصلے کے لئے زیرغور تھا ۔ بالآخر مہاراشٹر حکومت نے کارپوریشن کے موقف کی سماعت نہ کرتے ہوئے یک طرفہ فیصلہ دے کر ٹورنٹ پاور کمپنی کو 385 کروڑ روپئے کے ٹیکس میں مکمل طور پر چھوٹ دے دی ہے ۔ اتنا ہی نہیں اسی طرح حکومت نے کارپوریشن کے ذریعہ ٹورنٹ پاور کا بقایا رکھے بجلی بل کا 30 کروڑ روپئے بھی ادا 7 ویں وت آیوگیہ میں کارپوریشن کو ملی رقم میں سے کر ديا ۔ مہاراشٹر حکومت نے بغیر کارپوریشن انتظامیہ کی رضامندی کے پہلے 17 کروڑ روپئے اور اس کے بعد 13 کروڑ 13 لاکھ روپئے اس طرح کل ملا کر 30 کروڑ 13 لاکھ روپئے ٹورنٹ پاور کمپنی کو سونپ دیا ۔ اس فیصلے کے بعد کارپوریشن اور حکومت آمنے سامنے ہوگئے ہے ۔ گورنمنٹ کے اس یک طرفہ فیصلے سے بھیونڈی کارپوریشن کی تمام ترقیاتی پالیسیوں کو بھی گہرا دھچکا لگا ہے ۔ اگر یہ بھاری بھرکم ٹیکس کی رقم بھیونڈی کارپوریشن کو نہیں ملی تو بھیونڈی کارپوریشن کی کئی اسکیمیں کھٹائی میں پڑ جائے گی ترقیاتی کام بھی متاثر ہوگا ۔
اس تناظر میں ریاستی حکومت کے مذکورہ دونوں فیصلے پر میئر جاوید دلوی نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ریاستی حکومت اور حکومت کھلے عام ٹورنٹ پاور کمپنی کی جانب داری کررہی ہے ۔ اسی وجہ سے حکومت نے کارپوریشن کو اپنا یکطرفہ فیصلہ سناتے ہوئے 30 دن کی آخری تاریخ دی۔ جو صرف اور صرف ایک رسمی خانہ پری ہے ۔ میئر نے بتایا کہ ہم قانونی مشورہ طلب کرنے کے ساتھ سبھی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ ملاقات کریں گے ۔ اس کے بعد پھر ہم حکومت کے سامنے اپنا موقف رکھیں گے ۔ میئر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اور انتظامیہ نے ہماری بات کو سن کر مناسب فیصلہ نہیں کیا تو ہم حکومت کے فیصلے کے خلاف عدالت میں جائیں گے ۔