ٹمل ناڈو میں اردو کا مستقبل

اسانغنی مشتاق احمد رفیقیؔ

ٹمل ناڈو میں اُردو زبان کی بقا اور ترقی کی جدوجہد ایک مسلسل عمل ہے۔ یوں تو اُردو زبان پورے ہندوستان میں زبوں حالی کا شکار ہے۔ اُردو زبان اور اس سے جڑی ہمہ رنگی تہذیب کے اس زوال میں جہاں ارباب حکومت پوری طرح ملوث ہیں، وہیں اس کے نام نہاد ہمدردوں نے بھی اپنی وقتی مفادات کے لئے اس پیاری زبان کو قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا۔

خاص کر ٹمل ناڈو میں حکومت سے اُردو زبان کے لئے خصو صی مراعات کی امید رکھنا اس لئے بھی فضول ہے کہ یہ بات یہاں کی تمام سیاسی پارٹیوں کے اصول سے ٹکراتی ہے۔اس پہ سونے پہ سہاگہ کہ یہاں کا اُردو داں طبقہ بھی اُردو سے کوئی جذباتی لگاؤ نہیں رکھتا ہے۔ خالص کاروباری ذہنیت کے حامل، ہر چیز کو نفع و نقصان کے ترازو میں تولنے والے اس طبقے سے اک ایسی زبان کی ترقی و بقا کی جدوجہد میں شامل ہونے کی درخواست کرنا عبس ہے، جس کے ساتھ کسی بھی قسم کی مادی فوائد جڑے ہوئے نہیں ہیں، بھلے سے وہ اُن کی اپنی زبان ہی کیوں نہ ہو۔ پھر بھی اس سعیِ لا حاصل میں آج کل کچھ سر پھرے جڑنے لگے ہیں۔

ٹمل ناڈو میں بقول حکومت مسلمانوں کی تعداد 6% ہے یا اگر ہم اپنی سیاسی پارٹیوں کی بات مان کر چلیں تو8% سے 10% ہے۔ ان میں اکثریت ٹمل بولنے والوں کی ہے۔ اُردو بولنے والے 2% یا اس سے کچھ ذیادہ ہوسکتے ہیں۔ چنئی یعنی مدراس، ضلع ویلور جس میں میل وشارم، گڈیاتم، پرنامبٹ، آمبور اور وانمباڑی شامل ہے، اور ترپاتور، دھرم پوری، کرشنگری، کوئمبتور، سیلم اور ہُسور وغیرہ ایسے علاقے ہیں جہاں اُردو بولنے والے آباد ہیں۔ خاص کر ضلع ویلور کو ٹمل ناڈو میں اُردو کا گڑھ کہا جاتا ہے، اور بالخصو ص وانمباڑی کو ٹمل ناڈو کے اُردو داں طبقے میں صدر مقام کی حیثیت حاصل ہے۔

اُردو زبان کی ترقی اور بقا کے لئے یہاں سے ان گنت تحریکیں اور انجمنیں پیدا ہوئیں ہیں اور یہ عمل ہنوز جاری ہے۔ یہ بات دعویٰ سے کہی جاسکتی ہے کہ پورے ٹمل ناڈو میں اگر معیاری اُردو کہیں سب سے زیادہ لکھی، بولی، پڑھی اور سمجھی جاتی ہے تو اُ س میں سر فہرست وانمباڑی ہے۔ یہاں کا ہر خاص و عام اُردو سے جنون کے حد تک نہ سہی تھوڑی بہت محبت ضرور رکھتا ہے، اور اپنی اس پیاری زبان سے کسی نہ کسی شکل میں جڑے رہنے کوپسند کرتا ہے۔ چاہے وہ روزمرہ کے بول چال میں ہو یا اپنی مذہبی اجتماعوں میں،گاہے بہ گاہے شعر و ادب کی محفلوں میں شرکت کر کے ہو یا گھر میں ہی اُردو کتب و رسائل کا مطالعہ کر کے۔ یہ اور بات ہے کہ سائنسی انقلابات کی وجہ سے جس طرح پورے عالم میں پرانی قدریں بُری طرح زوال پذیر ہیں، اسی طرح یہاں بھی یعنی وانمباڑی میں بھی اردو اور اُس سے جڑی تہذیبی قدریں دھیرے دھیرے تنزل کا شکار نظر آرہی ہیں۔ کہتے ہیں ایک دور ایسا بھی تھا جب تمل ناڈو کے بہت سارے علاقوں میں اردو پڑھی، لکھی اور بولی جاتی تھی۔ جن میں مدورائی، کوئمبتوراور سیلم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ لیکن یہ بات اب ایک قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ وہاں اردو بولنے والے شاید کچھ مل جاتے ہیں لیکن پڑھنے اور لکھنے والے ندارد۔ اردو کے اکثر اسکول جو حکومت کی مالی امداد پر قائم ہیں یا تو بند ہوچکے ہیں یا بند ہونے کے قریب ہیں۔ ہاں کچھ دینی مدرسے ایسے ہیں جو آج بھی اردو کو گلے لگائے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کی تعداد بھی بتدریج کم ہوتی جارہی ہے۔ طلباء کی کمی کا شکار یہ مدرسے اور کتنے دن اردو کے مشعل روشن رکھ سکیں گے یہ کہنا بہت مشکل ہے۔ کالج اور یونیورسٹیوں میں بھی اردو اب خال خال ہی نظر آتی ہے۔ شہر مدراس جو آج چنئی کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک وقت ایسا بھی تھا جب یہاں علامہ اقبال جیسے عظیم شخصیت کی آمد ہوئی تھی اور ان کی سر پرستی میں اجلاس منعقد ہوئے تھے، اب اس شہر میں بڑی مشکل سے کبھی کبھار ایک دو غیر معیاری یا سطحی قسم کے کچھ اردو تقاریب ہو جاتے ہیں، ورنہ ہر طرف ہُو کا عالم ہے۔ ٹمل ناڈو میں اُردو کی بقا کے لئے کوشش کرنا اور اُردو کی تحفظ کے لئے کمر بستہ ہوجانا ایسا ہے جیسے کوئی فرہاد اپنی شیریں کے لئے جوئے شیر لانے کے لئے نکل پڑا ہو۔ قدم قدم پر مشکلات، ہر موڑ پر اڑچنوں کے پہاڑ، اختلافات کے تاریک جنگلات، ذاتی مفادات کے لا محدود ریگزار، خدا خیر کریں۔ لیکن پھر بھی یہاں کچھ جیالے ایسے موجود ہیں جو اپنوں کی منافقانہ ریشہ دوانیوں، غیروں کے تعصب اور ہتک آمیز رویّوں کے تیز آندھیوں میں بھی اُردو کے چراغ کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔ بغیر کسی سپاس نامہ کی آرزو لئے، نام و نمود اور شہرت کی طلب سے اوپر اُٹھ کر، اُردو کی حفاظت اور فروغ میں جُٹے ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات میں اردو تمل ناڈو میں اور کتنے دن اپنے وجود کو برقرار رکھ سکے گی پھر بھی ایک سوالیہ نشان بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ سیاسی گلیاروں سے ناامید ہو کر عدالت کے دروازے پہ حاضری لگائے کھڑے کچھ نفوس اور ان کے شانہ بشانہ اردو بولنے والوں میں اردو کے تئیں بیداری لانے کی کوشش میں مصروف کچھ شیدائیانِ اردو، عزت و شہرت سے بے پرواہ اردو ادب و صحافت کو اپنے لہو سے آبیاری کرتے کچھ صاحبانِ فکر و فن، بس یہی امید کے کچھ ٹمٹماتے چراغ ہیں جن کی وجہ سے تمل ناڈومیں اردو کے اجڑتے ہوئے گھروندے میں کچھ روشنی نظر آرہی ہے۔ اللہ ان کے خلوص میں برکت دیں اور اُردو کے حق میں انکے ارادوں کو کامیابیوں سے ہمکنار کریں۔ آمین۔

ہوا ہے گو تند و تیز لیکن چراغ اپنی جلا رہے ہیں

وہ مرد درویش جن کو حق نے دئے ہیں اندازِ خسروانہ

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading