ٹرین کی بھیڑ نے لی 18 سالہ معصوم لڑکی کی جان، جنرل ڈبے میں سفر کا بھگتنا پڑا خمیازہ

ایک مزدور باپ کو ٹرین کے جنرل ڈبے میں سفر کرنا اس وقت مہنگا ثابت ہوا جب اس کی 18 سالہ بیٹی شدت کی گرمی میں زبردست بھیڑ کا سامنا نہیں کر سکی اور داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ رام پرکاش اہریوار دہلی میں مزدوری کرتے ہیں اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ باندا کے لیے بذریعہ ٹرین نکلے تھے۔ ان کے ساتھ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی سفر کر رہا تھا لیکن 18 سالہ سیتا اس سفر کی پریشانی کو برداشت نہیں کر سکی۔

میڈیا ذرائع کے مطابق فیملی دہلی سے باندا کے لیے سمپرک کرانتی کے جنرل ڈبے میں سوار ہو ئی تھی۔ یہ واقعہ جمعہ کی رات کا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ٹرین میں بہت زیادہ بھیڑ تھی اور جب رام پرکاش کی فیملی ٹرین میں سوار ہوئی تھی تبھی سے سیتا کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی۔ کئی بار اس نے والد سے ٹرین سے نیچے اترنے کی بات بھی کہی، لیکن بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹرین سے نیچے اترنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

ٹرین میں سوار کچھ لوگوں نے واقعہ کے تعلق سے بتایا کہ لڑکی ٹرین میں ایک بار بیہوش ہوئی تھی اور پھر اسے ہوش آیا لیکن پھر اس کی طبیعت بہت زیادہ بگڑ گئی اور اس کا ٹرین کے اندر دَم گھٹنے لگا۔ گھٹن کی وجہ سے وہ دوبارہ بیہوش ہو گئی۔ اس درمیان ٹرین گولیر اور جھانسی کے درمیان پہنچ گئی۔ پھر جب ٹرین جھانسی میں رکی تو آناً فاناً میں بیہوش لڑکی کو اسٹیشن پر اتارا گیا اور بذریعہ ایمبولنس اسپتال لے جایا گیا۔ لیکن اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی لڑکی کا انتقال ہو گیا۔

اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے لڑکی کو مردہ قرار دیا اور اسے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔ سیتا کے مرنے اور لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجے جانے کی خبر سنتے ہی رام پرکاش اور اس کے گھر والوں کی حالت غیر ہو گئی اور وہ زار و قطار رونے لگے۔

Source بشکریہ قومی آواز بیورو—

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading