ٹرمپ کے بیٹے نے بھی امر یکی صدارتی امیدوار بننے کا امکان ظاہر کر دیا

امریکہ کے صدر ڈونلڈ کے بڑے بیٹے ٹرمپ جونیئر نے بدھ کے روز کہا ہے ہو سکتا ہے ایک دن وہ بھی امریکی صدارت کی دوڑ میں شامل ہو جائیں۔ٹرمپ جونیئر نے اب صدر بننے کی کوشش کے لیے اپنی مثبت رائے کا اظہار کرکے قدرے حیران کیا ہے کہ اس سے پہلے وہ اس سوال کا جواب نفی میں دے چکے اور تردید کر چکے ہیں کہ وہ امریکی صدر بننے کے لیے غور کر رہے ہیں۔ ٹرمپ جونیئر سے یہ سوال قطر کے دارالحکومت دوحا میں پوچھا گیا تھا کہ آیا وہ صدارتی امیدوار کے طور پر خود کو اپنے والد کے جانشین کے طور پر دیکھتے ہیں یا نہیں ؟

اس پر جونیئر ٹرمپ نے پہلی بار کہا ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے، یہ ممکن ہے۔ ٹرمپ جونیئر نے کہا یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ کوئی مجھ سے پوچھتا ہے اور بعض لوگ ایسا دیکھتے ہیں کہ مجھے صدارتی امیدوار ہونا چاہیے اور یہ ٹھیک ہے۔ٹرمپ جونیئر سے یہ سوال بلومبرگ قطر کے اکنامک فورم میں پوچھا گیا جس پر حاضرین نے تالیاں بجائیں۔ ٹرمپ جونیئر نے مزید کہا ‘آپ یہ کبھی نہیں جانتے۔’

یاد رہے 47 سالہ ٹرمپ جونیئر ‘ٹرمپ آرگنائزیشن’ میں ایگزیکٹیو وائس پریزیڈنٹ ہیں۔ یہ ان کے خاندان کا پر تعیش اور ریئل سٹیٹ کا کاروبار ہے اور وہ اپنے والد کی دائیں بازو کی جماعت کے ایجنڈے کے بے باک حامی ہیں۔

ماہ مارچ میں بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی ایک ویب سائٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ جونیئر سنجیدگی سے 2028 میں اگلے صدارتی امیدوار بننے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ مگر ٹرمپ جونیئر نے اس موقع پر تردید کر دی تھی۔ البتہ آج بدھ کے روز انہوں نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے لیے وہ بھی دوڑ ممیں حصہ لے سکتے ہیں۔

نہوں نے بلومبرگ اکنامک فورم پر کہا ‘میں نہیں جانتا، ہو سکتا ہے کسی دن ایسا ہو جائے۔ جیسا کہ آپ یہاں کہہ رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرے والد نے ریپیبلیکن پارٹی کو حقیقی معنوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ میرے خیال میں یہ اب ‘امریکہ فرسٹ پارٹی’ ہے۔’

‘ٹرمپ آرگنائزیشن’ صدر ٹرمپ کے دو بیٹے ٹرمپ جونیئر اور ایرک 2016 کے الیکشن سے چلا رہے ہیں۔ جبکہ صدر ٹرمپ اب اس کا کوئی عہدہ نہیں رکھتے ۔ البتہ انہوں نے خاندان کے اس بزنس میں اپنے حصص رکھے ہوئے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading