بڑی طاقتوں کی طرف سے غزہ کی جنگ کے حوالے سے ایک نمایاں ردعمل میں، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں اسرائیل سے انسانی امداد کی فوری اور محفوظ داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ غزہ کے بچے ایک ہول ناک انسانی المیے کا شکار ہیں۔گزشتہ جمعے کو جاری اس بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی صورت حال مزید انتظار برداشت نہیں کر سکتی اور خاص طور پر بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ تین ملکی اعلان اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں یونیسف بھی شامل ہے، کی رپورٹوں کے بعد آیا ہے۔ رپورٹوں میں بتایا گیا کہ غزہ کی متاثرہ آبادی کا 60 فی صد سے زیادہ حصہ بچے اور خواتین ہیں، اور بھوک اور دوا کی کمی ہزاروں بچوں کی زندگیوں کو روزانہ خطرے میں ڈال رہی ہے۔
رابطہ عالم اسلامی نے برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے اس مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں غزہ اور مغربی کنارے کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا … اور دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اسرائیلی حکومت اپنی فوجی کارروائیاں اور آباد کاریوں کو بند نہیں کرے گی تو سخت اقدامات اور پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
رابطہ کے سیکرٹری جنرل اور علماء کی مجلس کے سربراہ ڈاکٹر محمد العیسٰی نے اس اخلاقی اور ذمے دارانہ موقف کو فلسطینی عوام کے حق میں ایک اہم اور منصفانہ قدم قرار دیا۔ انھوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ اپنی اخلاقی اور قانونی ذمے داری نبھائیں، دباؤ بڑھائیں، ان خلاف ورزیوں کو بند کروائیں اور اسرائیلی حکومت کو اقوام متحدہ کے فیصلوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی پر مجبور کریں۔
یورپی دار الحکومتوں میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کی جنگ بندی کے خلاف سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ غزہ کی تباہ کن صورت حال کی روشنی میں نظر ثانی کے تابع ہو گا۔ یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور 2024 میں دونوں کے درمیان تجارتی حجم 42.6 ارب یورو تھا۔
لندن نے تل ابیب کے ساتھ آزاد تجارتی مذاکرات معطل کر دیے اور اسرائیلی سفیر کو فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی تیزی کے جواب میں طلب کر لیا۔
واشنگٹن میں ذرائع نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو کہا ہے کہ وہ غزہ کی جنگ ختم کرے ورنہ امریکی حمایت سے محروم ہو جائے گا۔ امریکی دباؤ خاص طور پر خلیجی ممالک کے غیر معمولی دباؤ کے بعد بڑھا ہے، اور اسرائیل ایک آخری معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے نامہ نگار کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ کے معاونین نے اسرائیل کو پیغام دیا ہے کہ "اگر آپ جنگ بند نہ کریں تو ہم آپ کو چھوڑ دیں گے”۔
سعودی عرب … دوٹوک انسانی موقف اور پیش رفت پر مبنی سیاسی منصوبہ
مغربی ممالک کی تبدیلیوں کے درمیان سعودی عرب کا موقف اٹل اور واضح رہا ہے۔ سعودی عرب نے ابتدائی دنوں سے شہریوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، بچوں کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام کا مطالبہ کیا۔
سعودی وزارت خارجہ نے جنگ کے آغاز سے اپنے تمام بیانات میں اسرائیلی فورسز کی غزہ میں شہری علاقوں پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ داری اٹھائے اور ان خلاف ورزیوں کو فوری رکوائے۔ امدادی کاموں میں، شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات نے مصر کے راستے غزہ میں طبی، غذائی اور بچوں کی امداد کے کئی قافلے بھیجے، جب کہ اقوام متحدہ نے غزہ میں صحت کے شعبے کی صورت حال کو "تباہ کن اور ناقابل برداشت” قرار دیا۔
سعودی قانونی اور سیاسی تجزیہ کار عبد الرحمن المهلكی کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے موجودہ بحران سے پہلے "حماس” کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا، وہ انسانی حقوق کے معاملے میں غیر سیاسی موقف اختیار کر کے انتہا پسندی کے خلاف لڑائی اور معصوم شہریوں کے حقوق کے دفاع میں فرق کر سکتا ہے۔
دو ریاستی حل کا اتحاد … مستقل امن کے واسطے قربت
المهلكی کہتے ہیں کہ سعودی عرب صرف مذمت اور امدادی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک سیاسی اقدام بھی کیا ہے۔ سعودی عرب نے ایک بین الاقوامی اتحاد کے قیام کی پیشکش کی ہے تاکہ دو ریاستی حل کے نفاذ میں مدد کی جا سکے، یہ کہتے ہوئے کہ امن تب ہی ممکن ہے جب فلسطینیوں کو اپنی خود مختار ریاست بنانے کا حق دیا جائے، جس کی سرحدیں 1967 کی سرحدوں پر ہوں اور اس کا دار الحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن صرف تنازع کی جڑوں کو حل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے، نتائج کے انتظام سے نہیں، اور تمام متعلقہ ممالک کو جامع حل اپنانے کی دعوت دی جو فلسطینیوں کے جائز حقوق کو نظر انداز نہ کرے۔
مراکش میں دو روز پہلے منعقدہ دو ریاستی حل کے بین الاقوامی اتحاد کے پانچویں اجلاس میں اتحاد نے اس بات پر زور دیا کہ دو ریاستی حل محض سیاسی ہدف نہیں بلکہ ایک انسانی ضرورت اور قانونی ذمہ داری ہے جو بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے۔
سعودی عرب کا کردار … ثابت قدمی اور پہل کے بیچ
المهلكی کہتے ہیں کہ سعودی موقف نمایاں ہے کیوں کہ یہ میڈیا کی سیاسی تبدیلیوں یا بین الاقوامی گروہوں کی سیاست سے متاثر نہیں ہوا، بلکہ تین واضح خصوصیات پر مبنی ہے : انسانیت، توازن، اور عملی اقدام۔
دنیا میں مختلف بیانیے اور متضاد موقف کے باوجود، ریاض نے ایک متوازن نمونہ پیش کیا ہے جو انتہا پسندی کی ہر صورت کی مخالفت، شہری متاثرین کے دفاع، اور بین الاقوامی قانونی اور دو ریاستی حل کی حمایت پر مبنی ہے۔
المهلكی مزید کہتے ہیں کہ جب مغربی دار الحکومتوں سے نیتن یاہو کی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے، تو ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ انسانی غم و غصہ عالمی سیاسی قوت میں تبدیل ہو سکے گا؟ وہ مزید بتاتے ہیں کہ سعودی عرب نے جون میں فرانس کے ساتھ مشترکہ کانفرنس کا اہتمام کر کے امن کی کوششیں دوبارہ شروع کرنے اور دو ریاستی حل تک پہنچنے کی اپنی مستقل کوششوں کا اعادہ کیا ہے۔
عرب اسلامی مشترکہ سربراہی اجلاس کی وزارتی کمیٹی، جس کی سربراہی سعودی عرب کر رہا ہے، اس نے برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے مشترکہ بیان کا خیر مقدم کیا ہے، جس میں غزہ اور مغربی کنارے کی صورت حال، جنگ ختم کرنے کی اپیل، اور انسانی امداد کی فوری رسائی کی تاکید شامل ہے۔
بیان کے مطابق، کمیٹی ان تینوں رہنماؤں کے موقف کی حمایت کرتی ہے جو فلسطینی شہریوں پر جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مکمل اور جاری حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ وہ اسرائیلی محاصرے کے جاری رہنے اور انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور فوری، مسلسل اور وسیع پیمانے پر زندگی بچانے والی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ جان لیوا قلت اور امداد کو ہتھیار بنانے کی وجہ سے عوام قحط کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
