العراقیب:31/ جنوری ( ایجنسیز)یہ صورتحال بہت المناک ہے، جینا مشکل ہے کیونکہ یہاں پانی ہے نہ بجلی، انفراسٹرکچر ہے نہ تعلیم اور نہ ہی صحت کی سہولیات۔‘آپ کو شاید لگ رہا ہو گا کہ یہ کسی غزہ کے باشندے کے الفاظ ہیں کیونکہ وہاں تقریباً 15 ماہ تک جنگ جاری رہی لیکن یہاں بات غزہ کی نہیں ہو رہی بلکہ اسرائیل کے صحرائے نقب میں واقعے گاؤں العراقیب کی ہو رہی ہے جہاں تقریباً نصب صدی سے یہ ہی حالات ہیں۔اس علاقے کی صورتحال بتانے والے شخص کا نام عزیز سیاح ہے اور وہ اس گاؤں کے مقبول رہنما شیخ سیاح التوری کے صاحبزادے ہیں۔آج العراقیب میں 22 خاندان آباد ہیں اور یہاں کی کُل آبادی 87 افراد پر مشتمل ہے۔عزیز کہتے ہیں کہ اس علاقے کے لوگ یا تو ’گاڑیوں میں رہتے ہیں‘ یا پھر انھوں نے ’لکڑیوں، کپڑے اور نائیلون کی رسیوں‘ کی مدد سے اپنی رہائش کے لیے ٹینٹ نما گھر بنائے ہوئے ہیں۔تاہم آج سے تقریباً ایک دہائی قبل اس گاؤں کی آبادی زیادہ ہوا کرتی تھی۔
عرب اور یہودی شہریوں کی جانب سے بنائی گئی ایک تنظیم نقب کوایگزسٹینس فورم فور سِول ایکوئٹِی کے مطابق جولائی 2010 میں جب اسرائیلی حکام نے یہاں گھر مسمار کیے تھے تو ایک اندازے کے مطابق یہاں کی آبادی 400 افراد پر مشتمل تھی۔نقب کوایگزسٹینس فورم فور سِول ایکوئٹِی کا کہنا ہے کہ اس گاؤں کو ’توڑ پھوڑ، گرفتاریوں اور مقامی افراد کے خلاف ہتھیاروں کے استعمال‘ جیسے خطرات کا سامنا ہے۔عزیز سیاح کہتے ہیں کہ صحرائے نقب میں العراقیب ’پہلا ایسا گاؤں ہے جس کے تمام گھر مسمار کر دیے گئے تھے‘ اور یہ ایک ’تجزبہ‘ تھا تاکہ مقامی آبادی کا ردِ عمل جانچا جا سکے اور پھر ایسے ہی اقدامات ایسی دیگر آبادیوں میں بھی کیے جا سکیں جنھیں اسرائیل تسلیم نہیں کرتا۔ان کا دعویٰ ہے کہ آج بھی ’گاؤں کے افراد کو ہراسانی، ظلم اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو گرفتاریوں کا سامنا ہے۔‘وہ گاؤں جو اسرائیل نے 200 مرتبہ تباہ کیا مگر آج بھی آباد ہےالعراقیب صحرائے نقب کے شمالی علاقے میں وقع ہے اور اسے سرکاری طور پر ضلع بئر سبع کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
تاریخ دان ڈاکٹر ابراہیم ابو جابر نے سنہ 2018 میں اپنی کتاب ’العرقیب: تاریخ، زمین اور لوگ‘ میں لکھا کہ یہ گاؤں غربِ اردن میں کوہِ ہیبرون اور غزہ کی پٹی کے درمیان واقع ہے۔عزیز سیاح کہتے ہیں کہ یہ علاقہ تعزویراتی اعتبار سے بہت اہم ہے اور یہاں بہت سے ایسے یہودی قصبے ہیں جو العراقیب کو غربِ اردن اور غزہ سے جُدا کرتے ہیں۔گذشتہ دہائی میں العراقیب میں گھروں کو مسمار اور مقامی افراد کے املاک کو ضبط کیا جاتا رہا ہے جس کے سبب یہ علاقہ دنیا بھر میں خبروں کی زینت بنا رہا۔جب عزیز سیاح کی اہلیہ کو علاقہ میں ایک اور آپریشن کے حوالے سے معلوم ہوا تو انھوں نے اپنی ایک بیٹی کا نام عراقیب ہی رکھ دیا۔ان کی 47 سالہ اہلیہ کا کہنا ہے کہ ’میں نے علاقے کے حال اور تاریخ کو یاد رکھنے کے لیے اپنی بیٹی کا نام ہی عراقیب رکھ دیا۔‘فلسطینی تاریخ دان ابو جابر کے مطابق العراقیب کا علاقہ متعدد عرب قبائل کی ملکیت ہے جنھیں یہ علاقہ ’شاید ہزاروں برس قبل‘ وراثت میں ملا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ گاؤں عثمانیہ دور میں قائم کیا گیا تھا۔ایک اور فلسطینی تاریخ دان سلمان ابو ستا اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد سلطنت عثمانیہ نے شام اور مصر کا بھی کنٹرول سنبھال لیا تھا اور اس کے بعد العراقیب میں بھی زمینوں پر ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔اسرائیل نے بئر سبع کی عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ ’یہ وہ صحرا ہے جس کا کوئی مالک نہیں‘ تاہم ابو ستا کہتے ہیں کہ اسرائیل کے وجود میںآنے سے 400 برس قبل جاری کی گئی سلطنت عثمانیہ کی ایک دستاویز سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہاں کے لوگ اپنی زمینوں پر ٹیکس ادا کیا کرتے تھے۔ابو ستا کی تحقیق کے مطابق ان زمینوں میں ’خربت الجیٹھانی‘ کا علاقہ بھی شامل تھا جسے برطانیہ کے زیرِ انتظام فلسطین میں بنی عقبہ کی زمین کہا جاتا تھا اور یہاں 16وِیں صدی میں 43 خاندان آباد تھے۔فلسطینی تاریخ دان ابو جابر نے اپنی کتاب میں لکھا کہ العراقیب کا علاقہ ایک لاکھ مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا۔ابو جابر کا آبائی تعلق بھی العراقیب گاؤں سے ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہاں موجود زمینیں ان قبائل میں باپ سے ان کے بیٹوں کو وراثت میں ملی تھیں اور ان کے مالکان کے پاس ’سرکاری دستاویزات‘ ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ زمینیں 1948 میں اسرائیل کے قیام سے پہلے بھی موجود تھیں۔تاہم ابو جابر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے بہت سے ’تعصب زدہ قوانین متعارف کروائے اور ان زمینوں کو ضبط کر لیا۔‘بی بی سی نے ان حوالے سے اسرائیلی کی وزارتِ انصاف سے رابطہ بھی کیا لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔تاہم اسرائیلی تاریخ دان موردیچائی نسان کہتے ہیں کہ اسرائیلی قوانین اور پالیسی عرب شہریوں کے اپنے علاقوں میں ’واپسی کے حقوق‘ کو تسلیم نہیں کرتے۔اسرائیلی محقق مزید کہتے ہیں کہ عرب 77 برس تک ’ہم پر جنگ مسلط کرنے کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘