عیدالفطر کی حقیقی خوشیاں انہیں لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں جو رمضان المبارک کے مقدس، با برکت مہینے میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں ہمہ تن مشغول رہتے ہیں-
بڑے خوش نصیب ہیں وہ بندے جو خالص اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لیے صبح سے شام تک بھوکے پیاسے اپنی عاجزی انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے روزہ رکھ کر ذکر و اذکار اور کسبِ آب دانہ میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں، یہاں تک کہ تنہائی میں ایک قطرہ پانی کا حلق سے نیچے اتارنا گوارہ نہیں کرتے ہیں، یہ بندوں کی اللہ تعالیٰ سے بے لوث محبت کی دلیل ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا،
چونکہ رمضان المبارک میں بندوں کا تعلق اللہ رب العزت سے پائیدار ہو جاتا ہے، تو دل میں نورانیت پیدا ہو جاتی ہے، اور یہی نورانیت جہاں ایک طرف اللہ کی عبادت کی طرف متوجہ کرتی ہے وہیں دوسری طرف اللہ کے بندوں کی محبت کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے
اسی سبب سے دیکھنے میں آیا ہے کہ رمضان المبارک میں خدمت خلق کا جذبہ اور دیگر مہینوں کی بنسبت بڑھ جاتا ہے چنانچہ بندوں کے دلوں میں یہ امنگ پیدا ہوتی کہ مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اگر میں اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کروں گا ، خیر خواہی سے پیش آؤں گا ان کے دکھ درد میں شریک ہوں گا تو یقیناً اللہ تعالیٰ میرے ساتھ بھلائی کا معاملہ فرماکر، دارین کی خوشیاں نصیب فرمائیں گے –
اسی لئے اللہ کے نیک بندے اپنے قیمتی مال کو ان غریبوں، مسکینوں، بیواؤں، یتیموں پر دل کھول کر صرف کرتے ہیں، جن کے یہاں ایسی تنگدستی ہوتی ہے کہ اگر ان کی مدد نہ کی جائے تو عیدالفطر کی خوشیوں سے محروم ہو جائیں گے، کتنے گاؤں میں ایسے گھر ہوتے ہیں جن کے یہاں کمانے والا کوئی نہیں رہتا ہے، ماں محنت ومزدوری کر کے اپنے ننگے بھوکے بچوں کا پیٹ بھرتی ہے، بہت لوگ اس حالت میں ہوتے ہیں کہ ان کے پاس ذریعہ معاش کچھ نہیں ہوتا ہے وہ کسمپرسی کی زندگی گزر بسر کرتے ہیں، کچھ ایسے بھی قابل رحم بچے ہوتے ہیں جو والدین کے سایہ سے محروم ہو جاتے ہیں، ان کی نگاہیں امید لگائے ہوئے مخیرین و معاونین حضرات کی راہیں دیکھتی رہتی ہیں، کہ ان کے یہاں سے کچھ امداد آئے گی تو ہمارے گھروں میں بھی خوشیوں کی شمع روشن ہوگی، جو لوگ ایسے گھروں میں اپنے قیمتی مال کو پہنچاتے ہیں اللہ تعالیٰ کتنا خوش ہوتا ہوگا ان مسیحاؤں کی کرم نوازی سے،
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہماری قوم زندہ قوم ہے، اس قوم سے زیادہ کسی قوم کے دل میں غریبوں کی مدد کرنے کا جذبہ ہو ہی نہیں سکتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہر شخص اپنے حصے کا کام کرنا شروع کر دے، جس گاؤں محلے کا رہنے والا ہے وہاں کی فکر کرے کہ کون ایسے مجبور غریب لوگ ہیں جن کو زکوۃ فطرہ کی اشد ضرورت ہے، اگر اس بات پر ہر مسلمان متفکر ہو جائے تو یقیناً کوئی غریب بھوکا نہیں سوئے گا اور عید کی خوشیوں میں وہ بھی شریک ہو جائیں گے-
اگر خدمت خلق کے عزائم مضبوط ہوں تو اللہ کسی سے بھی یہ کام لے سکتا ہے حقیر و فقیر ابھی تک اس لائق نہیں ہوا کہ کسی غریب کی زیادہ مدد کر سکے لیکن اللہ تعالیٰ نے خدمت خلق کا حوصلہ بخشا ہے تو ذریعہ بنا دے رہا ہے، تقریباً بیس سال سے عید کے موقع پر سیکڑوں غریبوں کے یہاں کپڑے تقسیم کرا دیتا ہے ، دوسال سے اپنے محلے کی بیوہ عورتوں اور غریبوں کے گھروں کی نشان دہی کرکے اپنے گاؤں کے نوجوانوں کی توجہ مبذول کراتا ہوں نتیجتاً اس سال بھی تقریباً دس گھروں سے زائد میں گاؤں کے نوجوانوں نے قابل قدر اور لائق ستائش رقم تقسیم کیے ہیں ، جناب فیضان منیجر کے فرزند ارجمند، جناب ولی اللہ ابن نصیب اللہ، جناب اسعد ابن فضل الرحمن میڈیکل والے، جناب جمن ابن محبوب احمد،جناب احتشام الحق ابن ارباب الحق ،جناب مولانا جنید احمد ابن منیر احمد، یہ میرے گاؤں کے چمکتے ستارے ہیں جن کی روشنی سے مفلوک الحال لوگ نفع حاصل کر رہے ہیں، جن کی اعانت سے غریبوں کے گھروں میں عید کے موقع پر خوشیاں بکھر گئیں، جن کے تعاون سے غریبوں کے چہرے فرحت و نشاط سے کھل گئے، یہ غریبوں کے مسیحا، قوم کے غمخوار، سچے عاشق رسول ہیں، ان کی سماجی خدمات قابل رشک ہے، دعا ہے کہ جیسے ان مخیرین نے غریبوں کا دل خوش کیا ہے اللہ انہیں بھی خوش رکھے، سلامت رکھے-
ضرورت اس بات کی ہے ہر گاؤں، محلے کے ائمہ مساجد، علماء کرام ،دانشوران اس بات کہ فکر کریں کہ کون شخص ایسا غریب، ضرورت مند ہے اور شرم و حیا کی وجہ سے وہ کسی سے اپنی بے بسی کا اظہار بھی نہیں کر سکتا ہے تو پہلی فرصت میں اس کی خبر گیری کرنا یا کرانا چاہئیے-
ایک بات تکلیف دہ ہے کہ لوگ اپنے قریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو زکوۃ فطرہ کی رقم دینا معیوب سمجھتے ہیں یا آپسی رنجش خراب تعلقات کی وجہ سے دیدہ ودانستہ طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں یہ بات ایک مسلمان کی شان کے خلاف ہے، برسوں تک جہاں ایک ساتھ رہتے ہیں وہاں خاندان، پاس پڑوس میں شکر رنجی، روٹھا راٹھی ہو ہی جاتی ہے اس کی وجہ سے اپنی اعانت سے محروم کر دینا یہ بدنصیبی بدقسمتی کی بات ہے،عید کی خوشیوں کے موقع پر تمام رنجشوں کو بھلا کر اپنے غریب قرابت داروں، پڑوسیوں کی مدد کرنا چاہئے اس سے آپ دوہرے اجر کے مستحق ہوں گے، کیونکہ جہاں پر آپسی خانہ جنگی ختم ہو گی وہیں پر آپ اپنے قریبی رشتہ دار پڑوسی کا دل خوش کرنے کا ذریعہ بن جائیں گے –
ایک بات اور بھی قابل غور ہے کہ ہمارے ملک میں مدارس اسلامیہ بھی اسی زکوٰۃ وخیرات کے سہارے چل رہے ہیں اور غریب مسلمانوں کے بچوں کی بڑی تعداد یہاں سے دینی تعلیم حاصل کرکے اسلام کی حفاظت و اشاعت کا ذریعہ بن رہے ہیں ان کو اپنی زکوٰۃ وخیرات دیں لیکن کچھ حصہ مختص کریں کہ یہ میں غریبوں، بیواؤں پر صرف کروں گا،
اسی طرح سے اور بھی، ،ٹرسٹ، تنظیمیں، ہیں جہاں کچھ لوگ اپنی پوری زکوۃ دے دیتے ہیں، یہاں بھی افراط و تفریط کے شکار ہیں، ہونا تو یہ چاہیے کہ کچھ رقم خاص طور پر اپنے قریبی رشتہ داروں، پڑوسیوں، گاؤں والوں میں خرچ کریں،
اگر اس جانب توجہ دی گئی تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے سماج میں غربت کے خاتمہ پر قابو پایا جا سکتا ہے ، یہ کام مشکل ضرور ہے، لیکن اسلام کے غیور نوجوان اگر اس جانب فکر مند ہو جائیں، اور سچے عاشق رسول ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے، مصمم ارادہ کریں کہ غرباء پروری میں میری زندگی کا کچھ حصہ ضرور صرف ہوگا،
تو انشاءاللہ آپ عید کے موقع پر ہی نہیں بلکہ ہمیشہ غریبوں کے دل خوش کرنے والے بن جائیں گے،
احقر العباد محمد شمیم
دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی