المسجدالحرام کے سابق امام الشیخ عادل الکلبانی کی جدید لباس میں ملبوس ہوکر ہارلے موٹرسائیکل پرسوار ایک ویڈیو کیا منظرعام پر آئی ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے چرچے ہیں اور صارفین اس پر تندوتیز تبصرے کررہے ہیں۔
Watch: A video of former Grand Mosque Imam Sheikh Adel al-Kalbani riding a Harley motorcycle, dressed in modern clothing takes social media in the Arab world by storm.https://t.co/a40A0UjwB6 pic.twitter.com/zLAdJ07hAN
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) July 18, 2022
سنیپ چیٹ پرایک مداح کی جانب سے ریکارڈ کی گئی ویڈیومیں الکلبانی کو سڑک کے کنارے ہارلے ڈیوڈسن موٹربائیک پر بیٹھے دیکھا گیا ہے۔اس پر امریکی پرچم اور کئی دیگر نشانات (آئیکون) لگے ہوئے تھے۔
پیر کے روز جب سے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے،تب سے سابق امام کعبہ کا نام ٹویٹر پرٹرینڈ کر رہا ہے۔اس پر پوری عرب دنیا کی جانب سے رد عمل سامنے آیا ہے۔
ایک ٹویٹر صارف نے لکھا:’’شیخ نے میری رائے میں کوئی حرام کام نہیں کیا اور وہ جو چاہے کرنے کے لیے آزاد ہے، لیکن ہم ائمہ خصوصاً حرم کے اماموں کو ایک مخصوص لباس میں ملبوس دیکھنے کے عادی ہیں اور ہم انھیں کسی اور طریقے سے دیکھنا قبول نہیں کرتے اور یہ غلط ہے‘‘۔
ایک اورٹویٹر صارف نے کہا کہ تخلیق کو خالق پر چھوڑ دیں اور اپنے اور اپنے خاندانوں کے مسائل سے نمٹیں۔بعض صارفین نے سابق امام کے اس طرح موٹرسائیکل پر لڑکے بھالوں کے انداز کو ان کی بلندی سے پستی قراردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس لباس میں کسی عالم کو زیبا تہذیب وشائستگی سے دورنظر آرہے ہیں۔
لیکن عادل الکلبانی کے چاہنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ایک اور صارف نے ٹویٹ کیا کہ’’کتنا اچھا آدمی ہے‘‘۔ان کے روایتی لباس میں ملبوس نہ ہونے کے بارے میں متعدد لوگوں نے تنقید کی ہے تو ایک شخص نے ٹویٹ کیا کہ ’’ان کے لیے موٹرسائیکل چلانا ممنوع تونہیں ہے‘‘۔
ایک اورصارف نے ویڈیوپرمنفی تبصروں کے جواب میں کہا:’’جدید کپڑے پہننے میں کیا حرج ہے؟یہ ان کی مرضی ہے اور یہ آزادی ہے۔اس پراللہ کے سوا کوئی بھی انھیں قابل مواخذہ نہیں گردان سکتا۔ آپ خودکو ہر چیز میں کیوں ملوّث کرتے ہیں؟‘‘