جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا فیصلہ
صدسالہ اجلاس اب نومبر2019ء میں منعقد ہوگا ، اکابر جمعیۃ پر سیمیناروں کی تاریخیں طے ۔
نئی دہلی:23؍ اکتوبر(ای میل)جمعیۃ علما ء ہند کی قومی مجلس عاملہ کا اہم اجلا س ، اس کے صدر دفتر نئی دہلی میں مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند کے ز یر صدارت منعقد ہوا جس میں ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کی تحریک ، اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے ذریعہ فتاوی پر عائدہ کردہ پابندی، عالم اسلام خصوصا سعودی عرب میں رونما موجودہ صورت حال اور جمعیۃ علماء ہند کی تقریبات صدسالہ اور اکابر جمعیۃ پر ہونے والے سیمینار سمیت متعدد مسائل کا جائزہ لیا گیا۔جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اراکین کے سامنے ایجنڈوں پر بالترتیب تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ریسرچ ادارے بالخصوص سی آرڈی ڈی پی کی جانب سے حال میں اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں لاکھوں مسلمانوں کے نام ووٹرلسٹ میں درج نہیں ہیںجس کی وجہ سے انفرادی اور ملی بنیادیں ثر ہورہی ہیں ۔ جمعیۃ علماء ہند نے اس کے تدارک کے لیے ناموں کے اندراج کی ملک گیر سطح پر مہم چلا رکھی ہے ، تاہم اسے مزید اہتمام سے انجام دینے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ بریں بنا مجلس عاملہ نے جمعیۃ کی تمام ضلعی و علاقائی یونٹوں کو پابند کیا ہے کہ ووٹرلسٹ میں ناموں کے اندراج کی مہم کو زور وشو رکے ساتھ جاری رکھیں اور لوگوں میں اس کے حوالے سے برابر بیداری لانے کی کوشش کریں۔مجلس عاملہ نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کی جانب سے فتاوی پر عائد کرہ پابندی پر تشویش کا اظہا رکیا اور اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کی اپیل پر سپریم کورٹ میں اسٹے ملنے پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ ایڈوکیٹ شکیل احمد سید نے سپریم کورٹ میں جاری قانونی جدو جہد سے متعلق مجلس عاملہ میں ایک رپورٹ پیش کی۔ مجلس عاملہ نے سعودی عرب میں جاری جدید اصلاحات سے متعلق اپنی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا اور اس سلسلے میں مذکورہ کمیٹی کو پابند کیا کہ وہ آیندہ اجلاس مجلس عاملہ میں کوئی جامع تجویز پیش کرے ۔تنظیم کے سو سال مکمل ہونے پر منعقد ہونے والی تقریب صدسالہ اور اکابر جمعیۃ پر سیمیناروں سے متعلق رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد مجلس نے فیصلہ کیا کہ اگلے سال فروری میں ہونے والا صد سالہ پروگرام اب دیوبند میں نومبر ۲۰۱۹ء میں منعقد ہوگا ۔سیمینار کے سلسلے میںرکن مجلس عاملہ مولانا معزالدین احمد نے ایک رپورٹ پیش کی جس میں بتایاکہ مولانا عبدالباری فرنگی محلی ؒ ، مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ ؒ، مولانا احمد سعید دہلوی ؒ،مولانا ابوالمحاسن سجاد بہاری ؒ، مولانا حفظ الرحمن سیورہارویؒ، مولانا محمد میاںؒ،ابوالماــثر مولانا حبیب الرحمن اعظمی ؒ جیسے اکابر پر سیمینار کی تاریخیں طے ہوگئی ہیں جو ماہ دسمبر سے شروع ہو کر مارچ ۲۰۱۸ء الگ الگ تاریخوں میں منعقد ہو گا ۔مجلس عاملہ میں جمعیۃ اور اس کی شاخوں کی طرف سے کیرالہ سیلاب متاثرین کی امداد و اعانت سے متعلق رپورٹ اور منصوبے پیش کیے گئے جس پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہند نے اب تک کیرالہ میں راحت رسانی وبازآبادکاری کے عمل میں پانچ کروڑ سے زائد کی رقم صرف کی ہے اور اب وہ پہلے مرحلے میں سو نئے مکانات کی تعمیر اور سو تباہ حال مکانات کی مرمت کررہی ہے ۔اس کے علاوہ مجلس عاملہ نے عہدیداران اور ملازمین کے مشاہرہ میں اضافے اور اور ہفت روزہ الجمعیۃ اور شانتی مشن سے متعلق الگ الگ کمیٹیاں بھی تشکیل دیں ۔اجلاس دیر شب صدر جمعیۃ علماء ہند کی دعاء پراختتام پذیر ہوا ۔اجلاس میں صدر محترم کے علاوہ بطور رکن مولانا امان اللہ قاسمی نائب صدرجمعیۃ علماء ہند، مولانا حسیب صدیقی خازن جمعیۃ علماء ہند،مو لانا محمودمدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند ،مولانا رحمت اللہ کشمیری ،قاری شوکت علی ویٹ ، مولانا ندیم صدیقی مہاراشٹر، مولانا حافظ پیر شبیر احمدحیدرآباد، مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری ، مفتی جاوید اقبال کشن گنجی، مولانا سید سراج الدین ندی معینی اجمیر، شکیل احمدسید ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ،مفتی افتخار احمد کرناٹک ، مولانا محمد قاسم پٹنہ، مولانا صدیق اللہ چودھری کلکتہ ، مولانا محمد رفیق مظاہری گجرات، مولانا متین الحق اسامہ کانپور، مولانا معزالدین احمد ، مولانا مفتی محمد راشد اعظمی دارالعلوم دیوبند، مولانا نیاز احمد فاروقی اور بطور مدعو خصوصی مولانا مفتی حبیب الرحمن مئو ائمہ الہ آباد، مولانا محمد سلمان بجنوری دارالعلوم دیوبند، قاری محمد امین پوکھرن راجستھان، مولانا علی حسن مظاہری یمنا نگر، مولانا محمد عاقل گڑھی دولت، مفتی احمد دیولہ گجرات، ڈاکٹر سعیدا لدین قاسمی دہلی ، مولانا عبدالقادر آسام ، حافظ بشیر احمد آسام ، مولانا شمس الدین بجلی کرناٹک ، حاجی محمد ہارون بھوپال، ڈاکٹر مسعود احمد اعظمی ، مولانا عبدالقدوس پالن پوری ، مولانا محمد الیاس مفتاحی پپلی مزرعہ، ڈاکٹر محمد اسلام قاسمی اتراکھنڈ،مفتی سید محمد عفان منصورپوری ،مفتی عبدالرحمن نوگاواں سادات امروہہ ، مولانا حکیم الدین قاسمی ناظم جمعیۃ علماء ہند شریک ہوئے