وشو ہندو پریشد کے کار کن پرفائرنگ معاملہ‘شرافت علی کی ضمانت سماعت کے لئے تیار

firig

ممبئی ۔20 جولائی (ورق تازہ نیوز ) صوبہ مدھیہ پردیش کے اجین ضلع میں وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے سرگرم کارکن پر گولیاں داغنے اور قتل کی کوشش کے الزامات سے دوچار اجین کے نو جوان شرافت علی کی در خواست ضمانت جبل پور ہائی کورٹ میں سماعت کے لئے تیار ہے اور انشا ءاللہ اس ماہ کے اختتام تک اس پر فیصلہ آنے کی بھی امید ہے ۔اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیة علماءمہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔ مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سنگین معاملہ میں مدھیہ پردیش کے تمام وکلاءوکالت کر نے سے گریز کر رہے تھے ،وہیں جمعیة علماءمہا راشٹر کی لیگل ٹیم نے نہ صرف بے گناہوں کو انصاف دلانے کا بیڑہ اٹھایا بلکہ مسلسل جدو جہد سے جھوٹ کا پر دہ فاش کرنے کے قریب پہونچ چکی ہے ۔واضح ہو کہ وشو ا ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے سر گرم کار کن کا جو کہ اخبار نویسی سے تعلق رکھتے ہیں تین گو لیاں انتہائی قریب سے داغنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جس میں وہ کا ر کن شدید زخمی ہو گئے تھے ۔ جب کہ دفاع کا یہ مو قف ہے کہ قتل کی کو شش آپسی رنجش کا نتیجہ تھی ،تاکہ کسی مسلم کے ذریعہ انجام دی گئی دہشت گردانہ کاروائی قرار نہ دی جائے ۔اس مو قع پر سینر کریمنل لائر اور جمعیة لیگل ٹیم کے سر براہ ایڈوکےٹ پٹھان تہور خان نے کہا کہ مدھیہ پر دیش پو لیس نے ایک چھوٹی سی واردات کو جو کہ آپسی رنجش کا نتیجہ تھی کو سنسنی خیز بنانے کے لئے دہشت گردانہ قانون سے منسلک کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اللہ رب العزت کی ذات پر بھروسہ ہے کہ ملزم شرافت علی بے گناہ ہے اسے جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے ہم اسے انصاف دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading