نیٹ پیپر لیک معاملے میں این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ابھیشیک سنگھ کو برطرف کر کے گرفتار کیا جائے

نیٹ پیپر لیک معاملے میں این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ابھیشیک سنگھ کو برطرف کر کے گرفتار کیا جائے: ہرش وردھن سپکال

بی جے پی حکومت میں مجرموں کو سرپرستی ملنے کے باعث پیپر لیک مافیا بے لگام، لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ

نیٹ امتحان منسوخ ہونے سے ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والے لاکھوں طلبہ کے خواب چکناچور، کیا بی جے پی حکومت ایک امتحان بھی صحیح طریقے سے نہیں کرا سکتی؟

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی آے) کے ڈائریکٹر جنرل ابھیشیک سنگھ کو فوری طور پر برطرف کر کے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور مختلف ریاستوں میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد جرائم میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور اب تعلیمی شعبہ بھی مافیا راج کی گرفت میں آ چکا ہے۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بی جے پی حکومت ایک امتحان بھی شفاف اور منظم انداز میں منعقد کرانے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ نیٹ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ کر کے دوبارہ لینے کی نوبت آنا حکومت کی بدترین ناکامی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت میں مجرموں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے، جس کے باعث پیپر لیک مافیا بے خوف ہو کر طلبہ کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 3 مئی کو ملک بھر میں نیٹ کا امتحان منعقد ہوا تھا۔ لاکھوں طلبہ نے سال بھر سخت محنت اور تیاری کے بعد امتحان دیا، لیکن اس اہم امتحان کا پرچہ لیک ہونا نہ صرف طلبہ بلکہ ان کے خاندانوں کے مستقبل کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ اب دوبارہ امتحان لیے جانے سے صرف 22 لاکھ طلبہ ہی نہیں بلکہ ان کے خاندان بھی ذہنی اذیت اور پریشانی سے دوچار ہوں گے۔

سپکال نے کہا کہ نیٹ امتحان کئی برسوں کی محنت، قربانی، نظم و ضبط اور ڈاکٹر بننے کے خواب کی علامت ہوتا ہے، لیکن امتحان منسوخ ہونے سے لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کی امیدیں اور خواب بکھر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے دورِ وزارت میں یہ دوسرا بڑا نیٹ تنازع ہے۔ 2024 میں بھی NEET-UG امتحان میں پیپر لیک کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اس وقت دھرمیندر پردھان نے ابتدا میں ان الزامات کو مسترد کیا تھا، لیکن بعد میں بہار اور ہزاری باغ میں بے ضابطگیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کارروائی کا وعدہ کیا تھا، مگر اس کے باوجود صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ جب بھی کانگریس یا دیگر پارٹیوں کی حکومت ہوتی تھی تو بی جے پی معمولی معاملے پر بھی وزیروں کے استعفے کا مطالبہ کرتی تھی، لیکن 2014 کے بعد سے کتنے ہی سنگین واقعات پیش آئے، کسی بی جے پی وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں بھی دیویندر فڑنویس کے دور میں کئی بار پیپر لیک کے معاملات سامنے آئے، مگر ان پر سخت کارروائی نہیں کی گئی۔ بلکہ غلط خبریں شائع کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے 2 مئی 2026 کو ہونے والے SRPF دؤنڈ سپاہی بھرتی امتحان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 100 میں سے 85 سوالات ایک نجی پبلشر کی کتاب سے لفظ بہ لفظ لیے گئے تھے، جو مسابقتی امتحانات میں بدعنوانی کی ایک اور مثال ہے۔

سپکال نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی نااہلی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ امتحانات تک صحیح طریقے سے منعقد نہیں کرا پا رہی۔ ملک بھر کے طلبہ اور والدین اس ناکارہ اور غیر مؤثر حکومت کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ عوام کی آواز اٹھاتی رہی ہے اور نیٹ پیپر لیک معاملے میں بھی کانگریس طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت سے جواب طلب کرتی رہے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading